Web
Analytics
بجٹ2018-19میں نئی حکومت کیلئے چیلنج! افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / بجٹ2018-19میں نئی حکومت کیلئے چیلنج! افتخار بھٹہ

بجٹ2018-19میں نئی حکومت کیلئے چیلنج! افتخار بھٹہ

موجودہ حکومت اپنے عرصے اقتدار کے آخری ماہ میں ترقیاتی اور انتظامی حوالوں سے اپنی بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے ایسے منصوبہ جات جو کہ ابھی تک پورے مکمل نہیں ہوئے ہیں ان کے افتتاح میں مصروف ہے جس میں اسلام آبادکا نیو ائیر پورٹ سے پروازوں کا آغاز ہے اس ائیر پورٹ پر پہنچنے کیلئے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو مہنگے داموں پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کا

انتظام کرنا پڑتا ہے یہی صورتحال پنجاب میں بجلی پیدا کرنے والے نئے کار خانوں کے بارے میں شنید ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق بجلی کی پیدا وار نہیں کر رہے ہیں صوبائی دار الحکومت لاہور میں جلد از جلد اورنج ٹرین کو چلا کر لوگوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی طرح فاٹا اصلاحات کے بارے میں حکومت اپنے اتحادیوں کی نارضگی کے پیش نظر اس حوالے سے قانون سازی کو التوا میں ڈالتی رہی ہے مگر وزیر اعظم خاقان عباسی نے اب فوراً اس پر عملدرآمد کا عندیہ دیا ہے میاں شہباز شریف مسلم لیگ کی صدارت سنبھالنے کے بعد فوری طورپر متحرک ہو چکے ہیں مختلف اضلاع میں ہسپتالوں اور دیگر پراجیکٹس کے افتتاح میں مصروف ہیں میاں نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے توپوں کا رخ عدلیہ سے موڑ کر نیب کی طرف کر دیا ہے جبکہ میاں شہباز شریف اس بیانیہ کی حمایت یا مخالفت میں خاموش دیکھائی دیتے ہیں اس طرح مسلم لیگ ن اقتدار کے ساتھ اپوزیشن کا مزہ لے رہی ہے یاد رہے مسلم لیگ ن کی پنجاب میں ترقیاتی اور انتظامی امور کے حوالے سے کارکردگی بہتر رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے پنجاب کے اندر کوئی لسا نی یا نسلی تضادات موجود نہیں ہیں بلکہ یہاں پر بسنے والے تمام لوگ ہی اپنے آپ کو پنجابی ہی تصور کرتے ہیں جبکہ سندھ میں ایم کیو ایم اور مختلف دھڑوں کے درمیان نسلی اور لسانی تضادات موجود ہیں حیدر آباد کراچی میں ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی

واضح دیکھائی دیتی ہے ایم کیو ایم کی تقسیم کے بعد اس خلاء کو پر کرنے کیلئے پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنے جلسے جلوسوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے پختونخواہ اور بلوچستان کے مسائل دہشت گردی اور قوم پرستی کے تضادات کے حوالے سے ہیں لہذا تینوں چھوٹے صوبوں میں صوبائی حکومتوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے جبکہ میاں نواز شریف کوئی ایسا چیلنج در پیش نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ تمام معاملات کو بہتر طریقے سے چلانے میں کامیاب

ہوئے ہیں حکومت نے جاتے ہوئے آئندہ سال کی مالی ترجیحات کے حوالے سے بجٹ پیش کر دیا ہے اس بجٹ کو کسی منتخب نمائندے کی بجائے نامزد کردہ وزیر خزانہ سے پیش کروایا گیا ہے ملک کے تمام معاشی ماہرین کا کہنا ہے یہ الیکشن کے سال کا بجٹ ہے جس میں عوام کو خو ش کرنے کیلئے کئی مراعات کااعلان کیا گیا ہے لیکن ان اخراجات کو پورا کرنے کیلئے آمدنی اور ریونیو وصولی کی کوئی تفصیل نہیں فراہم کی گئی ہے بجٹ میں حکومت کو مختلف ذرائع سے 933ارب

روپے کے زائد ٹیکس وصول ہونگے جبکہ چھوٹ اور مراعات میں184.5ارب روپے کمی ہوگئی اس طرح مراعات اور چھوٹ دیئے جانے سے قومی خزانے کو 96.18ارب روپے کا اضافی خسارہ ہوگابجٹ میں 18ارب روپے کا خسارہ دکھایا گیا ہے لیکن بے شمار اخراجات اور ادائیگوں کا کوئی ذکر نہیں ہے مثال کے طور پر9سو ارب روپے کے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے 2سو ارب روپے ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفرنڈ ، نقصان میں چلنے حکومتی اداروں ، پی آئی اے اور ریلوئے

