Web
Analytics
کالا باغ ڈیم واحد راستہ ۔۔۔راجہ طاہر محمود – Lahore TV Blogs
Home / کالم / کالا باغ ڈیم واحد راستہ ۔۔۔راجہ طاہر محمود

کالا باغ ڈیم واحد راستہ ۔۔۔راجہ طاہر محمود

آج کل کالا باغ ڈیم کے حوالے سے جو بحث سوشل میڈیا پر بڑے زور و شور سے چل رہی ہے اس کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں کیوں کہ کالا باغ ڈیم وہ واحد منصوبہ ہو گا جو ہماری پیاس بجھانے کا سب سے موثر ترین زریعہ ہو گا کالا باغ ڈیم میں پاکستان کی ترقی و کامرانی پوشیدہ ہے یہ منصوبہ سی پیک سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے حالیہ دنوں میں جس طرح بھارت آبی جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے اس سے

تو پاکستان میں اگلے دس بیس سالوں میں پانی کی شدید کمی ہونے کا خدشہ ہے اور شاید ہم ہماری زمینیں اور ہماری آنے والی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں اس لئے ضروری ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے لئے اپنی آواز بلند رکریں کالا باغ ڈیم ناصرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ پاکستانی کی آنے والی نسلوں کی بقا ء بھی اسی میں ہے لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا اس کے سواء پاکستان کے پاس دوسرا راستہ نہیں جو لوگ اس کو اپنی لاشوں پر بنوانے کی بات کرتے ہیں حقیقت میں وہ لوگ پاکستان کے مخالف ہیں اور انھیں پتا ہے کہ اگر عوامی افادیت کا یہ منصوبہ بن گیا تو ان کی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے گی سو وہ اپنی تھوڑی سی سیاست کے لئے پاکستان کو قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس منصوبے نے برحال ہر صورت میں تعمیر ہونا ہے جو سیاست دان اپنی سیاست کے لئے اس کو استعمال کر رہے ہیں وہ تو نہیں رہیں گے البتہ ریاست پاکستان نے یا قیامت قائم رہنا ہے سابق ادوار میں اس کے لئے جتنی بھی منصوبہ بندی کی گئی وہ سب کے سامنے ہے لیکن کوئی بھی اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا اگر کوئی بھی حاکم اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیتا تو وہ عوام میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا لیکن شاید ان لوگوں کے ہاتھوں سے خدا تعالیٰ نے یہ نیکی لکھی ہی نہیں اب کی بار نوجوانوں نے اس عظیم منصوبے کے لئے آواز بلند کی ہے سو مجھے یقین ہے کہ اب یہ منصوبہ ضرور بنے

گااس منصوبے کی اہمیت کو سمجھنے سے پہلے میں چاہوںگا کہ سندھ طاس پر بات کی جائے تاککہ سب کو سمجھ آ سکے کہ پانی کو کیوں زندگی کہا جاتا ہے سندھ طاس پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا وہ عظیم معاہدہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ملک پانی کی لڑائی سے محفوظ ہو گئے تھے قیام پاکستان کے بعد جب پاکستان میں بہنے والی نہروں کے ہیڈورکس برطانوی سازش کا شکار ہوتے ہوئے بھارت میں چھوڑ دیے گئے تو اس وقت یہ مسئلہ اٹھا کہ جب بھی بھارت

کا دل چاہتا وہ پانی بند کر دیتا اور جب جی چاہتا پانی چھوڑکر آبی جارحیت کر لیتاجس سے پاکستان میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو جاتی اور فصلوں کو نقصان ہوتا بھارت کی اس چال سے پاکستان کو سخت تشویش تھی جس بنا پر پاکستان اس معاملے کو عالمی فورم پر لے گیا اور یوں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا وہ عظیم معاہدہ وجود میں آیا جسے لوگ سندھ طاس کے نام سے جانتے ہیں اس کی رو سے تین دریائوں بیاس ستلج اور راوی کا پانی بھارت کو جبکہ تین دریائوں

جہلم ،سند ھ اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا اس وقت اس معاہدے کو امن کی ضمانت سمجھا جانے لگا اور ایک بڑے معاملے کو جس طرح مذاکرات کی میز پر حل کیا گیا اس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پاکستان اور بھارت بہت جلد اپنے دیگر تنازعات بھی حل کر لیں گے پانی چونکہ کسی بھی ملکی کی زراعت کے لئے ضروری ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں زرعی ملک ہیں جن کی معیشت کا سارا دارو مدار زراعت پر ہے اور دونوں ملکوں کی ایک بڑی آبادی زراعت

