Web
Analytics
استقبال وفضیلت ماہ رمضان ۔۔۔ حافظ کریم اللہ چشتی – Lahore TV Blogs
Home / کالم / استقبال وفضیلت ماہ رمضان ۔۔۔ حافظ کریم اللہ چشتی

استقبال وفضیلت ماہ رمضان ۔۔۔ حافظ کریم اللہ چشتی

ماہ رمضان اسلامی سال کانواں مہینہ ہے جسطرح ہم پر نمازفرض ہے اسی طرح ماہ رمضان کے روزے رکھنابھی فرض ہیں ۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی امت پر روزے کی فرضیت ۲ہجرہی ۱۰شعبان المعظم میںہوئی اوراس کے مطابق سیدعالم نورمجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ۹رمضان المبارک کے مہینوں کے روزے فرضیت کے بعدرکھے اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کاوصال

مبارک ہوا۔رمضا ن المبارک کامقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی تجلی ذاتی کامظہرہے ۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ شعبان المعظم کے آخر میں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے صحابہ کرام علہیم الرضوان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا”اے لوگوتم پرعظمت والامہینہ سایہ کررہاہے یہ مہینہ برکت والاہے جس میں ایک رات ایسی ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے یہ و ہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ پاک نے فرض کیے اورجس کی راتوں کاقیام نفل بنایاجواس مہینہ میں کسی نفلی ،نیکی سے اللہ رب اللعالمین کاقرب حاصل کرناچاہے تواسے فرض اداکرنے کے برابرثواب ملے گااورجس نے اس مہینہ میں ایک فرض اداکیاتواسے دوسرے مہینوں کے سترفرضوں کے برابرثواب ملے گا۔یہ صبرکامہینہ ہے اورصبرکاثواب جنت ہے یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کامہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کارزق بڑھادیاجاتاہے جواس مہینہ میں کسی روزہ دارکوافطارکرائے تواس کے گناہوں کی بخشش ہوگی اورآگ سے اسکی گردن آزادہوجائے گی اورافطارکرانیوالے کوروزے دارکاثواب ملے گاروزہ دارکے ثواب میں کمی کے بغیرصحابہ کرام علہیم الرضوان فرماتے ہیں ہم نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم !ہم میں سے ہرشخص کے پاس روزہ افطارکرانے کاانتظام نہیں توسرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایااللہ پاک یہ ثواب اس شخص کوبھی دے گاجودودھ کاایک گھونٹ یاکھجوریاگھونٹ بھرپانی سے کسی کوافطارکرائے

اورجس نے روزے دارکوپیٹ بھرکرکھاناکھلایااللہ اسے قیامت کے دن وہ پانی پلائے گاجس کے بعدوہ جنت میں جانے تک کبھی پیاسانہ ہوگایہ وہ مہینہ ہے جس کے اوَل میں رحمت درمیان میں بخشش اورآخرمیں آگ سے آزادی ہے اورجواس مہینہ میں اپنے غلام (ملازم)سے نرمی کرے گاتواللہ پاک اسے بخش دے گااورآگ سے آزادکردے گا۔(مشکوٰۃ شریف)یہ مہینہ کتنامقدس مہینہ ہے آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے اس خطبہ میں اس بات پرتنبہیہ ہے کہ خبرداررمضان المبارک کاایک ایک

سیکنڈاللہ پاک کی اطاعت وعبادت میں گزارنا۔کہیں ایسانہ ہوکہ ماہ رمضان المبارک کاچاندنظرآجائے اورتم غفلت میں پڑے رہو۔بلکہ غفلت کوچھوڑکراپناتن عبادت خدامیں مصروف کردو۔آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اس مہینہ کے آنے کی خبردیتے ہوئے یہ ارشادفرمایاکہ تم پرایک عظیم مہینہ سایہ کرنے والاہے ۔یعنی ما ہ رمضان ایک ایساسایہ داردرخت ہے کہ جومسلمان بھی اسکے نیچے تھکاہاراآتاہے اس کویہ سکون بخشتاہے دنیاوآخرت کے عذاب سے بچالیتاہے ۔اس مہینہ میں ایک

