Web
Analytics
کسانوں کے لیے ضروری ازخود نوٹس ۔۔۔ ڈاکٹر میاں احسان باری – Lahore TV Blogs
Home / کالم / کسانوں کے لیے ضروری ازخود نوٹس ۔۔۔ ڈاکٹر میاں احسان باری

کسانوں کے لیے ضروری ازخود نوٹس ۔۔۔ ڈاکٹر میاں احسان باری

گنا کی فصل نے بالخصوص سندھ اور جنوبی پنجاب کے کسانوں کے گھروں میں حشر برپا کرڈالا ہے اغلب امکان یہی ہے کہ آئندہ جنوبی پنجاب کے کسان گنا کی فصل کم کم ہی کاشت کریں گے پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری ترین صاحب نے ہائیکورٹ میں رٹ کرکے شریفوں کے عزیزوں کی شوگر ملز کو بند کرڈالنے کا حکم لے لیا تھا اور یہ بھی کہ انہیں فوراً یہاں سے اکھاڑ لیا جائے اگر کسانوں کو پہلے

ایسے کسی عمل کا علم ہوتا تو وہ لاکھوں ایکڑ فالتو گناکاشت ہی نہ کرتے بندملوں والے علاقہ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑسے زائد گنا فصلوں میں کھڑا سوکھتا رہا مگر ترین کے حاصل کردہ عدالتی حکم کے بموجب یہ گنا کسی ملز میں بھی فروخت نہ کیا جا سکتا تھاکہ وہ وافر گنا خریدنے کو تیار نہ تھے بالآخر بھلا ہو سپریم کورٹ کاکہ اس مرتبہ کے لیے گناخریدنے کی چھوٹ مل گئی مگر کسان انتہائی دیر ہوجانے کی وجہ سے اونے پونے داموں ملوں کی بجائے درمیانی ٹھگ وسود خور سرمایہ داروں کو بیچتے رہے تھے آخری صورتحال کے مطابق کہ کسان گنا بھی ہاتھ سے نکال بیٹھے اور ان کو ملز یادرمیانی افراد رقوم بھی دینے کو تیا ر نہیں چیف جسٹس صاحب نے نوٹس لیااور حکماً گنا کی رقوم تمام کسانوں کو ادا کرنے کا کہابہر حال تمام ملوں ہی نے گنا حکومتی طے کردہ ریٹ سے 40تا50روپے کم قیمت پرخرید کر ہی کسانوں کی کمر توڑ ڈالی ہے سپریم کورٹ کے حکم پر آدھی پونی رقوم ملنے کا امکان ہے مگر کسان بری طرح رُل گئے ہیںاور “کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک “اگلی فصل انتہائی لیٹ ہوچکی ہے اب گندم بھی مارکیٹ میں آچکی اور حکومتی محکمہ فوڈکا وہی انوکھا وطیرہ جاری ہے کہ فی بوری 80تا120روپے بھتہ دو گے تو ہی 1300روپے فی من گندم خریدیں گے حکومت نے مکمل پیداوار کا غالباً چو تھا یا پانچواں حصہ ہی خریدنا ہے کسان مرتا کیا نہ کرتا سرکاری سینٹروں پر اس کی گندم کم ہی خریدی جارہی ہے کہ باردانہ بھی جان بوجھ کر دیر سے سپلائی

کیا گیاتاکہ سینٹروں پر جمگھٹا نہ لگ سکے باردانہ بھی حکومتی ممبران اسمبلیوں و عہدیداروں کی سفارش کے بغیر ملنا محال ہو چکا ہے اس لیے کسان اونے پونے داموں یعنی850تا1050فی من ریٹ پر زیادہ گندم اوپن مارکیٹ میں بیچ چکے ہیں سرکاری سینٹروں پر تو تو ل میں بھی دو تاتین کلو زیادہ فی بوری گندم دینی پڑتی ہے ہر ضلع میں تقریباً 25تا30سینٹرز ہیں اور ہر سینٹر پر80ہزارتا ڈیڑھ لاکھ بوری گندم خریدی جاتی ہے اسطرح فی ضلع کل بوری تقریباً35تا40لاکھ خریدی جائے گی۔تو

