Web
Analytics
چوہدری شجاعت حسین کی کتاب سچ تو یہ ہے کے حوالے سے گپ شپ!افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / چوہدری شجاعت حسین کی کتاب سچ تو یہ ہے کے حوالے سے گپ شپ!افتخار بھٹہ

چوہدری شجاعت حسین کی کتاب سچ تو یہ ہے کے حوالے سے گپ شپ!افتخار بھٹہ

گزشتہ دنوں ملک کے معروف سیاست دان چوہدری شجاعت کی کتاب سچ تو یہ ہے کی تقریب رو نمائی میں شرکت کے حوالے سے ٹیلی فون ظہور الٰہی ہائوس لاہور سے تقریب سے ایک روز پہلے رات 8بجے موصول ہوا اس وقت میں گوجرانوالہ میں ایک ادبی تقریب میں مصروف تھا ویسے بھی اتنے شارٹ نوٹس پر صبح 11بجے کسی تقریب میں لاہور میں شمولیت کرنا ممکن نہیں تھا گجرات سے چند صحافی طفیل میر،

وسیم اشرف بٹ، محمد افضل راز، راجہ طارق محمود اور عبدالستار نے اس تقریب میں شمولیت کی کچھ دوستوں سے میں نے چوہدری شجاعت کی کتاب مستعار لیکر اس کا مطالعہ کیا اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کتاب کی تقریب رو نمائی سیاست ، صحافت کے ناموردانشوروں کا ایک خوبصورت اجتماع تھی اس میں اظہار خیال کرنے والے مقررین نے آئندہ کی سیاست کے خدو حال واضح کیے اس تقریب میں چوہدری شجاعت حسین کی کتاب پر بہت کم بات کی گئی جبکہ اہل دانش کے اظہار خیال کا مرکز نواز شریف پر تنقید تھی اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت عبدالقدوس بزنجو نے کی جو کہ اب بھی چوہدری شجاعت حسین کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں اور جن کے بارے میں یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے عام انتخابات میں صرف پانچ سو ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کہ انتخابات میں پچاس ہزار ووٹ سے جتوا سکتے ہیں انہوں نے مجھے کیوں پانچ سو ووٹ دلوائے بلوچستان میں تبدیلی کا آغاز سردار اختر مینگل کی حمایت سے ہوا ۔جس کے بعد جوڑ توڑ سے عبدالقدوس بزنجو کی حکومت قائم ہوئی نواز شریف کے ارد گرد مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی موجود ہیںجو کہ ہمیشہ فاٹا کو صوبہ سرحد میں مد غم کرنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور یہی رویہ ان کا بلوچستان کے دیگر راہنمائوں کے بارے میں رہا ہے اور ہمیشہ نواز شریف کو دوسرے قائد ین سے دور کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ وہاںپر ن

لیگ کی حکومت کے خاتمہ کے صورت میں نکلا ہے میرا تعلق چونکہ چوہدری شجاعت حسین کے آبائی شہر گجرات سے ہے اور میں چوہدری ظہور الٰہی سے لیکر شجاعت حسین کی سیاست کو اپنی پچاس سالہ شعوری زندگی میں گہری نظر سے دیکھا ہے اور میرا کبھی بھی مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی یا نظریاتی تعلق نہیں رہا ہے حالانکہ میرے چند نظریاتی ساتھیوں نے جن میں راحت ملک، محمد رمضان سائب اور سید باقر رضوی شامل ہے جو کہ ہمیشہ اپنے آپ کو ترقی پسند سیاست

دان ظاہر کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کی سیاست کے قافلہ میں شامل ہوتے رہے ہیں یہ جماعت مختلف ناموں سے عرصہ دراز سے پاکستان میں مضبوط اداروں کے تعاون سے بر سر اقتدار رہی ہے چوہدری شجاعت حسین کی عملی سیاست کا آغاز ان کے والد کے قتل کے بعد شروع ہوا چوہدری پرویز الٰہی گجرات میں ضلع کونسل کے پہلے چیئر مین منتخب ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے مجلس شوریٰ سے وزیر اعظم کا سفر کئی سالوں میں طے کیا نواز شریف نے چوہدری برادران سے ہمیشہ بے

وفائی کی اور پرویز الٰہی کو وعدہ کرنے کے باوجود وزیر اعلیٰ بنانے کے بجاے اپنے بھائی شہباز شریف کو اس عہدے پر نامزد کر دیا چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کے اقتدار کا عروج جنرل پرویز مشرف کا عہد تھا جبکہ ایک بھائی وزیر اعلیٰ اور دوسرا وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہا چوہدری پرویز الٰہی کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ بننے کے باوجود اپنی حامیوں اور ارکان اسمبلی کیلئے ہمیشہ دستیاب رہے ہیں اور اس سے ملاقات کرنا عام آدمی کیلئے بھی آسان

