Web
Analytics
مرکزی بینک کی سہ ماہی رپورٹ اور معیشت نامہ ۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / مرکزی بینک کی سہ ماہی رپورٹ اور معیشت نامہ ۔۔۔ افتخار بھٹہ

مرکزی بینک کی سہ ماہی رپورٹ اور معیشت نامہ ۔۔۔ افتخار بھٹہ

اسٹیٹ بینک پاکستان ملکی معیشت کے بارے میں سہ ماہی رپورٹیں شائع کرتا رہتا ہے جس میں معیشت کی کارکردگی کا مختلف شعبوں میں جائزہ لیا جاتا ہے مالی سال 2017-18کی دوسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پہلے چھ ماہ میں زراعت اور خدمات کے شعبہ میں بہتری آئی ہے ملک میں امن و امان اور توانائی کی صورتحال بہتر ہونے سے بڑی صنعتوں کی گروتھ 10%رہی ہے زرعی پید ا وار اچھی رہی ہے

پاکستان میں گندم چینی دالوں اور چاولوں کے خاصے ذخائر موجود ہیں جس سے ان کی قیمتوںمیں کمی آ رہی ہے افراط زر کی شرح چھ فیصد کے ہدف کے مقابلے میں5.5%رہی ہے اسٹاک مارکیٹ کا 100انڈکس 46ہزار5سو کی سطح ابھور کر چکا ہے نجی بینک کے قرضوں میں بہتری آئی ہے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ مجموعی قومی پیدا وار کی شرح نمو چھ فیصد ہو جائے گی اسی طرح درآمدات میں اضافہ کا عندیہ دیا گیا ہے کہ مجموعی پیدا وار کی شرح نموع 6%ہو جائیگی اس طرح درآمدات میں اضافہ کی بھی امید کی گئی ہے جبکہ تجارتی خسارہ 30ارب ڈالر ہوگا بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے بڑھنے سے زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے جو کہ 17.4ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جس میں 6.2ارب ڈالر بینکوں کے فارن اکائونٹس ہیں پاکستانی روپیہ دبائو کا شکار رہے گا ، جس کی قدر میں 9.5%کمی ہوئی ہے اور امریکی ڈالر 116روپے تک پہنچ چکا ہے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ملکی کرنٹ اکائونٹ خسارہ 59%سے بڑھ کر 7.4ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو کہ گزشتہ سال 4.6ارب ڈالر تھا رواں سال مالی خسارے کا خدف 4.1فیصد ہے جو کہ 5سے6%تک پہنچ سکتا ہے بظاہری طور پر معیشت کی صورتحال بہتر دیکھائی دیتی ہے لیکن بیرونی شعبہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ تجارتی خسارہ قرضوں کی ادائیگیاں برآمدات اور ذرائع مبادلہ کے ذخائر میں کمی روپے کی قدر پر دبائو حکومت کیلئے خاصے چیلنجز ہیں ماہر معاشیات حفیظ پاشاہ کے بقول

ایک سال میں حکومتی قرضوںکا ہجم 16ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے ایشیائی ترقی بینک نے تین ارب ڈالر پیرس کلب میں شامل ممالک نے پانچ ارب ڈالر اور چین نے اپنی تجارتی بینکوں کے ذریع 3.1ارب ڈالر پاکستان کو فراہم کیے ہیں جس میں سے 6.5ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی کی گئی ہے باقی 3.1ارب ڈالر بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کیلئے ادا کئے گئے ہیں ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان کے مالی خسارے میںتیزی سے اضافہ ہوا ہے جو کہ چودہ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جس

وجہ سے حکومت کو مزید قرضے حاصل کرنے پڑینگے ، قرضوں کی مالیت مجموعی قومی پید ا وار کے 67فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے 2017-18میں چھ ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کرنا ہے جس میں سے 2.4ارب ڈالر ادا کر دیئے گئے ہیں آئندہ چھ ماہ میں 3.6ارب ڈالر کی مزید ادائیگی کرنا ہے ،حکومت نے دوست ممالک سے شارٹ ٹرم قرضوں کیلئے سود کی درخواست کی ہے تا کہ زر مبادلہ کے ذخائر کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے یہ معاشی صورتحال ایسے وقت میں سامنے

آئی ہے جب حکومت مدت مکمل کرنے جا رہی ہے ایسی کیفیت میں ایک طرف کالے دھن اور سرمایہ کو قانونی بنانے کیلئے ایمبسنٹی سکیم کا اعلان کیا گیا تو دوسری طرف 27اپریل کو حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اعلان کرنے جا رہی ہے یہ بجٹ اعداد و شمار کی جگالی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا عام آدمی کے ریلیف کیلئے کچھ نہیں ہوگا ملک کے جاری اخراجات چلانے کیلئے قرضے حاصل کرنے کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے پاکستان کے ہر مسئلے کا حل سی پیک کیلئے آنے