کے پانچ سو ارب روپے کے سالانہ مالی نقصانات کے بارے میں بجٹ میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے اگر ان ادائیگیوں کو شامل کیا جائے تو بجٹ خسارہ بہت زیادہ بنتا ہے اس کے علاوہ رواں مالی سال حکومت نے سی پیک اور چین سے آزاد تجارتی معادے FTAکے تحت 540ارب روپے کی کسٹم انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی ہے جو حکومت کی آمدنی میں کمی کا باعث بنے گی حکومت نے چینی بینکوں سے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کیلئے تین ارب ڈالر کا

قرضہ لیا ہے بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے کسی ٹھوس اصلاحات کا اعلان نہیں کیا ہے پیٹرول پر موصول بنانے سے اس کی مصنوعات مہنگی ہونگی جس سے مہنگائی بڑے گی اسی طرح تنخواہ دار طبقہ کو ٹیکس کی رعایت دینے سے 5لاکھ50ہزا ر ٹیکس گزار باہر نکل جائیں گے ، ایکسپورٹر 260ارب روپے کے سیل ٹیکس ریفرنڈ کی ادائیگی گزشتہ تین سال سے نہیں ہوئی ہے مگر حالیہ بجٹ میں وزیر خزانہ نے یکم جولائی کے بعد آئندہ ایک سال میں ماہانہ قسطوں

میں برآمد کنند گان کے ریفرنڈ دینے کا اعلان کیا ہے دوسرے لفظوں میں ان کی ادائیگی کا بوجھ آئندہ حکومت پر ڈال دیا گیا ہے ان رقوم کے پھنس جانے سے برآمدکنندگان کے کے مالی معاملات خراب ہو رہے ہیں حکومت نے برآمدات بڑھانے کیلئے بجٹ میں 180ارب روپے کے پانچ سالہ ریبیٹ کا اعلان کیا ہے جو کہ صرف مینو فیکچرنگ شعبہ کیلئے ہے حالانکہ اس کا نفاذ تمام شعبوں پر ہونا چاہیے ٹیکسٹائل کے کمرشل برآمدگان کو یہ رعایت حاصل ہونی چاہیے ۔ملک کی ٹیکسٹائل صنعت

زبوں حالی سے دو چار ہے مگر اس کے لئے کوئی مراعات کا اعلان نہیں کیا ہے بجٹ میں آئندہ مالی سال کے آخراجات کا تخمینہ 5ہزار246ارب روپے اور آمدنی کا ہدف4ہزار435ارب روپے مقرر کیا گیا ہے بجٹ میں دفاع کیلئے11سو ارب روپے اور1620ارب روپے قرضوں کی سود کی ادائیگی کیلئے رکھے گئے ہیں، حکومت کے کچھ غیر متوقع آخراجات اور صوبوں کے اضافی فنڈ وفاقی حکومت کو منتقل نہ کرنے سے مالی خسارہ اپنے ہدف 4.1فیصد سے بڑھکر 5.4%ہو گیا

ہے جس کو حکومت نے4.9%کی سطح پر لانے کا اعلان کیا ہے ۔جبکہ آئندہ سال کا قومی پیدا وار کا ہدف 6.2%ہوگا ۔جبکہ آئی ایف نے آئندہ سال اس کی بڑھوتی کی شرح4.7%کی پشین گوئی کی ہے بجٹ میں پبلک سیکٹر ترقیاتی منصوبوں کیلئے8سو ارب روپے رکھے گئے ہیں حکومت 17سو 35ارب روپے ڈایکٹ ٹیکسوں اور27سو روپے بل واسطہ ٹیکسوں سے وصول کرے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کے بالائی آمدنی والے آمیروں کی آمدنی پر سپر ٹیکس نہیں لگائے گئے ہیں جبکہ اس کا

تمام بوجھ عام آدمی پر ڈالا گیا ہے ، گزشتہ سال زراعت اور خدمات کے شعبہ میں کارکردگی بہتر رہی ہے جبکہ مینو فیکچرنگ شعبہ کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا ہے بجٹ میں سیمنٹ اور سٹیل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تعمیرات مہنگی ہوگی حکومت نے موجودہ بجٹ میں اونچے اہداف اور پر کشش مراعات رکھی ہیں جبکہ آمدنی کے حصول کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے نئی حکومت کیلئے بجٹ کے ٹارگٹ کو حاصل کرنا سنگین چیلنج ہوگا۔