Web
Analytics
میدان محشر میں سکون و اطمینان – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / میدان محشر میں سکون و اطمینان

میدان محشر میں سکون و اطمینان

شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے خواب میں دیکھا کہ روز محشر برپا ہے‘ مخلوق خدا ایک بہت بڑے میدان میں اکٹھی ہے‘ ہر شخص بدحواس ہے‘ بدحال ہے‘ سورج کی حرارت آگ کی طرح زمین پر برس رہی ہے اور دھوپ کی شدت سے دماغ پگھلتے جا رہے ہیں‘ دور دور تک سایہ ندارد ہے البتہ اس میدان حشر میں ایک شخص سب سے الگ تھلگ اطمینان سے سائے میں بیٹھا ہے۔خواب دیکھنے والا تعجب کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس خوش نصیب انسان سے اس عالم ہیبت میں اتنے سکون و اطمینان کی وجہ دریافت کرنے اس کے پاس پہنچ جاتا ہےاور پوچھتا ہے کہاے

بانصیب انسان! یہ تو بتا کہ وہ کیا نیکی تھی جس کے معاصلے میں خدا نے اپنی رحمت سے تجھے یہ سایہ بخشا جبکہ یہاں ہر کوئی دہائی دیتا پھر رہا ہے اور اس کی کچھ شنوائی نہیں ہے‘‘۔اس نے جواب دیا ’’مجھے تو اپنی ایک ہی نیکی یاد آتی ہے کہ میں نے اپنے گھر کے باہر انگور لگا رکھے تھے‘ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بزرگ شخص وہاں آئے اور اس انگور کی بیل کے سائے میں بیٹھ گئے‘ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے آج کے دن یہ آرام اسی نیکی کے عوض ملا ہے‘ شاید اس بزرگ شخصیت نے مجھے دعا کی صورت میں یہ خزانہ بخشا ہو کہ میں آج اس سکون سے بیٹھا ہوں۔