ایسی رات جوہزارمہینوں سے افضل ہے یعنی کوئی شخص اگراس ایک رات جسے لیلۃ القدرکی رات کہتے ہیں میں اللہ پاک کی صدق دل سے عبادت کرے تواللہ پاک اسکوہزارمہینوں کی عبادت کاثواب عطاکردیتاہے ۔شعبان المعظم کامہینہ ختم ہونیوالاہے ہمیں بھی چاہیے کہ آج ہی سے ماہ رمضان المبارک کی آمدکی تیاری کرلیں تاکہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے ہی ہم اپنے گناہوں کی اللہ پاک کی بارگاہ سے معافی مانگ لیں تاکہ یہ ماہ مقدس شروع ہوتے ہی اللہ پاک کی رحمت ہم پرسایہ فگن ہوجائے

۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہـ”رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترالوگوں کے لئے ہدایت اوررہنمائی اورفیصلہ کی روشن باتیں توتم میں سے جواس مہینہ کوپائے تواسکے روزے رکھے اورجوبیماریاسفرمیں ہوتواتنے روزے اوردنوں میںاللہ تعالیٰ تم پرآسانی چاہتاہے دشواری نہیں چاہتااسلئے کہ تم گنتی پوری کرو”۔(سورۃ البقرۃ پارہ نمبر۲)حضرت سیدُناابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے

توآسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورآخررات تک بندنہیں ہوتے جوکوئی بندہ اس ماہِ مبارک کی کسی بھی رات میں نمازپڑھتاہے اللہ تعالیٰ اس کے ہرسجدہ کے عِوض (یعنی بدلہ میں )اس کے لئے پندرہ سونیکیاں لکھتاہے اوراس کے لئے جنت میں سُرخ یاقوت کاگھربناتاہے جس میں ساٹھ ہزاردروازے ہوں گے اورہردروازے کے پَٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے ۔پس جوکوئی ماہِ رمضان کاپہلاروزہ رکھتاہے تواللہ مہینے کے آخردن تک اُس کے گناہ معاف

فرمادیتاہے اوراُس کے لئے صبح سے شام تک سترہزارفرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔رات اوردن میں جب بھی وہ سجدہ کرتاہے اس کے ہرسجدہ کے عِوض(یعنی بدلے)اُسے (جنت میں)ایک ایک ایسادرخت عطاکیاجاتاہے کہ اُس کے سائے میں گُھڑسوارپانچ سوبرس تک چلتارہے ۔(شُعب الایمان)عربی زبان میںرمضان کامادہ رمض ہے جسکامعنی سخت گرمی اورتپش ہے رمضان میں چونکہ روزہ داربھوک وپیاس کی حدت اورشدت محسوس کرتاہے اس لئے اسے رمضان کہاجاتاہے

۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پرفرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔(سورۃ البقرۃ )اس آیت کریمہ میں عربی زبان کالفظ صیام یاصوم اس کے لغوی معنی اوراصلاحی معنی لغت میں صوم کامطلب ہوتاہے۔اَلْاِمْسَاکُ وَالْکَفُّ عَنِ الشَّیئِ” کسی شے سے رک جاناکسی شے سے بازرہنا”قرآن مجیدفرقان حمیدمیں حضرت مریم علہیاالسلام کاتذکرہ موجودہے کہ جب وہ قوم کی طرف آئیں توان کے پاس ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجودتھے

اورانہیں خدشہ تھاکہ لوگ مجھ پرتنقیدکریں توخالق کائنات اللہ رب العالمین نے ان سے کہا۔قُوْلِی جب لوگ تم سے پوچھیں توتم کہہ دینا اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْماًمیں نے اللہ پاک کے روزے کی منت مانی ہے ۔فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیَّاتو میں کسی آدمی سے گفتگونہیں کروں گی ۔جوبھی تجھ سے پوچھے کہ شادی کے بغیریہ بچہ کیسے پیداہواتوتم اس سے کہہ دیناکہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذرمانی ہے لہذامیں کسی سے گفتگونہیں کروں گی۔قرآن مجیدکے اس مقام پربات کرنے سے رکنااورجواب

نہ دینااس کوصوم کہاگیاہے تویہ لغت میں صوم کامعنی ہے کہ کسی چیزسے بازرہنااوررک جاناخواہ کوئی چیزہوکوئی امرہواس لحاظ سے لفظ صوم کواستعمال کیاگیاہے ۔ اس لحاظ سے شرعی اصطلاح کے اندرجب ہم یہ لفظ بولتے ہیں اسکاخاص مفہوم ہوتاہے ۔شریعت میں روزہ سے مرادیہ ہے کہ دن کے وقت ایسی تمام چیزوں سے بازرہناجس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اوریہ بازرہنانیت کی وجہ سے ہواوراس کاوقت طلوع فجرسے لے کرغروب آفتاب تک ہے اورنیت اس کی طرف سے ہوکہ جونیت

کااہل ہے ایسی حیثیت کوروزہ کہاجائے گا۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں قرآن پاک لوح محفوظ سے سمائے دنیاپرنازل ہواجولوگوں کے لئے ہدایت ہے اورحسب ضرورت تھوڑاتھوڑا23برس میں نازل ہوتارہا۔ رمضان المبارک کی پہلی رات میں صحف ابراہیم چھٹی رات میں تورات اورتیرہویں رات میں انجیل اورآٹھ یابارہ تاریخ کوزبورنازل ہوئی ۔ اسی ماہ مبارک میں اللہ رب العزت کی طرف سے قرآن مجید ہمارے نبی کریم رئوف ورحیم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پرنازل ہوا۔ ماہ رمضان

کوکلام الٰہی کے ساتھ خاص نسبت اورتعلق ہے ۔اسی لئے اسلاف صالحین سے قرآن پاک کی کثرت تلاوت رمضان پاک میں منقول ہے۔امام اعظم ؒ اس ماہ مبارک میں اکسٹھ بارقرآن پاک ختم کرتے تھے تیس دن میں تیس رات میں اورایک تراویح میں امام شافعیؒ اس ماہ میں ساٹھ بارقرآن مجیدختم کیاکرتے تھے۔قرآن مجیدفرقان حمیداللہ رب العزت کی آخری کتاب ہے جوسب کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پرنازل ہوئی جونبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم

تمام نبیوں کاسردارقرآن مجید ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسّلام کاکتنابڑامعجزہ ہے جوقیامت تک ہمارے پاس موجودہے اسکی حفاظت کا ذمہ خودخالق کائنات نے لیاہے پہلی کتابوں میں ردل بدل ہوتارہالیکن قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے جس میں قیامت تک ردل بدل کوئی نہیں کرسکتااللہ رب العزت اپنی کتاب میں ارشادفرماتاہے کہ اگرمیں قرآن پاک کوپہاڑوں پرنازل کرتاتوپہاڑبھی میرے خوف کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہوجاتے قرآن کی شان بھی بہت ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کاکلام ہے تمام کتابوں کی

تصدیق کرنے والاہے جس طرح ہم قرآن کی شان کومانتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں اسکی تلاوت کرتے ہیں تواسی طرح صاحب قرآن (نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم )کی شان بھی مانیں آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے محبت کریں کیونکہ قرآن بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے صدقے ملاہے قرآن بھی شان والامیرانبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم بھی شان والے !میرے آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم مکہ میںتھے توقرآن مکہ میں نازل ہواآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم مدینہ منورہ

میںتھے توجبرائیل ؑ قرآن لیکرمدینہ منورہ میں آئے۔حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم میدان جہادمیں تھے توقرآن میدان جہادمیں نازل ہوا۔سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم غارحرایاغارثور میںتھے توقرآن وہاں پرنازل ہوا۔اگرمیرے محبوب اپنے گھرمیں تھے توقرآن پاک گھرمیں نازل ہوایہ مقام ومرتبہ اللہ رب العزت نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوعطاکیاہے۔ پوراقرآن میرے نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی تعریف سے بھراہواہے ۔قرآن کی محبت تب ہی ہم کوکام آئے گی جب صاحب

قرآن کی محبت ہمارے دلوں میں ہوگی۔ اس میں شک شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ کلام الٰہی ایک عظیم نعمت ہے جسکے نزول کے لئے اس مہینہ کاانتخاب درحقیقت اس بات کااعلان ہے کہ یہ مہینہ خداکی بے انتہارحمتوں کے نزول کامہینہ ہے لیکن ان نعمتوں سے فائدہ اہل ایمان ہی کونصیب ہوتاہے جیساکہ بنجرزمین میں جتنی بارشیں بھی ہوتی رہیں اس میں اگانے کی قوت پیدانہ ہوگی۔حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آقاعلیہ الصّلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا”جوشخص بحالت ایمان ثواب کی نیت

سے رمضان کے روزے رکھتاہے اسکے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔قیام رمضان کی فضیلت سے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا”جس نے رمضان میں بحالت ایمان وثواب کی نیت سے قیام کیاتواسکے سابقہ تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔درج بالا حدیث مبارکہ میں ایمان کاذکرہے ایمان ہے کس چیزکانام اس کاجواب ہم آقاعلیہ الصلوٰۃ والسّلام کے بارگاہ سے لیتے ہیںجو خودبنائے ایمان ہیں ایمان عطاکرنے والے ہیں جواب ملتاہے “ایمان والاوہ

ہے جواپنی جان ماں باپ اولادبلکہ کائنات کی ہرچیزسے بڑھ کرمجھ(آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام)سے محبت کرتاہے وہ صاحب ایمان ہے ۔پتاچلاجوآقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے محبت نہیں کرتااسکا ایما ن مکمل نہیں۔اسی طرح اس حدیث میں یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ گناہ اسکے بخشیں جائیں گے جس نے ایمان واحتساب یعنی ایمان اور خلوص سے عبادت کی روزہ رکھااسکے گناہ معاف ہوں گے۔جب ماہ رمضان کامہینہ شروع ہوتاتوحضور صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم قیدیوں کوچھوڑ

دیاکرتے تھے اورہرمانگنے والے کودیاکرتے تھے ۔ حضرت سیدناضمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’ماہِ رمضان میں گھروالوں کے خرچ میں کُشادگی کروکیونکہ ماہِ رمضان میں خرچ کرنااللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے ۔(الجامع الصغیر)ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے “جب ماہ رمضان شروع ہوتاتورسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کارنگ متغیرہوجاتاآپ صلی اللہ علیہ والہٖ

وسلم کی نمازوں میں اضافہ ہوجاتااللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکردعاکرتے اوراسکاخوف طاری رکھتے “۔رمضان المبارک میں جتنی زیادہ عبادت کی جائے اتنی کم ہے کیونکہ اس مہینہ میں نفل کاثواب عام مہینوں کے فرضو ں کے برابرملتاہے اورفرض کاثواب عام مہینوں کے سترگنازیادہ بلکہ سات سوگناتک ملتاہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آقاعلیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے فرمایاکہ جب رمضان کامہینہ تشریف لاتاہے توآسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اورایک روایت

میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اوردوزخ کے سب دروازے بندکردئیے جاتے ہیں اورشیاطین زنجیروں میں جھکڑدیئے جاتے ہیں”۔(بخاری،نسائی)کتنی عظمت والامہینہ ہے جس میں امت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اوردوزخ کے تمام دروازے بندکردیئے جاتے ہیں۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا”بیشک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان پاک کے لئے آراستہ

کیجاتی ہے فرمایاجب ماہ رمضان کاپہلادن آتاہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہواسفیداوربڑی آنکھوں والی حوروں پرچلتی ہے تووہ کہتی ہیں اے پروردگاراپنے بندوں سے ہمارے لئے انکوشوہربناجن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اورانکی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔(مشکوٰۃ شریف)حضرت سیدناعبداللہ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔کہ سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’رمضان شریف کی ہررات آسمانوںمیںصبح صادق تک ایک منادی یہ نداکرتاہے اے اچھائی

مانگنے والے !مکمل کر(یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف آگے بڑھ)اورخوش ہوجااوراے شریر!شَرسے بازآجااورعبرت حاصل کر۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کی طلب پوری کی جائے ۔ہے کوئی توبہ کرنیوالا!کہ اس کی توبہ قبول کی جائے ۔ہے کوئی دعامانگنے والا!کہ اس کی دعاقبول کی جائے ۔ہے کوئی سائل!کہ اس کاسوال پوراکیاجائے ۔اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہرشب میں اِفطارکے وقت ساٹھ ہزارگناہ گاروں کودوزخ سے آزادفرمادیتاہے ۔اورعیدکے دن سارے مہینے

کے برابرگناہ گاروں کی بخشش کی جاتی ہے۔(درِمنثور)حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ـــــآقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’پانچوں نمازیں اورجمعہ اگلے جمعہ تک اورماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک گناہوں کاکفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچاجائے ‘‘۔(مسلم شریف)حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایامیری امت کوماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیںجواس سے پہلے کسی نبی

کونہیں ملے۔1۔ـ”پہلایہ کہ جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ ان کی طرف نظرالتفات فرماتاہے اورجس پراللہ پاک کی نظرپڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔2۔”دوسرایہ کہ شام کے وقت انکے منہ کی بواللہ تعالیٰ کوکستوری کی خوشبوسے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے” 3۔”تیسرایہ کہ فرشتے ہردن اورہررات ان کے لئے بخشش کی دعاکرتے رہتے ہیں”۔4۔”چوتھایہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی جنت کوحکم دیتے ہوئے کہتاہے میرے بندوں کے لئے تیاری کرلے اورمزین ہوجاقریب ہے

وہ دنیاکی تھکاوٹ سے میرے گھراورمیرے دارِرحمت میں پہنچ کرآرام حاصل کریں”۔5۔”پانچواں یہ کہ جب (رمضان)کی آخری رات ہوتی ہے ان سب کوبخش دیاجاتاہے “۔ایک صحابی نے عرض کیا!کیایہ شب قدرکوہوتاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایانہیں کیاتم جانتے نہیں ہوکہ جب مزدورکام سے فارغ ہوجاتے ہیں تب انہیں مزدوری دی جاتی ہے”۔(الترغیب والترہیب )سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاکہ آدمی کے ہراچھے عمل کاثواب دس10گناسے سات 700گناتک

بڑھایاجاتاہے مگراللہ تعالیٰ کاارشادہے کہ روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ ہے۔وہ بندہ کی طرف سے میرے لئے ایک تحفہ ہے اورمیں اسکا(جسطرح چاہوںگا)اجردوںگا۔ میرابندہ میری رضاکے واسطے اپنی خواہش نفس اورکھاناپیناچھوڑدیتاہے (پس میں ہی اسکاصلہ دونگا)روزہ دارکے لئے دوخوشیاں ہیں ایک افطارکے وقت اورایک اپنے رب کی بارگاہ میں حضوری کی اورقسم ہے کہ روزہ دارکے منہ کی بواللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے بھی بہترہے اورروزہ(دنیامیں شیطان کے

حملوں سے بچائواورآخرت میں دوزخ کی آگ سے حفاظت کے لئے ) ڈھال ہے اورجب تم میں سے کسی کاروزہ ہوتواسکوچاہیے بے ہودہ اورفحش باتیں نہ کرے اورشوروغل نہ مچائے اوراگرکوئی دوسرااس سے جھگڑاکرے توکہ دے کہ میں روزہ دارہوں۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف)نبی کریم رئوف رحیم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جس نے روزہ کی حالت میں بھول کرکچھ کھاپی لیاتواس سے اس کاروزہ نہیں ٹوٹا(اس لئے)وہ قاعدہ کے مطابق اپناروزہ پوراکرے کیونکہ اس

کواللہ نے کھلایاپلایاہے۔۔جس خوش نصیب انسان نے ماہ رمضان کاپوراپورااحترام کیاہوگاکل بروزقیامت ماہ رمضان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بندہ کے لئے عزت ووقارکے تاج پہنانے کی درخواست کرے گا۔روایت میں آتاہے”کہ روزقیامت رمضان المبارک اچھی صورت میں تشریف لائیگاپس خداکے حضورسجدہ کرے گااوراسے کہاجائیگاجس نے تیراحق پہچانا ہے اسکاہاتھ پکڑلوپس وہ اس شخص کاہاتھ پکڑیگاجس نے اسکاقدرپہچاناہوگااورخداکے سامنے کھڑاہوجائے گاپس کہاجائیگاتوکیاچاہتا

ہے پس عرض کرے گاپروردگاراس شخص کوعزت ووقارکاتاج پہناپس اسے تاج پہنایاجائیگا”۔حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان میںروزانہ اِفطارکے وقت دس لاکھ ایسے گناہ گاروں کوجہنم سے آزادفرماتاہے جن پرگناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکاتھا۔نیزشبِ جمعہ اورروزِ جمعہ (یعنی جمعرات کوغروب آفتاب سے لے کرجمعہ کے غروب آفتاب تک)کی ہرہرگھڑی میں ایسے

دس دس لاکھ گناہ گاروں کوجہنم سے آزادکیاجاتاہے جوعذاب کے حقدارقراردیئے جاچکے ہوتے ہیں۔(کنزالعمال)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا”کہ روزے اورقرآن پاک بندے کی شفاعت کرینگے روزے عرض کرینگے اے پروردگارمیں نے اس بندہ کوکھانے پینے اورنفسانی خواہش سے دن میں روکاہے پس اسکے حق میں میری شفاعت قبول فرمااورقرآن عرض کریگامیںنے اسے رات میں سونے سے روکاہے پس

اسکے حق میں میری شفاعت قبول فرماپس دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(بیہقی)ثابت ہواکہ قیامت کے دن جب دنیاکے دوست بیزاری کااعلان کردینگے روزے اورقرآن اس نازک وقت میں انسان کاساتھ دینگے اوربارگاہ خدامیں شفاعت کراکرجنت میں پہنچادینگے۔ جب قیامت کے دن روزے اورقرآن کویہ اختیارحاصل ہوگاکہ بندوں کی شفاعت کرائیں جوخودصاحب قرآن ہے جس پر قرآن اتراکیااللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہماری شفاعت نہیں کرینگے؟جس نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم

کے صدقے ہم کورمضان ملااس نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوکیایہ اختیارحاصل نہ ہوگا۔خداکی قسم روزے اورقرآن تب ہی ہماری شفاعت کرینگے جب کہ کائنات کی ہرچیزسے بڑھ کرہماری محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے ہوگی جسکونبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے دنیامیں محبت نہ ہوگی اسکوقیامت کے دن اعمال فائدہ نہیں دینگے۔ غیبت اوردیگرگناہ سے روزہ بھاری ہوجاتاہے یہی وجہ ہے کہ نیکوکاروں کوروزہ کی سختی محسوس نہیں ہوتی حالانکہ گناہ گاروزہ میں بہت

شدت اورسختی محسوس کرتاہے۔درج ذیل باتیں جوروزہ کی حالت میں مکروہ ہیں ۔٭گوندچبانایاکوئی اورچیزمنہ میں ڈالے رکھنا۔٭بلاضرورت کسی چیزکاچکھنا،البتہ جس عورت کاخاوندسخت اوربدمزاج ہواسے زبان کی نوک سے سالن کامزہ چکھ لیناجائزہے۔٭کلی یاناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنا۔٭منہ سے بہت ساتھوک جمع کرکے نگلنا۔٭غیبت کرنا،جھوٹ بولنا،گالی گلوچ کرنا۔بھوک یاپیاس کی بے قراری اورگھبراہٹ کوظاہرکرنا۔٭نہانے کی حاجت ہوتوغسل کوقصداََ صبح صادق کے بعدتک

مئوخرکرنا۔٭صوم وصال کے روزے رکھنااگرچہ دوہی دن کاہو۔روزوں کی قضاکے احکام کی درج ذیل تین صورتیں ہیں۔1۔اگرکوئی آدمی روزے کی حالت میں بھول کرکھاپی لے اس پرنہ قضاہے اورنہ کوئی کفارہ خواہ وہ رمضان کاروزہ ہویاغیررمضان کا2۔اگرکوئی آدمی رمضان میںروزہ کی حالت میں بلاعذرقصداََکھالے یاپی لے تواس پرقضااورکفارہ دونوں لازم ہیں3۔اگرکوئی رمضان میں روزہ کی حالت میں کسی عذرکی وجہ سے یعنی سفریامرض میں روزہ توڑدے تواس پرقضاواجب

ہوگی کفارہ ضروی نہیں ۔اللہ رب العزت سے دعاگوہوں کہ اللہ پاک ہمیں ماہ رمضان المبارک کے مہینے کاادب واحترام اوراس میں خوب ذوق وشوق کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔تاکہ بروزقیامت ہم آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی شفاعت اورجنت کے حقداربن جائیں ۔آمین بجاہ النبی الامین