Web
Analytics
موریشس کے ہوٹلوں میں قیام ۔۔۔ آبیناز جان علی – Lahore TV Blogs
Home / کالم / موریشس کے ہوٹلوں میں قیام ۔۔۔ آبیناز جان علی

موریشس کے ہوٹلوں میں قیام ۔۔۔ آبیناز جان علی

جنت نما جزیرۂ موریشس کے ہوٹلوں کا شمار دنیا کے بہتریں ہوٹلوں میں ہوتا ہے۔ سمندر کے کنارے واقع ہمارے زیادہ تر ہوٹل اس جزیرے کی مہمانوازی کا بین ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ عالیشان اور نہایت آرام دہ ریزورٹ میں سیاحوں کاقیام جنت میں ہونے کے گمان کو مزید پختہ بناتا ہے۔ان کا استقبال مرکزی دروازے پر کاغذ کی چھوٹی چھتری یا تازہ پھلوں سے آراستہ کیا گیاکوکٹیل کی کلاس سے کی جاتی ہے جس کو ہے۔ایک

زمانہ تھا جب ان ہوٹلوں کے قیام پر صرف سیاحوں کا حق تھا۔ مقامی لوگوں کا بین الاقوامی سیاحوں کے ساتھ ایک جگہ مقیم ہونا بعید از قیاس تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن دنیا کی معاشی حالت میں انقلاب نے اس حقیقت کی بنیاد ہلا دی۔ اس کے علاوہ بحرِ ہند میں شے شیلز کے سواحل کی مقبولیت سے رونما مقابلے اور اہلِ وطن کا روزافزوں بڑھتا ہوا معیارِ زندگی نے ہوٹلوں کے مالک کوموریشس والوں کے لئے اپنے دروازے کھولنے پر مجبور کئے۔دورانِ تعطیلات اور ویک اینڈ کو ہوٹلوں میں قیام کرنا ایک نہایت معقول مشعلہ ہے۔ یہ ہوٹلیں رہائشی جگہوں سے دور تعمیر کی گئی ہیں۔ چنانچہ موجوں کے ساحل کے پتھروں سے ٹکرانے کے شور اور چڑیوں کے چہکنے کی بے ہنگم آوازوں کے علاوہ اس پر امن فضا میں کوئی مداخلت نہیں۔ کمروں میں نرم بستر، اے۔سی، باتھ روم میں ٹب اور جاگوزی اور آرام دہ صوفے میں بیٹھ کر گرم چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بالکنی سے آسمانی رنگ کے سمندر کے نظارے سے دل باغ باغ ہوتا ہے اور فکر کے نئے دریچے کھلتے ہیں اور زبان خدا کی صناعی میں بے تحاشہ سبحان للہ کہہ اٹھتا ہے۔روزمرہ کی بھاگ دور سے اکتا کر ہوٹل میں قیام قلب و ذہن کو تسکین اور آرام پہنچاتا ہے۔ اسپا میں ماہر اور تجربہ کار ہاتھوں سے مساج، حمام اور ساؤناجیسی سہولتوں کی فراہمی سے بدن سے تناؤ ہوا ہوتا ہے۔ ہوٹل کا قیام اپنوں کے ساتھ قربت اور رشتوں کے دھاگوں کو مضبوط تر بنانے اور سنہرے لمحات یکجا کرنے کا بہانہ بھی ہے۔ تیرنے کے تالاب میں

پورا خاندان ہنسی خوشی اچھلتے کودتے پانی کا مزہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انفینیٹی پول کے ساتھ منی بار سے مشروبات کا آڈر لے کر غروبِ آفتاب کا دلفریب منظر آنکھوں سے دل میں اتر کر کسک پیدا کرتا ہے۔ کچھ کرنے کا من نہ ہو، تو آرام کرسی میں لمبی تان کر دنیا و مافیہا کے مکر و فریب سے آزاد افق پر نگاہیں جمائے گزرتی ہوئی بحری کشتیوں کو دیکھتے رہنے سے وقت کے وہیں ٹھہر جانے کا زعم ہوتا ہے۔ ہوٹلوں میں طرح طرح کے کھیل بھی دستیاب ہیں۔ ٹیبل ٹینس

، اسکواش، ٹینس، تیر کمان اور ورزش گاہ کے علاوہ یوگا، زمبا اور آکواجم کے لئے رہنما موجودہیں۔ سمندر کے لئے انواع و اقسام کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ کشتیوں میں مچھلی کا شکار، کایاک اور بوٹنگ وغیرہ جیسے سرگرمیوں کی دستیابی سے جزیرے میں رہنے کے احساس کو مزید پرکیف بناتی ہے۔ کچھ ہوٹلوں میں گھوڑوں کی سیر بھی کرائی جاتی ہے۔ کچھ پنج ستارہ ہوٹلوں میں تاریخی مقامات بھی ان کی ملکیت میں شامل ہیں۔ نیز کسی مرکزی خیال پر مبنی ہوٹلوں کی نفیس

اور شاندار سجاوٹیں دل پرحیرت و استعجاب کا اثر کرتی ہیں۔ کسی ہوٹل کو کریول ثقافت کی طرزسے آراستہ کیا گیاہے تو کسی میں ہندوستانی طرز کی جھلک ہے تو کسی میں جاپانی۔علاوہ ازیں ہوٹلوں میں بہتریں کھانے کی وافر فراہمی طبیعت کو خوش کردیتی ہے۔ ناشتہ سے ظہرانے تک ماہر باورچی کی تیار کردہ ضیافتیں یادگار لمحات میں شامل ہو جاتے ہیں۔ شوشل میڈیا میں تصاویر کی تشہیر سے احباب کی جلن کو اکسانے کا سنہرا موقع مل ہی جاتا ہے۔ رات کو تفریح کے لئے ثقافتی

پروگراموں کے انعقاد سے مہمانوں کی دلجوئی کی جاتی ہے۔ سیگا موریشس کا مقامی رقص بے حد مقبول ہے۔ راوان اور لوہے کی چھوٹی مثلث مقامی سازوں میں شامل ہیں۔ تفریح کے لئے رقص سکھانے والے بھی موجود ہیں۔ رقص کی نئی چال سے آشنا ہو کر گاہک سرور و کیف کے عالم میں محفلِ رقص میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔ہوٹل چھوڑتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ دل کا کوئی حصّہ پیچھے چھوٹ گیا ہو۔ جب ہوٹل کے دروازے بند ہوتے ہیں گویا جنت کا دروازہ بند ہوا ہو اور پھر سے تیز رفتار زندگی کی بھاگا دوڑی شروع۔