Web
Analytics
مشرق وسطی میں ٹرمپ کی وحشتوں کا کھیل ۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / مشرق وسطی میں ٹرمپ کی وحشتوں کا کھیل ۔۔۔ افتخار بھٹہ

مشرق وسطی میں ٹرمپ کی وحشتوں کا کھیل ۔۔۔ افتخار بھٹہ

ٹرمپ کی من مانی اشتعال انگیزیوں میں شائد ہی کوئی کسر رہ گئی ہے اس نے جوش خطابت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر ڈالا ایران پر علاقہ میں تباہ کن اور امن دشمن کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور کہاکہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کیخلاف امریکہ ہتھیار نہیں ڈالے گا جبکہ معاہدے میں شریک دیگر طاقتوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے ایرانی صدر نے کہا کہ اب

ایران دنیا میں تنہا نہیں ہے بلکہ اس کو دنیا کی کئی اہم طاقتوں کی حمایت حاصل ہے لہذا اس کو کسی دھمکی سے ڈرایا نہیں جا سکتا ہے ایران پر 2015میں چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھائی گئی تھیں جس سے ایران کے متعلق بارہ سالہ ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہوا تھا اور ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے پر رضا مندی ظاہر کی اور اس نے آئندہ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دی تھی معاہدے کے تمام شرکاء نے ٹرمپ کو اس محاذ آرائی سے منع کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ اس سے روس اور چین کے علاقے میں اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگاٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اکسانے پر یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے جس میں سعودی عرب اور بعض خلیجی اتحادیوں کی بھی کوششیں شامل ہیں ٹرمپ کے بقول ایران منافقت اور جعل سازی کا مظاہرہ کر رہا ہے ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی یورپی ممالک کو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے سے روکتی رہی ہے امریکی بوئنگ کمپنی کو سابق صدر اوباما نے ایران کے ساتھ تجارتی اجازت دے دی تھی امریکہ اس خود ساختہ علیحدگی اور تنہائی کا فائدہ مشرق وسطی کے کھیل میں ملوث پراکسی وار کرنے والی حکومتیں اٹھائیں گی، سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ نے اپنا مشترکہ دشمن ایران کو قرار دیا ہے معاہدے کے خاتمے کے بعد ایرانی صدر روحانی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بوقت ضرورت یورنیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے، اسرئیل نے

امریکی ٹرمپ نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک دہشت گرد ریاست کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بھرپور حمایت کرتا ہے مشرق وسطی میں پہلے ہی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت سے امن و امان تباہ ہو چکا ہے شام ، یمن ، عراق، اور لیبیا جیسی ریاستیں بکھر چکی ہیں پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی لہر کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے ، پاکستان جس نے دہشت گردی کیخلاف مہم میں ہزاروں افراد کی قربانیاں دی ہیں اس کے بیانیہ پر افغانستان کے موقف کو

ترجیح دی جاتی ہے ۔ ٹرمپ نے اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں پر غور کرنے کی بجائے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا دار الخلافہ منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے سوموار14مئی کو اسرائیل ریاست غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا تو اس وقت امریکی صدر ٹرمپ اس کی بیٹی ، داماد اور دوسری گماشتہ ریاستوں کے سفیروں کے ساتھ مل کر یرو شلم میں امریکی سفارتخانے کا افتتاحی جشن منا رہے تھے، انہیں فلسطینیوں کے بہتے ہوئے خون سے کوئی سرو کار نہیں تھا، سعودی عرب

پہلے ہی فلسطینیوں کو وارننگ دے چکا ہے کہ مظاہرے بند کر کے پر امن ہو جائیں یا نتائج بھگتنے کیلئے تیا ررہیں، 2016کے بعد یہ سوموار فلسطینی تاریخ کا خونی دن تھا منگل کو 62فلسطینیوں کے جنازے اٹھائے گئے پندرہ مئی 1948کو اسرائیل کے قیام کے بعد لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے باہر نکال دیا گیا ستر سال بعد بھی ان کے مکانات کو مسمار کرنے اور گرانے کا سلسلہ جاری ہے پچھلے کئی ہفتوں سے فلسطینی احتجاج کر رہے ہیں اور اپنے علاقوں میں واپسی کا حق مانگ

رہے ہیں، 30مارچ کو ان مظاہروں کے آغاز کے بعد اسرائیلی ریاست 114فلسطینیوں کا قتل اور12ہزار کو زخمی کر چکی ہے اسرائیل کی وزیر دفاع کے بقول غزہ میں کوئی بھی بے گناہ اور معصوم نہیں ہے امریکہ اور اس کے قریبی ساتھی حسب روایات قتل کی مذمت کر رہے ہیں ترقی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے ہیں، عربوں کی طرف سے عرب اسرائیلی تنازعے کی لفاظی بھی دم توڑ چکی ہے کئی عرب ریاستیں اسرائیل کو تسلیم کر چکی ہیں بلکہ کئی درپردہ معاہدے بھی

کیے ہیں ۔ماضی میں جب سووت یونین قائم تھا اس کے ایران، عراق، شام لیبیا اور یمن کے حکمرانوں کے ساتھ گہرے تعلق تھے اس طرح بائیں بازو کی تنظیمیں بھی اسرائیل کیخلاف فائل تھیں 60اور70کی دہائیوں میں اسرائیل کے ساتھ جنگیں بھی ہوئیں1980کی دہائی میں مسلح جدو جہد تھکاوٹ کا شکار ہو گئی ، جس نے سووویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی تھا، ان حالات میں یاسر عرفات نے پی ایل او کی قیادت میں مذاکرات کا راستہ اختیار کیا مگر مذاکرات کہاں فلسطینیوں کو آزادی دلا

سکتے تھے۔ تنازعہ کے حل کی مصالحتی کوششیں فلسطینی قیادت کو 1988میں غیر معمولی مصالحت کی طرف لے گئی ان معاہدوں کے تحت 1948ء میں جغرافیائی خدود میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا گیا ۔جس کے بدلے فلسطینی زمین کے ایک چوتھائی حصے پر فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا ، دستاویزات پر دستخط ہوئے لیکن امن قائم نہیں ہوا فلسطینی علاقوں مزید ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا غزہ کو دنیا کے بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اوباما انتظامیہ نے جاتے جاتے امن کے

اشارے دیے لیکن ٹرمپ فلسطینیوں کیخلاف شدید نفرت انگیز جذبات رکھتا ہے اسرائیلی فوج کی موجودگی کیلئے لفظ قبضہ کا استعمال ترک کر دیا گیا فلسطینیوں کی امداد میں تیزی سے کمی کی جا رہی ہے ، ایک طرف اسرائیل کے ظلم و ستم تو دوسری طرف غربت بیروز گاری اور محرومیوں کے عذاب ہیں ستر سال سے جاری فلسطینیوں کی جدو جہد کو کوئی روک نہیں سکا ہے فلسطینیوں کی نئی نسل کے آزادے کے بارے میں جذبات ایک بلند شعور عکاسی کی نشاندہی کرتے ہیں عرب ریاستوں اور

مسلم امہ کی حمایت محض سراب ثابت ہوئی ہوئی محکوم فلسطینیوں کو خود جدو جہد کرنا ہوگی اور اس کے ساتھ مشرق وسطی کے محنت کش طبقات کے ساتھ جوڑنا ہوگا ، یہ اتحاد یہ تمام مذہبی قومی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو ہٹا سکتا ہے جو کہ حکمران طبقات کا سب سے بڑا اوزار ہے۔