Web
Analytics
پاکستانی سیاست کا لنڈا بازار! افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / پاکستانی سیاست کا لنڈا بازار! افتخار بھٹہ

پاکستانی سیاست کا لنڈا بازار! افتخار بھٹہ

پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ بکنے والا نسخہ حب الوطنی اور غداری ہے پاکستان کے قیام میں مسلم لیگ کا اہم کردار ہے اور آج بھی مختلف حوالوں ضروریات اور مفادات کیلئے قائم کی گئی مسلم لیگیں خود کو پاکستان کے اقتدار کا اہل اور جائز وارث قرار دیتی ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی میں اگر طلحہٰ سازش کیس سے پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے والے ایوب خان اور یحییٰ خان محب وطن رہتے ہیں مگر

ایک زرا سی بات اگر ادھر اور ہم اُدھر کہنے والا ذوالفقار علی بھٹو غدار ہو جاتا ہے حسین سہر وردی کو بھی غدار کا لقب دیا گیا ، بے نظیر بھٹو کو سوشل سیکیورٹی رسک قرار دینے کے ساتھ رجیو گاندھی کا دوست قرار دیا گیا ، پاکستان کی تین دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں نواز شریف کے نام کو محب الوطنی کے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے جبکہ اس دوران بے نظیر بھٹو شہید کو سیکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا ہم دیکھتے ہیں کہ مقتدرہ اداروں نے مسلم لیگ کے برانڈ کو بہتر طریقے سے استعمال کیا ہے اور یہ کبھی بھی پرانا نہیں ہوتا بلکہ مختلف لاحقوں کے ساتھ زندہ کر دیا جاتا ہے جس میں سیاست دان جن کی عمریں 26سال سے 80سال تک ہیں وہ پاور شیئرنگ کرتے ہیں اس طرح کوئی سیاست دان سیکنڈ ہینڈ نہیں ہوتا ہے ہمارے پاکستان میں سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کا کاروبار خوب زور شور سے ہوتا ہے جو نئی گاڑیوں کی نسبت کئی زیادہ ہے، افغان تجارت کے ذریعے پاکستان میں لا تعداد ماڈل کی گاڑیاں دستیاب ہیں اسی طرح سیاست کے لنڈا بازار میں بھی کئی سیاست دان موجود ہیں جو کہ اپنے مفادات کی خاطر مختلف جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں یا خفیہ اشارے سے پارٹیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں مگر کبھی پرانے نہیں ہوتے ہیں پاکستان میں لنڈے کا کاروبار کپڑوں گاڑیوں کے سپیئر پارٹس، الیکٹرانک کے سامان پرانے کپڑوں سے لیکر سیاسی امور پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ اگر ہمارے امیر طبقات گاڑی دور کھڑی کر کے لنڈے میں داخل ہو کر اپنی خریداری کرتے

ہیں اپنے اس تمام کام کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پاکستان کے سیاسی میدان میں یہ دھندہ کھلے عام کیا جاتا ہے ۔یاد رہے سیکنڈ ہینڈ گاڑی تو فی الحقیقت لنڈے کی گاڑی ہی ہوتی ہے اور یہ امیر لوگوں کا بھرم قائم رکھنے کے کام آتی ہے لنڈے کے گاڑیوں کا سیزن سارا سال نہیں ہوتا ہے بلکہ لوگ شادیوں اور مذہبی تہواروں یا بچت ہونے پر گاڑیاں تبدیل کرتے ہیں لنڈے کے کپڑوں کا بھی ایک سیزن ہوتا ہے سردیوں میں غریب لوگ لنڈے سے گرم کپڑے خرید کر ٹھنڈے موسم سے بچائو

کرتے ہیں سفید پوش لوگ وہاں سے واسکٹیں خرید کر خود کو معزز بنانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح انتخابات کے نزدیک بھی علاقے کے ووٹ بینک رکھنے والے ایلکٹ ایبل کا موسم ہوتا ہے اور جن کا نعرہ قوم کی خدمت ہوتا ہے جبکہ ان کے فلسفہ کے پیچھے سوشل سائنسز کے علوم کی روایات کھڑی ہیں ان روایات نے کئی روایات کو جنم دیا ہے بات نظریہ کی ہو تو اس کا مقصد کمیٹمنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے کہ انسان عوامی فلاح و بہبود کی خاطر نظریات کی پاسداری کرے اور عوام

