Web
Analytics
ملک ِشام کی خیر ہو ! ۔۔۔ڈاکٹر تصور حسین مرزا – Lahore TV Blogs
Home / کالم / ملک ِشام کی خیر ہو ! ۔۔۔ڈاکٹر تصور حسین مرزا

ملک ِشام کی خیر ہو ! ۔۔۔ڈاکٹر تصور حسین مرزا

شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ صحابہ کرام ؓنے سوال کیا: کس لئے یا رسول اللہ ﷺ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں)۔ (ترمذی، مسند احمد) فرمان ِ مصطفیٰ ﷺ ہے: شام کی سرزمین

سے ہی حشر قائم ہوگا۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) فرمانِ نبی کریم ﷺہے: حضرت عیسیٰ لیہ عالسلام کا نزول دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ المعجم الکبیر للطبرانیافسوس ملک شام میں دشمنان اسلام نے قیامت صغریٰ برپا کی ہوئی ہے اور پیارے نبی محسنِ انسانیت کی امت بے ہوشی کے عالم میں مدہوش ہے!امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام پر حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ شامی حکام نے بھی حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔شام کی سرکاری خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ شامی فضائیہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کا جواب دے رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دمشق میں یکے بعد دیگر ے کئی دھماکے سنے گئے اور دھواں اٹھتے بھی دیکھا گیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ شام میں امریکی فوجی آپریشن جاری ہے، شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہحملہ برطانیہ اورفرانس کیساتھ مل کر کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں پرشامی حکومت اور اس کے روسی اورایرانی اتحادیوں کا احتساب کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشارا الاسد کے مستقبل کا فیصلہ شام کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔‘انھوں شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں کہا کہ‘یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔برطانوی

وزیراعظم نے بھی اپنی فوج کو شام میں حملے کی اجازت دے دی ہے۔ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ شام پر حملوں کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کا مقصد شام میں حکومت کی تبدیلی ہےروسی وزیر خارجہ سرگئے لاروف کا کہنا ہے کہ ایک مغربی ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے شام میں کیمیائی حملوں کا ڈرامہ رچایا جس کے نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پر امید

ہیں کہ امریکہ عراق اور لیبیا کی طرح شام میں مہم جوئی نہیں کرے گا۔روسی وزیر خارجہ نے شام میں کیمیائی حملہ ایک خفیہ ایجنسی کا ڈرامہ قرار دے دیا، روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ دوما میں کوئی کیمیائی حملہ نہیں ہوا، وہ سب ڈرامہ تھا جو ایک مغربی ملک کی خفیہ ایجنسی نے بشار الاسد مخالف فورسز کے ساتھ مل کر رچایا۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ روس کے پاس اس ڈرامے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔سرگئے لاروف نے اس امید کا اظہار کیا کہ

امریکہ عراق اور لیبیا کی طرح شام میں کوئی مہم جوئی نہیں کرے گا۔ اس سے پہلے روس نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو روس بھی جنگ میں کود سکتا ہے۔جبکہ تباہ حال شام پر عالمی طاقتوں کا حملہ کھلی جارحیت ہے، یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک ملک کی سالمیت پر حملہ ہے، غیر اخلاقی، غیر انسانی حملہ جس کی کوئی قانونی، اخلاقی اور انسانی اساس اور گراؤنڈ نہیں ہے، عراق کی کہانی ایک مرتبہ پھر سے دہرائی جا رہی ہے۔ او آئی سی

خود جارح قوتوں کی آلہ کار بن چکی ہے، شام پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے گذشتہ روز شام کے نہتے شہریوں پر تین عالمی طاقتوں کے میزائل حملے کے خلاف ایک بیان میں کیا۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ داعش کی جارحیت اور بربریت سے قبل بھی شام پر کیمیائی ہتھیاروں کا الزام لگا کر دباو ڈالا جاتا رہا اور شام نے اقوام متحدہ کی انسپکشن ٹیموں کو ہمیشہ خوش آمدید کیا

۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انکوائری سامنے نہیں لائی گی۔ داعش کو عراق و شام میں لانے والی بھی یہی طاقتیں تھیں، جنہوں نے دنیا بھر سے دہشگرد جمع کرکے حملہ آور ہوئے۔ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرادار ناکام ہونے کے باوجود حملہ کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر تین عالمی نام نہاد امن کی علمبردار طاقتوں نے نہتے شامی شہریوں پر حملہ کیا ہے۔ شام اس وقت کئی سالہ جنگ کی وجہ سے

خوراک اور ادویات کی کمی کا شکار ہے۔ پورا عرب جنگ کی لپٹ میں ہے، جس پر او آئی سی کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ عملاً یہ ادارہ فیل ہوچکا اور جارح استعماری طاقتوں کا آلہ کار بن چکا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ دین اسلام کی سربلندی اور استعماری قوتوں کی سازشوں کے مقابلے کے لئے عالم اسلام کی مظلوم اقوام اکٹھی ہو جائیں اور مل کر اسرائیل، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دہشتگردی کا جواب دیں۔پاکستان کے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ شام پر

امریکہ اور اتحادیوں کا حملہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، روس اور امریکہ نے شام کے عوام کو تختہ مشق بنا لیا ہے اور نئے نئے میزائل اور ہتھیاروں کے تجربات شام کے اندر کئے جا رہے ہیں، خواتین اور بچوں کی آہ و بکا جاری ہے، لیکن OIC،UNO انسانی حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں۔ بڑی طاقتوں کو اگر پنجہ آزمائی کرنی ہے تو ایک دوسرے کے علاقوں کو نشانہ بنائیں۔ اپنے ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکی کرنل جوزف کی طرف سے پاکستانی

شہری کو کچلنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سینیٹ میں ہم تحریک بھی جمع کرا چکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے اور ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے۔ اگر سفارتی استثنٰی کی بات کی جائے تو میں حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ ملا ضعیف بھی ایک سفیر تھا، لیکن اس کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس روس کی درخواست پر ہنگامی طور پر طلب کیا گیا جس میں شام پر

امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کے معاملے پر بحث ہوئی، روس نے حملے کے خلاف قرارداد پیش کی جو 3 کے مقابلے میں 8 ووٹ سے مسترد ہوگئی، روس، چین اور بولیویا نے قرارداد کے حق جب کہ چار ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی کریم ﷺ کی امت کو سمجھنا ہوگا ’’ دشمن اور دوست ‘‘ کا فرق !اسلامی ممالک اپنے اپنے اختلافات ختم نہیں کر سکتے تو نہ کریں، اپنے اپنے مفادات عزیز رکھتے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں مگر

ایک ’’ نقطہ ‘‘ ہے اس پر متفق ہونا ہوگا اور وہ پوائنٹ نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک کی سلامیت کو اپنی سلامیت تصور کرنا ہوگا۔ کسی بھی ملک پر جاریت امت مسلمہ پر جاریت تصور کرنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مشکل ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ’’ ناممکن ‘‘ نہیں !اگراسلامی ممالک ایک نہ ہوئے تو ایک ایک کر کے دشمنان اسلام ’’ ہر اسلامی ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر قادر ہو جائیں گئے ۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے بروز قیامت نبی آخر

الزماں حضرت محمد ﷺ نے پوچھ لیا کہ میری امت زبح کیا جا رہا تھا، زندہ کاٹا جا رہا تھا، عورتوں کے حمل چھریوں اور چاقوں سے پیٹ چیر کر نکالے ا رہے تھے۔ زندہ بچوں اور معصوم بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ہسپتالوں اور سکولوں پر بم برسائے جارے تھے۔ شیر خوار بچوں کو ماؤں سے چھین کر گولیوں سے اڑایا جا رہا تھا۔ بھائیوں کے سامنے بہنوں کی عظمت تار تار کی جا رہی تھی ! اور تم نے میری امُت کے لئے کیا کیا تھا؟ اے ملک شام نہ گھبراؤ اللہ پاک کے

پیارے محبوب ﷺ کا فرمان عالی شان سے اپنے ایمانی قوت کو تازہ اور پختہ کر لو !میرا ایمان ہے اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ آپ کے ساتھ ہیں شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ صحابہ کرام ؓنے سوال کیا: کس لئے یا رسول اللہ ﷺ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں)۔