Web
Analytics
سوشل میڈیا کا سماجیت اور سیاست کے ابھار میں کردار! افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / سوشل میڈیا کا سماجیت اور سیاست کے ابھار میں کردار! افتخار بھٹہ

سوشل میڈیا کا سماجیت اور سیاست کے ابھار میں کردار! افتخار بھٹہ

پاکستان میں انتخابات کیلئے تبلے جنگ بج چکا ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کی وجہ سے آ گاہی کیلئے عوامی رابطہ مہم کے طریقہ کار میں تبدیلی آ چکی ہے کہاں ماضی میں ووٹر سے تعارف اور ووٹ مانگنے کیلئے ڈور ٹو ڈور جایا کرتا تھا ڈھول کے ساتھ منادی کی جاتی تھی ٹانگوں جیپوں اور کاروں پر لائوڈ سپیکر لگا کر گلی گلی گھوما جاتا تھا جس میں الیکشن لڑنے والے امید وار کی اور پارٹی کے بارے میں

لوگوں کو بتایا جاتا تھا اشتہارات تقسیم اور درباروں پر چسپا کیے جاتے تھے اخبارات کے صوفی نمبر نکالے جاتے تھے مگر اس سارے طریقہ کار سے عوام سے رابطہ کرنے میں حاصہ وقت لگ جاتا تھا آج ہم ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پر اطلاع اور خبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک پہنچ جاتی ہے پہلے یہ کام ریڈیو اور ٹی وی چینلز ادا کرتے تھے جن پر مالکان یا سرکاری کنٹرول ہوتا تھا مگر اب یہ تمام سہولیات موبائل فونز میں انٹر نیٹ سے دستیاب ہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا آن کھڑا ہوا ہے جہاں پر ہر کسی کو اپنی بات کہنے اور دوسروں تک پہنچانے کی آزادی ہے لوگ جعلی انفارمیشن اور خبریں فاروڈ کرتے ہیں یہی صورتحال ٹی وی چینلز کے حوالے سے جو کہ پہلے خبر دے کر خود کو سب سے زیادہ با خبر ہونے کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی مثال گھنٹے میں کئی بار بریکنگ نیوز کی صورت میں آ رہا ہے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کچھ تحفظات اور قوانین لاگو ہوتے ہیں مگر سوشل میڈیا میں ایسا کچھ نہیں ہے یہ آگ کا خطر ناک کھیل ہے اس کی لپیٹ میں کوئی بھی آ سکتا ہے جھوٹی خبروں کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے اسے اندر ڈالنا ممکن نہیں ہے پوشیدہ اور خفیہ سازشی کہانیاں پل بھر میں سامنے آ جاتی ہیں جس میں معروف اور غیر معروف لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ہمیں موبائل پر روزانہ سینکڑوں پیغامات اور خبریں موصول ہوتی ہیں کہیں پر اخبارات میں

چھپنے والی خبروں کو مرچ مصالے کے ساتھ فارورڈ کیا جاتا ہے کہیں پر دوسروں کے کردار پر کیچڑ اچالا جاتا ہے ماضی میں یہ کام انتخابات کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور نصرت بھٹو کے خلاف مختلف تصاویر کی اشاعت کی صورت میں کیا جاتا رہا ہے ، مگر ایسا اب بھی سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے جس کی مثال ریحام خان کی کتاب کے حوالہ سے اظہار خیال ہے جس میں اخلاقیات کی تمام خدود کو پار کر لیا گیا ہے ۔پانامہ لیکس کے بعد میڈیا سیل اور سوشل میڈیا کے

شوقین نوجوانوں کی طرف سے کرپشن کے ایشو کو خاصہ اچھالا گیا جس کے ساتھ اپنی جماعت کی مقبولیت کو لائیکس کے حوالے سے مانپا گیا اور اب کچھ دوست اپنی نیکیاں بڑھانے کیلئے مختلف تصاویر اور تحریروں کو لائیکس کیلئے کہتے ہیں اس حوالے سے بھی عوام میں پارٹی قیادت کی مقبولیت کے معیار کا پیمانہ بنایا جاتا ہے سوشل میڈیا پر یہ مہم عمران خان، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے حوالہ سے جاری ہے کہیں پر ریحام کی کتاب کے بارے میں بتایا جا رہا ہے

کہ اس کی اشاعت سے عمران کی سیاست کو خطرہ ہو سکتا ہے کچھ لوگ اپنی قیادت کو ایماندار اور نیک ثابت کرنے کے عمل میں مصروف ہیں سیاسی وفا داریوں کی تبدیلی کو اچھالا جا رہا ہے ،ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی جنگ کے آخری حملے کیے جا رہے ہیں کہیں پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بحث چھڑ چکی ہے بد ترین جمہوریت کو آمریت سے بہتر قرار دینے کی گردان شروع کر دی گئی ہے لیکن بد قسمتی سے سوشل میڈیا ٹی وی چینلز اور اخبارات کے

کالم میں موجودہ معیشت کی حالت جس میں درآمدات کے دبائو کی وجہ سے تجارتی خسارہ تاریخ کی انتہائی بلندیوں کو چھو رہا ہے پاکستان کے کار خانے مصنوعات کی لاگتی قیمت بڑھنے سے بند ہو رہے ہیں تعلیم اور صحت کو کاروبار بنا لیا گیا ہے ، وہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت بے روز گاری اور جہالت کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کر رہے ہیں میڈیا ہو یا سیاسی جماعتیں عدالتیں ہوں یا سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے دفاتر ہر جگہ امیر حکمران طبقات کے نمائندے اپنا

نقطہ نظر بیان کرتے اور دوسروں میں خامیاں اور نقاص ڈھونڈنے میں مصروف ہیں، میڈیا پر عوام کے وسائل ، حقوق پانی کی فراہمی اور ریاست کی کرپشن کی کوئی بات نہیں کی جاتی ہے بلکہ نظام کیخلاف چلنے والی محنت کشوں کی سر گرمیوں کو نشر نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی محنت کشوں اور کسانوں کے نمائندوں دانشوروں اور عوامی سوچ رکھنے والے ماہر سماجیات اور معیشت کو ٹی وی ٹاکس شو میں بلایا جاتا ہے، پرنٹ سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر یکطرفہ نظریات

کا اظہار ہو رہا ہے وہ انتہائی دائیں بازو کی سرمایہ دارانہ اور رجعت پسندانہ باتیں ہیں جن سے ملک کی ستر فیصد آبادی کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ہمارا علم و فہم ایسی کتابوں تک محدود ہے جن کی تھیوریاں اور فلسفے پرانے ہو چکے ہیں آج ہماری یونیورسٹیوں میں بد قسمتی سے وہی کورس پڑھایا جا رہا ہے جن سے موجودہ عہد کی سماجی معاشی تکنیکی اور سائنسی تبدیلیوں کے تناظر کو سمجھنے میں مدد نہیں مل سکتی ہے یوں بھی پاکستان میں انٹر نیٹ کے بعد کتابوں اور اخبارات کے مطالعہ

کا شوق ختم ہو چکا ہے انٹر نیٹ پر ہمارے نوجوان جو کچھ دیکھنے اور پڑھنے کے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلا تبصرہ ہے ہم میڈیا پر موصول ہونے والی بیشتر معلومات کو سچ اور مستند تصور کر لیتے ہیں بیشتر کہ وہ ہمارے ذاتی حوالے سے کوئی جعلی خبر نہ ہو یہ رجحان پاکستان میں ہیں پوری دنیا میں موجود ہیں، میرے بعض دانشور دوست تاریخی حقائق کو مسخ کرنے والی کتابوں کی معلومات کو درست قرار دیتے ہیں ہم پر اپنا علمی رعب ڈالنے کیلئے ان کا

حوالہ دیتے ہیں یہی صورتحال سوشل میڈیا پر ہے یہاں پر ہمیں فیک نیوز کو درست تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ٹی وی اینکرز بھی اس میں پیچھے نہیں ہیں وہ اپنی اونچی گفتگو کر کے اپنے ٹالکس شو میں موجود تجزیہ نگاروں سے درست قرار دلوانے کی کوشش کرتے ہیں ہم کسی کتاب کا دسواں حصہ پڑھنے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کرتے ہیں ہم آدھی خبر پڑھنے کے عادی ہیں اگر خبر کی درستگی کے بارے میں پوچھے تو کہیں گے انہیں کہیں سے آئی ہے اور یوں ہی فاوروڈ کر دی

ہے کچھ دوست لوگ دوستی کی خاطر انفارمیشن کو لائق کر دیتے ہیں اور اس کے مندرجات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں، کہیں پر جعلی تصاویر کو مختلف واقعات سے منسلک کر کے فاورورڈ کر دیا جاتا ہے حالانکہ ان کا اس سے قریبی تعلق بھی نہیں ہوتا پاکستان کے سیاسی ماحول میں سوشل میڈیا کی وجہ سے آلودگی کی سطح بہت بلند ہے ، ملک کی سیاسی جماعتوں کا تھینک ٹینک پرنٹ الیکٹرانک سوشل میڈیا اور ٹی وی دانشور مخصوص طبقات کی نمائندگی کر رہے ہیں

ابھی تک کسی جماعت کی طرف سے با ضابطہ منشور کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ، سوشل میڈیا سے زیادہ تر تعلق میڈیا کی دس فیصد مڈل کلا س اور امیر طبقات کا ہے جو کہ فیک نیوز فاوروڈ کر کے اپنی اہمیت جو جتانے کی کوشش کرتے ہیں ان طبقات کا مقصد سیاست میں حصہ لے کر صرف اپنی دولت کو بڑھانا ہوتا ہے پاکستان میں موجود سوشل میڈیا کا سماجیت اقتصادیات سیاسیات اور نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ صرف اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں اور ملک کی ستر فیصد سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی کے کے سدھار کیلئے کوئی روڈ میپ موجود نہیں ہے۔