میں شعوری سطح کو بلند کرنے کیلئے کوشش کرے یا سماجی اور اقتصادی نظام کو قائم کرنے کیلئے جدو جہد کرے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کے بعد سیاسی نظریات زوال پذیر ہوئے ہیں ۔نظریات کا دعویٰ کرنے والی پارٹیوں نے نظریات بیچ کر مفادات حاصل کیے ہیں ،جمہوریت ایک کاروبار بن چکی ہے وہاں پر بھی کئی بازار قائم ہیں جو کہ حب الوطنی نظریات اور قدامت پسندانہ نظریات کا کاروبا ر کرتی ہیں جس کی مثال مولانا فضل الرحمن ہیں جو کہ ہمیشہ

اقتدار کے ایوانوں سے قریب رہے ہیں اور اب انہوں نے پانچ سال مسلم لیگ ن کی حکومت میں رہنے اور مراعات حاصل کرنے کے ساتھ خود کو علیحدہ کر لیا ہے اور اب کسی اقتدار میں آنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیںتا کہ اقتدار کے حصول کا حدف حاصل کیا جا سکے۔ہمارے جمہوریت کے بازار میں ایک لنڈا بازار با اثر الیکشن لڑنے والے افراد کا تعلق رکھتا ہے جن کا علاقے میں ووٹ بنک اور برادری کی حمایت حاصل ہوتی ہے یہ سیکنڈ ہینڈ چنیدہ لوگ پارٹیاں

بدلتے رہتے ہیں ان میں سے کئی نے کتنی پارٹیاں تبدیل کی ہیں کہ ان کی تعداد کا حساب رکھنا ممکن نہیں ہے 1977ء میں پیپلز پارٹی میں تمام جاگیر دار وڈیرے اور سرمایہ دار شامل ہو گئے تھے اور پارٹی کا ٹکٹ حاصل کیا تھا اس وقت انہوں نے ماضی کے نظریات سے منہ موڑ لیا تھا اس کے بعد مسلم لیگ ق نے بھی اسی قبیل کے لوگ شامل ہوئے جو کہ بعد میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں شامل ہو کر پارلیمنٹ کے ممبر بن کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور آج ان لوگوں کی سب سے بڑی

خریدار تحریک نصاف ثابت ہوئی ہے جس میں سیکنڈ ہینڈ چنیدہ لوگ روزانہ شامل ہو رہے ہیں ان شمولیتوں کے سیلاب کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے پرانے سیاسی کارکنوں اور راہنمائوں کو ٹکٹ دیا جائے گا یا نہیں یہ ایک بہت بڑا سوال ہے ۔ہمارے ہاں نظریات کی کوئی بات نہیں کرتا ہے بلکہ مفاداتی سیاست ہے جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی جس تیزی کے ساتھ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں تو یہ حدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم تنازعات سامنے آ سکتے ہیں اور

پارٹی کو اپنے ہی کارکنوں کی مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے اسی طرح بڑے سرمایہ دار بھی پارٹیوں کی سیاسی ضرورت رہے ہیں ،سینیٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ ن نے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دے کر کامیاب کروایا ہے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ محض سرمایہ اور ذاتی تعلقات کے بل بوتے پر سینیٹر بن گئے ہیں۔میڈیا کے لوگ بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور اپنی ہمدریاں بدلتے رہتے ہیں ۔اس ساری صورتحال سے معلوم ہوتا ہے پاکستانمیں سیاست کے حوالے سے کوئی شخصی اور اخلاقی حوالے سے کوئی معیار نہیں ہے محض ذاتی مقاصد کا حصول ہے۔آئندہ الیکشن میں نظریات سے عاری اور مفاد پرست اراکین کی تعداد ایوانوں میں زیادہ دیکھائی دے گی۔تو وہ عوامی مفاد میں کون سی قانون سازی کر سکیں گے ۔