Web
Analytics
مسجد نبوی کے دفاع میں بینائی کھونے والاسپاہی – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / مسجد نبوی کے دفاع میں بینائی کھونے والاسپاہی

مسجد نبوی کے دفاع میں بینائی کھونے والاسپاہی

سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے بہا قربانیاں دی ہیں۔ دسیوں سپاہی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر جام شہادت نوش کرچکے ہیں جب کہ بڑی تعداد میں مختلف واقعات میں زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ایک سعودی سپاہی کی الگ المناک داستان ہے جس کا تذکرہ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں بھی کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہ صیام کے

دوران افطاری کے وقت مسجد نبوی کے قریب ایک داعشی دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں چار روزہ دار سپاہی شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ زخمی ہونے والے سپاہی 25 سالہ حسام بن صالح الصبحی کو جسم میں دیگر حصوں پر گہرے زخم آنے کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی ضائع ہوگئیں۔ یوں حسام نے اپنی آنکھیں اور بینائی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں قربان کردی۔ علاج کے بعد حسام اب گھر تو واپس آگیا ہے مگر اس کی بینائی جا چکی ہے۔ اس نے بتایا کہ ماہ صیام کے آخری عشرے میں وہ چار دوسرے سپاہیوں ھانی الصبحی،عبدالمجید الحربی، محمد المولد اور عبدالرحمان الجھنی کے ہمراہ افطاری کررہے تھے کہ اس دوران ایک اجنبی شخص ایک کارٹن اٹھائے ان کے قریب آیا اور ان سے مسجد نبوی کے بارے میں راستہ معلوم کیا۔ پہلے ان سب نے سمجھا کہ یہ متعمرین کو افطاری کرانا چاہتا ہے۔ مگر جب اس نے پوچھا کہ مسجد نبوی کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے تو انہیں شبہ ہوا کیونکہ وہ تو مسجد نبوی ہی کے قریب کھڑا تھا۔ اس سے قبل کی سیکیورٹی اہلکار اسے قابو کرتے دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں چار سپاہی موقع پر ہی شہید ہوگئے جب کہ حسام بن صالح شدید زخمی ہوا۔ اس مدینہ منورہ کے اسپتال میں لے جایا گیا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ریاض کے سیکیورٹی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ حسام کئی ماہ تک اس اسپتال میں زیرعلاج رہا۔ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی سیکیورٹی پر تعیناتی

سے قبل وہ مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں واقع مشہور تاریخی مقام بدر گورنری میں بھی خدمات انجام دے چکا ہے۔حسام بن صالح الصبحی کئی ماہ تک ریاض میں زیرعلاج رہنے کے بعد اب گھر واپس آچکا ہے۔ اس کے والدہ صالح الصبحی کا کہنا ہے کہ اللہ نے ان کے بیٹے کو صحت یا کرکے ان پر ایک نیا احسان کیا ہے۔ وہ پروردگار سے اس کی کھوئی ہوئی بینائی کی واپسی کے لیے بھی دعا گو ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے مقدس مقامات اور

وطن عزیز کے لیے قربانی دی۔ اس کی آنکھوں کی بینائی دفاع مسجد نبوی اور وطن عزیز کے دفاع میں ضائع ہوئی ہے۔ اس لیے وہ خوش ہیں کہ ان کے بیٹے کو اللہ نے ایک عظیم مقام کے دفاع میں اپنی آنکھوں کو قربان کرنے کے لیے چنا ہے۔