Web
Analytics
اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے! افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے! افتخار بھٹہ

اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے! افتخار بھٹہ

آج کا کالم پاکستان میں دو جمہوری حکومتوں کے خاتمہ کے بعد پر امن اقتدار کی منتقلی کے نام ہے تاریخ کا ایک باب غلط فہمیوں دھرنوں محاذ آرائیوں ، تہمتوں اور الزامات کے ساتھ بند ہو رہا ہے آئندہ 25جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات کیلئے عبوری حکومتوں کے قیام کا عمل جاری ہے 2008کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے وفاق میں مخلوط حکومت قائم کی آصف علی زرداری نے مفاہمت کی سیاست کے

ذریعے تمام اسٹیک ہولڈر ز کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی صوبہ سرحد کے پختونوں کو صوبہ پختون خواہ کا نام دے کر شناخت دی گئی 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری اور قومی ایوارڈ کی تقسیم کے معاملات کو طے کیا گیا جسے صوبوں اور وفاق کے تعلقات میںبہتری آئی زرداری حکومت کو افتخار چوہدری کے عدالتی ایکٹویزم سے بہت نقصان پہنچا اور حکومت کو آزادانہ فیصلے کرنے سے روک دیا گیا سوئیز لینڈ کی حکومت کو خط نہ لکھنے کی سزا کے طور پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بر طرف کر دیا گیا 2008کے انتخابات میں وفاقی سیاست اور قیادت کا تصور کمزور ہوا قومی دھارے کی سیاست کرنے والی پارٹیاں اپنے صوبوں تک محدود ہو گئیں بہر صورت زرداری کے عہد میں قانون سازی کی گئی پیپلز پارٹی کی حکومت کو کرپشن کے حوالہ سے میڈیا کی تنقید کا سامنا رہا 2013کے انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن کو پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کی وجہ سے وفاق میں حکومت قائم کرنے میں مدد ملی انتخابات میں 2013میں پیپلز پارٹی کی ناکامی کی وجوہات میں دہشت گردی کے حوالے سے دھمکیاں لوڈ شیڈنگ اور کرپشن کے حوالے سے میڈیا میں پروپیگنڈہ تھا مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت محض صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی زیادہ سیٹیں حاصل کرنے سے قائم ہوئی جبکہ پنجاب میں میاں شہباز شریف نے حکومت بنانے کے ساتھ ہی چین کے ساتھ معاہدے کیے اور سی پیک کے ذریعے پنجاب میں بجلی گھر اورنج ٹرین

تعمیر کی نئے بجلی کے کار خانے قائم ہونے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملی کے الگ بات ہے کہ آج بلوچستان اور سندھ میں بارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ صوبہ پختونخواہ اور پنجاب میں کم لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے مسلم لیگ کی حکومت کا ٹارگٹ شاہرائوں موٹر ویز اور اوور ہیڈ کی تعمیرات رہا ہے اور آج وہ اسی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے حالانکہ آج بھی دیکھیں گجرات سے گوجرانوالہ اور وزیر آباد سے سیالکوٹ جانے والی سڑکیں

ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں یہی حالت پنجاب کے دیگر اضلاع کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام تعمیراتی کام صرف پنجاب میں 68فیصد خرچ کر کے کیا گیا ہے اس ترقی کے پس منظر میں وہ بھاری قرضہ جات ہیں جو گزشتہ65سال میں لیے جانے قرضوں سے دگنے ہیں عمران خان نے اسلام آباد میں تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا اپوزیشن بالکل بالخصوص پیپلز پارٹی کے تعاون سے جمہوری حکومت کو ٹھیس نہ پہنچی یہ سب پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بدولت ہوا حالانکہ میاں نواز

