Web
Analytics
نکاح کی اہمیت اورتقویٰ ۔۔۔ عبدالحنان – Lahore TV Blogs
Home / کالم / نکاح کی اہمیت اورتقویٰ ۔۔۔ عبدالحنان

نکاح کی اہمیت اورتقویٰ ۔۔۔ عبدالحنان

اسلام میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکرِ اعتدال اور نظریہ توازن پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے۔ اسلام کی نظر میں نکاح محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں ہے۔ انسان کی جس طرح بہت ساری فطری ضروریات ہیں بس اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے۔ اس لیے اسلام میں انسان کو اپنی اس فطری ضرورت کو

جائزاور مہذب طریقے کے ساتھ پوراکرنے کی اجازت ہے اوراسلام نے نکاح کوانسانی بقا وتحفظ کے لیے ضروری بتایا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ’’النکاح من سنّتی‘‘ نکاح کرنا میری سنت ہے۔ اسی چیز کو مدد نظر رکھتے گزشتہ دنوں الحمدواللہ میرا نکاح ہو گیا ہے اور ہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے ہیں میرا نکاح امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید نے گزشتہ دنوں پڑھایا تھا انسان جس چیز کی خواہش کرتا ہے اللہ رب العزت اس کی وہ خواہش پوری کرتے ہیں لیکن اس میں نیت کا خالص ہونا بہت ضروری ہے میری فقیر کی خواہش تھی کہ میرا نکاح مرد مجاہد، کشمیریوں کے وکیل اور 22 کروڑ پاکستانیوں کی دلوں کی دھڑکن حافظ محمد سعید صاحب پڑھائیں تو یہ خواہش میری اللہ نے پوری کر دی اور حافظ صاحب نے اپنے قیمتی وقت میں میرے لیے وقت نکال کر تشریف لائے اور میرا نکاح پڑھایا میں اس کو اپنے لیے خوش قسمتی اور باعث سعادت سمجھتا ہوں اس موقع پر جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان یحیی مجاہد صاحب، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ندیم احمد اعوان ،معروف کالم نگار حبیب اللہ قمر ، ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اور صحافی حضرات نے خصوصی طور پر شرکت کی اس موقع پر اامیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید نے نکاح کے موقع پر کہا کہ ایک مسلمان جوڑے کی شادی کی ان کے لیے باعث

رحمت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلمان مرد اور عورت اپنے نصف ایمان کو مکمل کرتے ہیں اور ان کو اپنے باقی نصف ایمان کے بارے میں سنجیدگی سے غوروغوض کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر اس مسنون دعا کا بھی ذکر کیا جو اس موقع پر نبی کریم? دولہا کے لیے فرمایا کرتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے بابرکت بنائے اور تم پر برکت کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو خیر پر جمع فرمائے۔یہ لمحات تقریباً ہر مسلم معاشرے کے فرد پر آتے ہیں کچھ والدین

یا گھر کے بڑے بزرگ ان معاملات میں جلدی کرتے ہیں تاکہ نوجوان لڑکا لڑکی بالغ ہوں اور انہیں نکاح کرکے میاں بیوی جیسے ایک عظیم رشتے سے منسلک کر دیا جائے تاکہ مسلم معاشروں میں برائی کا ارتکاب نہ ہو اور نہ ہی برائی یہاں پر جنم لے سکے اس طرح کی بیسیوں مثالیں معاشرے میں موجود ہیں آج ہمارہ معاشرہ ایک عجیب بیماری کا شکار ہو چکا ہے کہ والدین کہتے ہیں ہم اپنے بیٹے کی شادی تب کریں گے جب یہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا جاب کرے گا اپنا سٹیٹس

بنائے گا تب اس کی شادی کے بارے میں سوچا جائے گا، اسی طرح بیٹیوں کے حوالے سے تاخیری کی جاتی ہے کہ یہ ابھی پڑھ رہی ہے اور کوئی اچھا لڑکا ملے گا جس کی سیلری اچھی گھر اپنا اور مختلف ڈیمانڈ اور شرطیں ہوتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی کی شادی کا وقت گزر جاتا ہے اور پھر والدین کے پاس پچھتاوے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ، جو نہایت ہی افسوسناک بات ہے ہمیں مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے ان معاملات کا خیال رکھنا چاہیے اور جیسے ہی بیٹا بیٹی بلوغت

کی عمر کو پہنچیں ان کا نکاح کر دینا چاہیے تاکہ مسلم معاشرے اور خاندان ان معاشرتی برائیوں کا شکار نہ ہو سکیں جو آج ہمیں معاشرے میں ملتی ہیں ْنکاح کرنے کی وجہ سے انسان کے آدھے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔اور دل میں اللہ کا خوف یعنی تقویٰ پیدا ہو گا ۔ تقویٰ کا لغوی معنی کسی چیز کو ایسی چیز سے بچانا ہے جو اس کو دینے والی یا ایزا پہنچانے والی ہو۔لیکن اصطلاح شریعت میں اس سے مراد ایسے کاموں سے بچ جانا ہے جو انسان کو گناہ گار کرنے والے ہوں۔ زندگی کے جملہ

امورمیں جہاں پر تقویٰ کی بہت زیادہ اہمیت ہے وہیں پر شادی بیاہ کی تقاریب میں بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بے پردگی ، اختلاط اور بہت سی ایسی رسومات کو کیا جاتا ہے جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے برعکس ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے نکاح سمیت جس عقد اور معاہدے میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ ڈر شامل حال ہو جائے اس میں خیر وبرکت اور اللہ کی رحمت شامل ہو جاتی ہیں۔ تقویٰ کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف امور کا ذکر کیا جن کا خلاصہ

درج ذیل ہے: 1۔تنگیوں کا خاتمہ اور رزق کی فراوانی : اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ طلاق کی آیت نمبر 2 اور 3 میں ارشاد فرماتے ہیں ”اور جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے تقوے کو اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنائیں گے اور اس کو رزق وہاں سے دیں گے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔‘‘ہر انسان کی دو اہم خواہشات یہ بھی ہیں کہ وہ اپنی پریشانی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے اور دوسرا یہ کہ وہ خوشحالی کی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے۔ آیات مذکورہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں

کہ انسان کی یہ دونوں خواہشات تقویٰ کے ذریعے پوری ہو سکتی ہیں۔‘‘ تقویٰ کے نتیجے میں جہاں اخروی کامیابیاں حاصل ہوں گی وہیں ہم مندرجہ بالا دنیاوی فوائد کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کے راستے پر چلنے اور گناہ سے اجتناب کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ ا?مین!