اسطرح 35تا40کروڑ رشوت لازماً فی ضلع وصول ہو جائے گی پھر ان حرام رقوم کی بندر بانٹ اپنے پکے اصولوں کے مطابق نیچے سے لیکر اوپر تک بلا جھجک کرڈالی جائے گی ۔اب کپاس کی فصل کے ایڈوانس سودے بھی ہورہے ہیں بنک خوب سود کما رہے اور سود خور نودولتیوں کو بھاری سرمایہ فراہم کر رہے ہیںکسان بیچارہ گنا اور گندم دو فصلوں کا ڈسا ہوا ہے اب پھر انہی ٹھگوں سے لُٹے گا اس کے لیے ضروری ہے کہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار ازخود نوٹس لیکر کسانوں کی

فصلات کی فروخت کا احسن انتظام کر ڈالیں کپا س کی ساری فصل اگر محکمہ فوڈ محکمہ زراعت اور پاسکو وغیرہ کے ذمہ لگا دیں تو بہتوں کا بھلا ہو جائے گا ہر یونین کونسل میں کم ازکم دو سینٹرز حکومتی کارپردازوں کے کھل جائیں تو دنیا کے غلیظ ترین غیر اسلامی نظام سود کی لعنت سے پاکستان کے کسانوں کی جان چھوٹ جائے گی سود لینے والا دینے والا اور اس معاہدہ میں گواہ بننے والا سبھی جہنمی ہو جاتے ہیں اور سود تو خدا اور اس کے رسول ﷺکے خلاف واضح جنگ کا نام ہے

تقریباً پورا ملک ہی اس انتہائی بڑے گناہ کی زد میں رہتا ہے تو رحمت کے فرشتے کیسے ایسی ناپاک و پلید زمین پر اتر سکتے ہیں کر بھلا ہو بھلا کی طرح موبائل فون کی تقریباً چالیس فیصد رقوم کاٹے جانے کا ازخود نوٹس لیا جا چکا ہے ایک اور ازخودنوٹس لیکر کپاس جو کہ ملک کی بڑی اہم فصل ہے اس کے غریب کا شتکار کسانوں کوبچانے کا سوائے اس کے کوئی حل نہیں کہ یہ ساری فصل حکومت کی طے کردہ قیمت پر حکومتی مراکز پر خود حکومتی ملازمین نقد قیمت پرخریدیںاسی

طرح ازخود نوٹس کے تحت تمام خوردنی ،خورانی فصلوں ،دالوں چاول چنا آلو پیاز لہسن ٹماٹر سبزیاں وغیرہ کی بھی سرکاری خریداری ہو اور صارفین کو کم سے کم قیمت پر دستیاب ہوں اللہ اکبر تحریک تو پہلے ہی تمام کھانے پینے کی چیزوں کو بذریعہ سبسڈی 1/3 قیمت پر عوام کو سپلائی کرنے کا عہد کیے ہوئے ہے وہ تو ہر قسم کا تیل بھی نصف قیمت پرعوام کو دینے کے وعدے کی پابند ہے اس طرح سے سرکاری خریداری کی وجہ سے ٹھگوں لٹیروںاور سودی کاروبار کرنے والے افراد

کی جان چھوٹ جائے گی تو خدائے عز وجل بھی خصوصی رحم فرمائیں گے اگر ایسا نہ کیا جا سکاتو پھر کسانوں کے جگ رتوں اور محنتوں کا صلہ صرف اٹھائی گیر سود خور طبقات مسلسل اٹھاتے رہیں گے یہی وہ واحد وجہ ہے کہ کسان اپنی زمینوں کو رہائشی سکیموں کے تحت فروخت کرکے شہروں میں شفٹ ہوتے جارہے ہیں جس سے قحط کے خطرات بڑھ رہے ہیں اوریہ ملک بھر میںزراعت کی تباہی کا موجب بھی بنے گاکہ فصلیں تو کسان بوئیں اور فصلوں کے آتے ہی لٹیرے انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لیے پہنچ جائیں۔وما علینا الا البلاغ