تھا جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات انتہائی مشکل کام تھا مگر اب چونکہ احتساب کے شکنجے میں جکڑے جانے کا عمل منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب ہے تو انہیںجنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کرنا یاد آ رہا ہے مگر شائد نواز شریف کی نا اہلی کے بعد یہ طریقہ کار ان کیلئے کسی کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا ہے کتاب میں لکھا ہے چوہدری ظہور الٰہی کو جنرل ایوب کے دور آمریت میں ابڈو قانون کے تحت نا اہل کیا گیا تھا ، ایوب خان چلا گیا مگر چوہدری

ظہور الٰہی کی سیاست ختم نہ ہوئی چوہدری شجاعت حسین نے اکبر بگٹی کی شہادت کے بارے میں سچ لکھنے کا حوصلہ کیا ہے جو کہ قابل تحسین ہے شیخ رشید کو بے نظیر کے دور اقتدار میں اسلحہ رکھنے پر سزا ہوئی ، چوہدری شجاعت حسین نے اپنی کتاب میں فوج کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا ہے بلکہ ڈکٹیٹر کی منافقت کو بے نقاب کیا ہے جس کی حکومت میں وہ خود بھی شامل تھے لہذا ان کی حیثیت ایک عینی شاہد کی ہے چوہدری شجاعت حسین نے مشرف کی دور سیاست کے اہم گواہ تھے

اور انہیں تمام حقائق کا علم تھا انہیں چاہیے کہ وہ اس دور کی تمام خامیوں کو سامنے لاتے بہر صورت صدر مشرف کے عہد اقتدار کا اہم کار نامہ ضلعی حکومتوں کا نظام تھا جس میں اختیارات کو وفاق اور صوبے سے ضلعی سطح پر منتقل کیا گیاتھا، کتاب میں ایک انکشاف کسی دھماکے اور سانحہ سے کم نہیں جس کے بارے میں چوہدری شجاعت حسین نے لکھا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری، جسٹس ریٹائرڈ مشتاق احمد کے ساتھ انکے گھر آئے جس کے بعد چوہدری شجاعت

حسین انہیں چیف جسٹس بنوانے کیلئے متحرک ہو گئے چوہدری شجاعت حسین نے ، افتخار احمد چوہدری کی پرویز مشرف سے ملاقات کروائی یوں وہ چیف جسٹس بنا دیئے گئے ،بعد میں چیف جسٹس کے وزیر اعظم شوکت عزیز سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور شوکت عزیز نے ان کیخلاف نا اہلی کا ریفرنسز دائر کیا چیف جسٹس اور مشرف کے درمیان چوہدری شجاعت حسین نے صلح کروا دی اور طے پایا کے وزیر اعظم شوکت عزیز استعفیٰ دے دیں گے مگر اس نے نہ دیا حالات بگڑتے

گئے اور آئین معطل ہو گیا آئین کی معطلی کے بعد جو تحریک چلی وہ ایک جج کی بحالی کیلئے نہیں تھی بلکہ تمام ججوں کیلئے تھی جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا 18ویں ترمیم کے بعد کوئی حکمران بھی چوہدری شجاعت حسین کی سفارش پر جج نہیں بنا سکتا تھا ،جو شجاعت نے سچ بیان کر دیا ہے موجودہ سیاسی صورتحال میں مسلم لیگ کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے مگر مسلم لیگ کو چھوڑنے والے مسلم لیگ ق کی طرف نہیں جا رہے بلکہ وہ شائد

پی ٹی آئی میں شامل ہوں یا زیادہ تر آزاد امید وار کے طور پر انتخابات میں حصہ لینگے ماضی میں مسلم لیگ ق کی تشکیل میں ریاستی اداروں کا اہم کردار رہا ہے اور شائد اب وہ ایسا کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ کسی کو دو تہائی اکثریت دلا کر اپنی بالا دستی کے چیلنج کے خطرات سے دو چار نہیں ہو سکتے۔ریاستی ادارے اب نئی صف بندیوں کی تیاریوں میں مشغول ہیں جس میں آئندہ ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آئے گی لہذا چوہدری برادران کا مسلم لیگی سیاست میں کوئی اہم کردار

دکھائی نہیں دیتا ہے اور ان کی سیاست چند حلقوں تک محدود ہو جائے گی جبکہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائینگی۔مسلم لیگ ن میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کا بیانیہ ایک ہے جس کے حوالے سے شہباز شریف کی خاموشی خاصی معنی خیز ہے کیونکہ میاں صاحب کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے حوالے سے کوئی مذمتی بیان نہیں آیا ہے جو کہ ان کی دوغلی سیاست کے حوالے سے کافی معنی خیز رویہ ہے۔جس کو شہباز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان بڑھتی ہوئی محبت کی پینگوں کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے