Web
Analytics
چیف جسٹس آف پاکستان ،آرمی چیف اورچیئرمین نیب کے نام کھلا خط۔۔۔ایاز میمن – Lahore TV Blogs
Home / کالم / چیف جسٹس آف پاکستان ،آرمی چیف اورچیئرمین نیب کے نام کھلا خط۔۔۔ایاز میمن

چیف جسٹس آف پاکستان ،آرمی چیف اورچیئرمین نیب کے نام کھلا خط۔۔۔ایاز میمن

یہ تو ہر کوئی جانتاہے کہ کھیلوں کا فروغ صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے ،یہ کھیل ہی ہیں جو دنیا میں امن وآگاہی کا پیغام بن کر ایک دوسرے کو قریب لانے کے مواقع فراہم کرتاہے ، چیف جسٹس صاحب آپ نے کراچی کے کچرے پر ازخود نوٹس لیاآپ کا بہت شکریہ آپ نے قومی دولت کا صفایا کرنے والوں کامحاسبہ کیا ،آپ نے عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے اپنا فرض اداکیا اور اس طرح کے بے شمار

عوامی ایشوز پر آپ کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے آپ کو پوری قوم ہی خراج تحسین پیش کررہی ہے مگر جناب محترم ان تمام معاملات کے ساتھ براہ کرم کھیلوں کی بربادی پر بھی ایک عدد نوٹس لیں لے تو یہ اس قوم کے ہونہاروں اور نوجوانوں پر احسان عظیم ہوگا کیونکہ جس انداز میں سندھ گیمز میںوائٹ کالر اسٹائل میں کرپشن ہوئی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے نوجوانوں کے کھیلوں کے لیے وقف کردہ کروڑوں کی رقم کو جس انداز میں خرد برد کیا گیاہے اس کے تمام ثبوت بھی موجود ہیں بس ایک آپ کی زرا سی توجہ درکار ہے ،جناب محترم آرمی چیف صاحب آپ نے جس انداز میں کراچی آپریشن ،ضرب عضب ،آپریشن ردالفساد کے زریعے اس ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم کیا ہے اس پر پوری قوم آپ کو سلام پیش کرتی ہے جناب محترم اس ملک کوصرف دہشت گردی نے نہیں بلکہ ریاستی دہشت گردوں نے بھی خوب نقصان پہنچایاہے اور یہ وہ لوگ ہے جو عوام کی خدمت کرنے کی غرض سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جو اس وقت عوام کو فائدہ پہچانے کی بجائے ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اندر ہی اندر سے اس ملک کا بیڑہ غرق کرنے پر تلے ہوئے آپ سے التماس ہے کہ آپ براہ کرم سندھ اسپورٹس بورڈ میں سندھ گیمز 2018کے اندر ہونے والی کرپشن کا جائزہ لیں تاکہ کھیلوں کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جاسکا ،جبکہ یہ ہی استدا میری چیئرمین نیب سے بھی ہے کہ وہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کا محاسبہ کریں ، کیونکہ میں خود کراچی

تاجر الائنس کے سربراہ کی حیثیت سے سندھ گیمز 2018میں مارکیٹنگ کمیٹی کا سینئر وائس چیئرمین تھا اور سارے ثبوتوں کو اپنے پاس رکھتا ہوں ،یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ سندھ گیمز میں 4کروڑ 56 لاکھ17ہزار424 روپے کی لوٹ مار میں سیکرٹری اسپورٹس بورڈ نیاز علی عباسی کا بھرپور کردار رہاہے جس کا بھرپور ساتھ چیف دی مشن آصف عظیم ،وسیم ہاشمی ،احمد علی راجپوت اور عامر راجپوت،غلام محمد سمیت دیگر ساتھیوں نے وائٹ کالر

کرائم کی صورت میں دیاہے، میں اس سلسلے میں تمام تحقیقاتی اداروں کی خدمت کچھ تفصیلات دینا پسندکرونگا کہ سندھ گیمز 2018میں کھیلوں کی تعداد 30لڑکوں کے 17لڑکیوں کے جمع ٹوٹل 47کھیل تقسیم کل رقم خرچ4کروڑ56لاکھ17ہزار 424روپے کے حساب سے ہر کھیل پر آنے والی رقم 9لاکھ70ہزار 583روپے بنتی ہے اس طرح تمام کھیلوں کا جائزہ لیں مثال کے طور پر کچھ کھیل ایسے ہیں جن میں زیادہ خرچ آتا ہی نہیں مثال کے طور پر لونگ جمپ، شطرنج، سائیکلنگ اور

بہت سے ایسے کھیل تمام اس طرح کے کم خرچ والے کھیلوں کو نکال کر اگر خرچ بقیہ رقم مہنگے کھیلوں میں جمع کردی جائے تو ہر کھیل پر آنے والی رقم لاکھوں میں چلی جائے گی ۔ آپ اگرسندھ اسپورٹس بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والا سرکاری سوینئر کی کاپیوں کا بھی مطالعہ کریں تو جس کے مطابق کھلاڑیوں کی تعداد ، آفیشل ، ٹیکنیکل آفیشل کی تعداد ، عہدیداروں کی تفصیل ، 6 ڈیوژن کی تٖفصیل ٹوٹل کھیلوں سے متعلق معلومات کراچی تاجر

الائنس کے ذمے لگائے گئے تمام کاموں کی تفصیل ، میڈلزکی تعداد، (Annexure A+A+A) سے A+A+A 10 تک ہے ۔ کھلاڑیوںکی تعداد2748 + آفیشل ، ٹیکنیکل آفیشل 697 ٹوٹل = 3445کی شرکت مصنوعی ظاہر کی گئی۔ جبکہ سرکاری سوینیئرمیںدرج 6ڈویژن سے لڑکوں کی تعداد1454 + لڑکیوں کی تعداد 852 آفیشل ، ٹیکنیکل آفیشل ، 697 = ٹوٹل 3001 ( یہ تعداد بھی مکمل شرکت نہ کر سکی)۔جبکہ غبن کی غرض سے ٹینڈر جاری کیا گیا ٹریک سوٹ 2802ٹی شرٹس

2802 ، شرٹس 2802، شارٹس 2802اور شوز2802 ، موزے 2802 اور بقیہ سامان کی ٹینڈر دستاویزات کے نام پر غبن کیا گیا 28 دسمبر 2017 ٹینڈر اپروول اتھارٹی کا نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا جس کے چیئرمین محترم جناب سیکریٹری اسپورٹس یوتھ اینڈ افیئرز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر نیاز علی عباسی خود سے مقرر ہو گئے اور اس نوٹیفیکیشن پر دستخظ مرزا مشتاق بیگ سیکشن آفیسر اسپورٹس سے کرائے گئے،،جب کھلاڑی ہی بمعہ آفیشل ٹیکنیکل آفیشل 3445 بقول وسیم ہاشمی کے

سندھ گیمز میں شرکت کی اور بقول ان کے تمام کھلاڑیوں آفیشل ٹیکنیکل آفیشل میں ٹریک سوٹ ، شوز ، ٹی شرٹس، شرٹس ، موزے ، جوتے تقسیم ہوئے تو انہوں نے 2802 کی تعداد سے ان کو کیسے پوار کیا اورسرکاری سوینیئرکو دیکھیں اس میں دی گئی کھلاڑیوں بعمہ آفیشل ٹیکنیکل آفیشل کی تعداد میں تضاد سے کرپشن کا شک ظاہر ہوتا ہے لہٰذا اینٹی کرپشن نیب ، اعلیٰ عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سندھ حکومت سے درخواست ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی بنا کر اصل حقائق سے عوام کو

آگاہ کریں اور یہ بھی پتہ لگایا جائے کہ اتنی بڑی رقم کا ٹینڈر کس کو دیا گیا اور سپرا کے قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی کے نہیں ؟۔ٹرانسپورٹ کا کہہ کر کھلاڑیوں کو سڑکوں پر ذلیل و خوار کرنے پر مجبور کیا گیاکوچز ، بسوں میں کھلاڑیوں ک نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن ایک بھی بس یا کوچ نظر نہیں آئی۔ اور کھلاڑیوں کی مصنوعی تعداد 2748 + آفیشل ، ٹیکنیکل آفیشل 697 ٹوٹل = 3445 ظاہر کر کے تمام رقم کرپشن کی نظر کر دی گئی ،اب

آجائیے رہائش 42 لاکھ روپے کی خطیر رقم ہوٹلز کے نام پر لی گئی جبکہ بچوں کو لی مارکیٹ کے چارپائیوں ، سرکاری ، ہوسٹل، میں ٹھرایا گیا اور ٹوٹل مصنوعی کھلاڑیوں کی تعداد بقول وسیم ہاشمی 2748 آفیشل ، ٹیکنیکل آفیشل 697 ٹوٹل = 3445 اور سرکاری سوینیئر میں یہ تعداد کچھ اور حقیقت بیان کرتی ہے کھلاڑیوں کی تعداد 3445 میں سے کتنے کھلاڑی اور آفیشل ٹیکنیکل آفیشل مقامی یعنی کراچی کے تھے؟ بقول وسیم ہاشمی کے جو انہوں نے پریس کانفرنس میں عددی گنتی سے قوم

اور میڈیا کو آگاہ کیا کراچی سے کھلاڑیوں کی454 + آفیشل ، ٹیکنیکل آفیشل 276 ٹوٹل = 730 ان کی رہائش شامل کی گئی کے نہیں اور جن کھلاڑیوں کو نیشنل کوچنگ سینٹر اور سرکاری ہاسٹل میں رکھا گیا ان کی تعدا د بھی معلوم کی جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ بقیہ پانچ ڈویژن سے آئے مہمان کھلاڑی آفیشل، ٹیکنیکل آفیشل میں سے کتنے افراد اپنے رشتے داروں ، جان پہچان ، دوستوں کے ہاں قیام پذیر ہوئے ؟ اور آپ کے علم میں یہ بات لاتا چلوں کہ 4200000/- (بیالیس لاکھ روپے

)کی خطیر رقم سندھ اولمپک ایسو سی ایشن کے احمد علی راجپوت کو بذریعہ چیک ادا کر دی گئی اور میری درخواست تمام اینٹی کرپشن ، نیب اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ معلوم کیا جائے رہائشی ہوٹلز کے لئے ٹینڈر کس کو جاری کیا گیا اور کس قانون کے تحت اتنی بڑی رقم احمد علی راجپوت کو دی گئی، اطلاعت اور دستاویزی ثبوت کے مطابق 19 جنوری 2018 ٹینڈر کنفرمیشن والے روز ہی افتتاحی اختتامی تقریب کا شیڈول جاری کر دیا گیا تھا جس کے مطابق

دستخط کے ساتھ فائنل ہوا کہ افتتاحی ، اختتامی والے روز مارکیٹنگ کمیٹی اور اسکائوٹس اور 6,300,000/- (تریسٹھ لاکھ روپے ) کا ٹینڈر حاصل کرنے والے کو کیا کیا کام سر انجام دینا ہیں۔ آپ کے علم میں یہ بات لاتا چلوں 21 میسکوٹ(کارٹون) کراچی میں بنوائے گئے، تین دبئی سے منگوائے گئے اور آج تک ایک میسکوٹ کے بھی پیسے نہیں ملے اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ عامر راجپوت کو میسکوٹ کا ٹینڈر کتنے کا دیا گیا؟ جبکہ نیشنل کوچنگ سینٹر سرکاری گرائونڈ ہے اور پاکستان اسکور بورڈ کی

زیر نگرانی اور جبکہ تھیم سانگ ، پانی جوس ، آتشبازی، میوزک، گلوکار ، بھنگڑا ، تحائف، اجرک ، پھول، پینا فلیکس ،سو شل میڈیا مارکیٹنگ اور تمام اخراجات چیئرمین کراچی تاجر الائنس ایاز میمن موتی والا نے کئے تو پھر 63لاکھ روپے فرشتوں کے ڈنر پر لگا دیئے یا ؟ دیا گیا ٹینڈر تو ابھی تک سامنے لایا نہیں گیا،6 ڈویژنز میں کمشنرز کو47 کھیل کے ٹرائل کی مد میں4472000/- (چوالیس لاکھ بھتتر لاکھ روپے) کی ادائیگی بذریعہ چیک کی گئی (ٹرائل 3 دن میں مکمل ہوئے)

تفصیلات کے مطابق فی پلیئر 200 روپے کی ادائیگی ہونا تھی ایسوسی ایشن کو کچھ نہیں دیا گیا ٹرائل میں ڈیکوریشن کے لئے ایسوسی ایشن کو کہا گیا کہ اپنا اپنا ارینج کرو اور بطور سندھ چیز ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے جنرل سیکریٹری نے مجھے بتایا کہ کراچی کے کھلاڑیوں کو یہ 200 روپے بھی آج تک ادا نہیں کئے گئے اور شطرنج کے ٹرائل اور باڈی بلڈنگ کے ٹرائل کی ڈیکوریشن اور لائٹ کے پیسے بھی کراچی تاجر الائنس نے ادا کئے اور ٹرائل میں شرکت کی اعداد و شمار

کا جائزہ لیا جائے تو ہاکی کے ٹرائل میں 26 کھلاڑیوں نے شرکت کی اور شطرنج میں 19 کھلاڑیوں کی شرکت اگر ہم ہر گیم میں ایوریج چالیس کھلاڑی بھی ٹرائل کے شمار کریں تو ٹوٹل 47 کھیلوں میں کھلاڑیوں کی تعداد 1880 بنتی ہے x 200 = 3760000/- کی رقم بنتی ہے جبکہ گرائونڈ سرکاری اور کام کرنے والے افراد بھی سرکاری باقی حساب کمشنرز بہتر طریقے سے دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار کھیلوں ، میڈلز اور دیگر فرضی ضروریات کے نام پر لاکھوں کا غبن ہوا

ہے جو افتتاحی واختتامی تقریب تک لوٹ مار کا سلسلہ چلتا رہاہے اس کے علاوہ بہت سے تفصیلات موجود ہیں میرے یہ محترم ادارے اگر نوٹس لیں تو میں ان کو یہ تمام تفصیلات فراہم کرنے کو تیار ہوں امید ہے کہ وہ ایک عام شہری کی آواز کو ضرور سنیں گے جو خود آپ کی طرح اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتاہے ۔