سے بلواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے اور پنا روز گار اس زراعت سے کماتی ہے اس لئے دونوں ملکوں کی عوام پانی کی اہمیت کو خوب جانتی ہیں اب جبکہ دنیا آگے جا رہی بھارت اپنی عوام کی ترقی کو روک کر پاکستان دشمنی میں کہیں آگے جا نا چاہتا ہے اس کے لئے اس کی پہلی ترجیح اپنی بھوکی مرتی عوام نہیں بلکہ پاکستان دشمنی ہےبھارت دریائے نیلم کے پانی پر 330میگاواٹ کا کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850میگاواٹ پن بجلی منصوبہ بنا چکا ہے جس پر تنازعہ

پیدا ہوا اس تنازعہ کے حل کے لئے بھارت نے ورلڈ بینک سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ پاکستان نے بھی چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی اب جبکہ اس کا فیصلہ بھارت کے حق میں آیا ہے اور ہمارے ہی لوگوں نے مذاکرات کی میز پر اپنے دنیاوی فائدے کے لئے خود ہی جیتی ہوئی بازی ہارکر بھارت کو جیت کا سہرااپنے غدار ہاتھوں سے پہنایا ہے بلا شبہ ایسے غداروں کو تاریخ معاف نہیں کرئے گی وہ اس دنیا میں بھی اور

آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے بھارت کے پاکستان کے بارے میں عزائم واضح طور پر اور آن دی ریکارڈ موجود ہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ہم اپنے دریائوں کا پانی پاکستان کو نہیں دیں گے ہم پاکستان کو صحرا بنا دیں گے ان بیانات کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے تھا اور پاکستان کو یہ بیان اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہے تھا تاکہ عالمی دنیا کو معلوم ہو سکے کہ بھارت پاکستان کے بارے میں کیسے عزائم رکھتا ہے پاکستان کو اس ضمن میں فوری طور پر ماہرین کا

اجلاس طلب کرکے عالمی بینک کے موقف کی روشنی میں معاہدے پر غور و خوض کرنا چاہیے تھا لیکن ہمیں شاید اپنے اقتدار سے فرصت ملے تب نہ ہم ایک دوسرے کی ٹانگوں کو کھینچ رہے ہیں اور جو اقتدار میں ہیں وہ بھارت دوستی کا ڈنڈھورا پیٹ رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت ہماری ازلی دشمن ہے اور وہ کھبی بھی پاکستان کے مفادات کو نہیں دیکھے گا بلکہ وہ ہر بار یہی سوچ لیکر آئے گا کھ کیسے پاکستان کو زیر کیا جا سکتا ہے مجھے بڑی خوشی ہے کہ نوجوانوں نے

پانی کی شدید کمی کے مسئلے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس کے لئے باقاعدہ طور پر ایک کمپین چلائی ہے جو کو بڑی بھر پور پزیرائی ملی ہے اور میں پاکستان بھر کے کالم نگاروں سے یہ درخواست کروں گا کہ خدا را آپ کی قلم میں اللہ تعالیٰ نے بڑی طاقت رکھی ہے اس طاقت کو برو ئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی آنے والی نسلوں کو برباد ہونے سے بچائیں پاکستان کے لوگوں کو یہ بتائیں کہ کالا باغ ایک منصوبہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کی بقاء ہماری نسلوں کی بقاء ہے میں

پاکستان کی بڑی صحافتی تنظیموں اور پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے تمام نمائندوں سے بھی گزارش کروں گا کہ اب یہ ملک مذید پیاس برداشت نہیں کر سکتا آپ لوگ اہل قلم ہو آپ کا حق زیادہ ہے کہ آپ اس ملک کے لئے آوزاٹھائو آپ کی آواز جمہور کی آواز بنے اور وہ تمام بے بنیاد خدشات ختم کرنے میں آپ اپنا کردار ادا کرو اور اگر آپ لوگوں کی یہ قربانی قبول ہو گئی تو تا قیامت پاکستان کو کوئی طاقت زیر نہیں کر سکے گی۔rajatahirmahmood786@gmail.com