شریف اور عمران خان کی حاضری اسمبلی میں پانچ فیصد سے زیادہ نہیں رہی پانامہ لیکس سے عدالت اور عوام میں سزائیں کاروائیوں اور اداروں کے درمیان محاذ آرائی کا عمل جاری رہا کچھ لوگوںکے نزدیک جمہوریت کے نام پر باد شاہت سے جان چھوٹ رہی ہے 2013کے انتخابی نتائج بھی1970کی طرح خطرناک تھے کیوں کہ اس میں ایک پارٹی کو بڑے صوبے میں اکثریت کی بنیاد پر اقتدار مل رہا تھا اس طرح میاں نواز شریف کی حکومت وفاقی نہیں صوبائیت کا تصور اجاگر

کرتی تھی میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم کبھی دوسرے صوبوں کے ترقیاتی یا سماجی پروگراموں میں دلچسپی نہیں لی تھی خطہ کے دہشت گردی کے حوالے سے آنے والے آخراجات کی بھی سندھ حکومت کو ادائیگی نہیں کی تھی۔ کراچی اور لاہور کے حالات و واقعات اور ترقی کا موازانہ کرتے ہوئے کراچی کے نسلی لسانی اور انتظامی مسائل کو نظر انداز کر دیا تھا آئندہ اقتدار کا فیصلہ بھی پنجاب میں زیادہ قومی اسمبلی میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو وفاق

میں اقتدار ملے گا جس کا صوبہ سندھ اور بلوچستان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اس طرح چاروں صوبوں میں 2013کی طرح علیحدہ علیحدہ حکومتیں ہونگی، معاشرہ مزید تقسیم ہوگا ۔آج2013کے تمام سیاسی فاتح رخصت ہو چکے ہیں صوبہ پختون خواہ میں فاٹا کے ادغام کی مخالفت کرنے والے مولانا فضل الرحمان اب نئی سیاسی صف بندی متحدہ مجلس عمل میں کر رہے ہیں جبکہ محمود خان اچکزئی کی رگ ابھی گریٹر پختونخواہ کے قیام پر پھڑکتی ہے وہ کسی نسل پرستی کے نئے اتحاد

کے قیام کے بارے سوچ رہے ہیں آج ملک میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے یہ بات اتنی درست نہیں کیونکہ ہر جماعت اور قیادت کا اپنا مفادات کے اہداف میں ایک نظریہ ہوتا ہے عمران خان اور میاں نواز شریف مارکیٹ اکانومی کی سیاست کے حامی ہیں وہ سرمایہ کاری اور صنعت کاری کے ذریعے معشیت کا ابھار اور کاروبار پیدا کرنا چاہتے ہیں، یہ الگ بات ہے مسلم لیگ ن کو ماہرین کی موجودگی کے باوجود معاشی اور سیاسی محا ذ پر کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے جبکہ ملک

کی کسی حکومت کی پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کی طرف توجہ نہیں ہے آج آبپاشی کا پانی ساٹھ فیصد پانی کھیتوں میں پہنچنے سے پہلے ضائع ہو رہا ہے بجلی کی پیدا وار میں اضافہ کے باوجود لائن لاسز اور بجلی کی چوری میں کمی نہیں ہوئی ہے ہماری قیادت مینجمنٹ پرابلم سے دو چار ہے یہی وجہ ہے انہیں قابل عمل فیصلے کرنے میں رکاوٹ ہو رہی ہے جس کی مثال عمران خان کی ہے جو کہ اپنے فیصلوں کے بارے میں سوشل میڈیا سے مدد لیتا ہے جس کا اظہار صوبہ پختونخواہ

اور صوبہ پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کی تعیناتی کے بارے میں ہوا ہے مسلم لیگ ن کے ماہرین معیشت اور سیاست نے ملک کا جو حال کر دیا ہے سب کے سامنے ہے عمران خان کی پالیسیوں اور فیصلوں میں استحکام نہیں ہے ،وقت آ گیا ہے کہ عوام صوبوں اور وفاق میں2018کے انتخابات کرواتے ہیں ,وزیر اعظموں کی عدالتی فیصلوں میں برطرفی کے باوجود پارٹیوں نے عرصہ اقتدار مکمل کیا ہے حکومت نے فاٹا کے صوبہ پختون خواہ میں ادغام کا تاریخی کار نامہ

سر انجام دیا ہے مسلم لیگ کی حکومت کے دوران سماجی سطح پر کئی غیر خلاقی حرکات سامنے آئی ہیں قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتیاں فرقہ واریت میں اضافہ جنوبی پنجاب میں جاگیر داروں کی طرف سے ساڑھے چار سال تک اقتدار کے مزے لینے تک نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ جس کی پذیرائی تحریک انصاف کر رہی ہے مسلم لیگ ن کی حکومت نے دو تہائی اکثریت کے باوجود عوام کے عدم تحفظ کو دور نہیں کیا ہے معیشت میں بہتری نہیں آئی ہے، پی آئی اے اور سٹیل ملز

برباد ہو چکی ہے پنجاب میں کمپنیوں کے سکینڈل سامنے آ رہے ہیں آخری ڈیڑھ سال میں میاں نواز شریف نے اداروں کے ساتھ کھلے تصادم کی صورتحال برپا کی ہے مسلم لیگ کا متبادل کون ہے پہلے پیپلز پارٹی تھی آج عمران خان سامنے آ چکے ہیں پارٹیاں بدلنے والے بنی گالہ کا رخ کر رہے ہیں ، تمام سیاسی جماعتیں ان سیاسی مہاجروں کی شمولیت سے ہمیشہ گھاٹے میں رہی ہیں پنجاب میں پی ٹی آئی کا مسلم لیگ ن کے ساتھ سخت مقابلہ ہوگا اور میاں نواز شریف کے بیانیہ کا

امتحان ہوگا ۔یہ بات قابل غور ہے اٹک راولپنڈی، میاں والی، راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ووٹرز نے ہمیشہ عسکری قیادت کی گود میں پلنے والے راہنمائوں کی حمایت کی ہے جس کا ثبوت بے نظیر بھٹو کی لیاقت باغ میں قتل ہے جس کے باوجود پیپلز پارٹی 2008سے ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اب میاں نواز شریف کا بیانیہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اس بیانیہ کی موجودگی میں وہ کیسے ان علاقوں میں کامیابی حاصل کرے گا یہ بہت بڑا سوال ہے میاں صاحب کا

موجودہ بیانیہ مزاحمت کا ہے جس کے لیے سر فروشوں کی ٹیم کی ضرورت ہوت ہے یہ بیانیہ انقلاب کا ہے جو بیلٹ سے ہو کر بلٹ سے گزرتا ہے دوسری پارٹیاں بیانیہ کے بحران سے دو چار ہیں ساری پارٹیوں کی کوشش ہے مسلم لیگ ن سے پنجاب میں اکثریت چھین لی جائے پی پی پی کو سندھ میں کوئی چیلنج نہیں ہے اور وہ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے فائدہ اٹھائے گی، پختونخواہ اور بلوچستان سے سیٹیں نکال سکتی ہے، جبکہ پنجاب میں اس کو بمشکل دس نشستیں حاصل

ہو سکتی ہیں انتخابات کے بعد کچھ آزاد امید وار بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں آنے والی نئی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت کی بحالی خارجہ پالیسی اور پانی کا بحران ہے بد قسمتی سے کسی جماعت کے پاس ماہرین موجود نہیں ہے جو کہ اپنے روڈ میپ سے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لے جا سکتی ہو نہ ہی کوئی ایسی دستاویز رائے ونڈ نہ بلاول ہائوس اور نہ بنی گالہ سے آئی ہے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے کوئی لیڈر شپ دستیاب نہیں ہے یہی وجہ ہے چاروں صوبوں کے لوگ اپنی قیادت کس کو سونپے آج ہم کبھی چیف جسٹس اور کبھی آرمی چیف سے امیدیں باندھے ہوئے ہیں