والی ساٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عمل کو بر قرار رکھنے کیلئے اور اس پر اوور ہیڈ اخراجات پورا کرنے کیلئے بھی قرضوں کی ضرورت ہے پہلے ہی بیرونی قرضے 90ارب ڈالر سے تجاو ز کر چکے ہیں ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر صرف دو ماہ کیلئے کافی ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی مانیٹرنگ رپورٹ پروگرام کو دیکھا جائے تو یہ منفی 7سو24ملین ڈالر ہے پاکستان چین سے زر مبادلہ کے ذخائر کیلئے قرضے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی

درخواست کی جا رہی ہے قرضہ کی ادائیگی کیلئے ڈالر کی بجائے پاکستانی روپے کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے یاد رہے چین امریکہ کے خسارے کو کم کرنے کیلئے5سو ارب ڈالر اسی طرز پر استعمال کر سکتا ہے مگر وہ پاکستان کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے دوسری طرف سے سعودی عرب سے ادھار تیل اور قرضے لینے کی کوشش کی جا رہی ہے پاکستان میں باقی شعبوں کی طرح معیشت کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پلاننگ نہیں ہے حکمران طبقہ کی معیشت سے مراد

ذاتی منافہ بخش کاروبار ہیں جس میں کک بیکس نام نہاد ترقیاتی پروگرام اور افسر شاہی کے ثوابدیدی اختیارات بے رحمانہ اختیار شامل لہہے ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی سے امریکہ اور مالیاتی ادارے با خوبی آگاہ ہیں انہیں معلوم ہے یہ پاکستان میں معاشی سٹرکچرل کے ساتھ اصلاحات کے نفاذ میں کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور اب معیشت کی بحالی اور ریاستی نظام کے مالی امور چلانے کیلئے چینی امداد کا خواہش مند ہے آئی ایم ایف سمیت بہت سے ادارے روپے کی کمی

کا باعث درآمدات میں اضافے کی نوید سنا رہے ہیں لیکن ہماری معیشت برآمدی نہیں درآمدی ہے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ قرضے تو ملکی معیشت چلانے کی کنجی ہیں اس کے لئے امریکہ یورپی ممالک اور جاپان کے قرضوں کی مثالیں دی جاتی ہیں پاکستان معیشت کا ترقی یافتہ ممالک کی معیشت سے کوئی موازنہ نہیں ہے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق اس مالی سال میں پاکستان کے قرضے 94ارب ڈالر ہو جائینگے اور2023تک 145ارب ڈالر ہونگے اس طرح مجموعی قرضوں میں

50%اضافہ ہو جائے گا 2017میں آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ 2020تک زر مبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے مگر معاملات بالکل الٹ ہیں معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پاکستان کے حکمرانوں کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجائے یا نہ بجائے یہ پاکستان میں بسنے والے کروڑوں غریب عوام کیلئے خطرے کی گھنٹی ہیں آئے روز نئے ٹیکس عوام پر مسلط کیے جا رہے ہیں ملک کی تمام مقبول پارٹیوں کے پاس موجودہ سرمایہ داری نظام کو پیدا واری سماج میں تبدیل

کرنے کیلئے کوئی طریقہ کار موجو د نہیں مسلم لیگ کا بیانیہ ریاستی اداروںکی مخالفت محاذ آرائی اور Visibleپراجیکٹس تک محدود ہے ہجرت میں قائم کیے جانے والے بجلی گھر اپنی پید واری صلاحیت سے کہیں کم بجلی پیدا کر رہے ہیں ان میں سے بیشتر ہفتے میں ایک دو دن ہی کام کرتے ہیں خواجہ محمد آصف نے پاکستان میں صرف نئے پروجیکٹس قائم کرنے پر زور دیا تھااس میں مشینری کے معیار اور کارکردگی کو مد نظر نہیں رکھا گیا تھا یہی وجہ ہے لوڈ شیڈنگ کے گھنے

بادل پھر منڈلا رہے ہیں تحریک انصاف کا بیانیہ کرپشن سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے پیپلز پارٹی اپنے بنیادی منشور سے ہٹ چکی ہے لہذا اس سے بھی ملکی معیشت اور عوام کی سدھار کے کسی پروگرام کی امید نہیں رکھی جا سکتی ہے ان خالات میں عوامی معاشی اور سماجی حقوق کی بحالی کیلئے منصوبہ بند معیشت کی ضرورت ہے جس کو ایک سوشل ڈیمو کریٹ منشور رکھنے والی جماعت ہی سماج کی بہتری کو یقینی بنا سکتی ہے۔