Web
Analytics
امریکی پالیسی ناکام،روس کی گرم پانی تک رسائی آسان ہوگئی ۔۔۔ محمد آصف – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / امریکی پالیسی ناکام،روس کی گرم پانی تک رسائی آسان ہوگئی ۔۔۔ محمد آصف

امریکی پالیسی ناکام،روس کی گرم پانی تک رسائی آسان ہوگئی ۔۔۔ محمد آصف

دنیا کے نقشے دو ممالک کا رقبہ سب سے بڑا نظرآتاہے۔ان میں سے پہلا ملک روس اور دوسرا چین ہے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے پڑوسی ہیںاور اپنے مفادات کے ساتھ رہتے ہوئے اچھے دوست بھی ،کیوں کہ اس سے قبل یہ خبرکسی نے کبھی نہیں سنی ہوگی کہ چین نے روس کو یا روس نے چین کو دھمکی دی ہو۔ ایک وقت تھا جب روس کو برفانی ریچھ کہا جاتا تھا۔ اس نے گرم پانی تک

رسائی کے لئے کئی ممالک پر قبضہ بھی کیا لیکن جب وہ افغانستان میں داخل ہوا تو اس کو ناصرف منہ کی کھانی پڑی بلکہ سویت یونین کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔یہ بات زبان زدعام ہے کہ سویت یونین کے ٹکڑے کرنے میں امریکہ نے کردار ادا کیا ۔ میڈیا میں اس کا بھی چرچا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کو ٹریننگ دے کر پاکستان کے راستے افغانستان پہنچایا اورافغان مجاہدین کو ایک صف میں کھڑا کر کے سوویت یونین سے لڑایا گیا۔ ویسے یہ ایک الگ بحث ہے کہ امریکہ نے مدد کی یا مجاہدین کی کامیابیاں دیکھ کراور روس کو سبق سکھانے کے چکر میں اس نے اس موقع کابھرپور فائدہ اٹھا یا،کیوں کہ اس وقت روس کا جو رعب اور دبدبہ تھا اس کے آگے امریکہ اس قدراہمیت نہیںتھی۔ امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس لئے اس نے روس کو کمزور کرنے کے لیے افغانستان میں مجاہدین کا سہارا لیا جس طرح روس اور چین الگ الگ نظرئیے سے دنیا میں اپنی اجارہ داری دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ بھی پوری دنیا میں اپنی فوجی چھاونیاں بنا کر قبضے کرنے کا خواہش مندہے۔ یہ تینوں ممالک اسی خواہش میں ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار کرتے رہتے ہیں۔ ان ہاتھیوں کی لڑائی میں کئی چھوٹے ممالک ان کے تلے دبتے رہتے ہیں جیسے ایشیاء ،افریقی اور کئی عرب ممالک بھی شامل ہیں ۔شام میں ہونے والے واقعات کے پیچھے بھی انہی تینوں ممالک کی آپسی پراکسی وار ہے کیوں کہ بشارالاسد جن کا شمار روس کے اہم ترین اتحادیوں میں ہوتا ہے۔

وہاں ہونے والی لڑائی کے پیچھے بھی امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں کیوں کہ اگر گزشتہ 12سال پرنظرڈالی جائے تو ہمیں شام میں ایساکوئی مسئلہ نظر نہیں آتا لیکن ایسا کیا ہوا کہ شام کے لوگ یکدم بشارالاسد کے خلاف ہوگئے ؟پرانی مثال ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان کھیتوں کا ہوتا ہے،یہی صورت حال اس وقت شام کی ہے۔شام کی لڑائی میں یہ لوگ کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آچکے ہیں کیوں کہ امریکہ نے شام کی لڑائی میں داعش جیسی تنظیموں کی سپورٹ کی جب کہ روس نے

شامی فوج کی ۔اب یہ لڑائی سفارتی محاذ پر بھی کھل کر سامنے آنے لگی ہے ۔ امریکہ اور روس کے اتحادی ممالک بھی اس جنگ میں اپنے آقائوں کے ساتھ میدان میں کودپڑے ہیں اورانہوں نے ایک دوسروں کے سفارت کاروں کو تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ میں روسی جاسوس کو قتل کرنے کے معاملے پر روس اور برطانیہ کے تعلقات خراب ہوگئے، روس نے جواب میں کچھ برطانوی سفارت کاروں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا۔ ردعمل میں امریکہ نے

برطانیہ کا ساتھ دیا اور روس کو سخت پیغام دیتے ہوئے روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کردیا ،یوں امریکہ اس لڑائی میں خود روس کے سامنے آگیا ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا بھی نہیں تھا کہ امریکہ کے اتحادی ممالک نے بھی روس کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کردیا بظاہر تو یہ لڑائی ابھی تک سفارتی محاذ پر جاری ہے لیکن درحقیقت اس لڑائی میں گھس کر کئی ممالک کے حکمران ذاتی فائدے کے لئے یا کم عقلی کی وجہ سے اپنے ملک کو آگ میں جھونک

رہے ہیں، جس میںبے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں لیکن ان بے گناہوں کے مرنے کا غم نہ امریکہ کو ہے اور نہ ہی روس کو،انہیںصرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ ان کی خواہش صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ پوری دنیا پر ان کی حکومت ہو ۔اس پراکسی وار میں صرف فائدہ ان بڑے سپرپاور ممالک کو ہے نہ کہ ان چھوٹے ممالک کو۔چھوٹے اورکمزورممالک کو سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آنا۔ اس موقع پریہ تو نہیں کہاجاسکتا کہ کسی چھوٹے ملک کو اس پراکسی وار کا حصہ نہیں بنا چاہیئے

کیوں کہ یہ ان چھوٹے اورکمزور ممالک کی مجبوری ہے ۔اگر کوئی ملک ان میں سے کسی ایک کا ساتھ نہ دے تو یہی ممالک ان پر قبضے کی کوشش کریں گے یا اس ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے مذہب ،لسانیت اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دیں گے جس کی مثال بوسنیا، شام ،برما اور انڈونیشیا جیسے ممالک کی دی جاسکتی ہے۔ اب پاکستان جو اس جنگ میں ابھی تک تو امریکہ کا اتحادی تھا لیکن اب معاملات بتارہے ہیں کہ پاکستان نے اپنا بلاک تبدیل کرنے کافیصلہ کر لیا ہے ۔ اب اس کا جھکائو چین

اور روس کی طرف ہے۔ اس وقت امریکہ کا حال ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح ہے۔اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کردیئے ہیں اور امریکی صدر جو سعودی عرب کے سخت مخالف تھا اب اس کا جھکائوبھی سعوی عرب کی جانب ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد سعودی عرب بھی اسرائیل کو ملک تسلیم کرلے گا ،ایسا کرنا بھی اسی پراکسی وارک کا حصہ ہوگا کیوں کہ شام میں امریکہ اور سعودی عرب ایک طرف کھڑے ہیں ۔اسی طرح پاکستان میںسی پیک کے

حوالے سے امریکہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ سعودی عرب ، روس اور چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک وقت تھا جب روس نے گرم پانی تک رسائی کے لیے جنگ کاآپشن استعمال کیا تھا لیکن اب جو پراکسی وار چل رہی ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ گرم پانی تک رسائی بہت جلد اسی راستے سے حاصل کرلے گا جس راستے پر اس کو مجاہدین کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی ۔