Web
Analytics
سرخ گلاب – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / سرخ گلاب

سرخ گلاب

میں ایک دن آفس سے لنچ کے لیے نکلا تو ایک دم ایک پھولوں کے سٹال پر نظر پڑی میں نے سوچا کہ بہت دن ہوئے ماما سے بات نہیں ہوئی میری امی میرے سے دو سو میل کے فاصلے پر رہتی تھیں۔ شاذونادر ہی امی سے ملاقات ہوتی تھی۔ میں گاڑی سے نکلا اور دکاندار سے بولا کہ ایک ٹیولپس کا خوبصورت گلدستہ تیار کرو۔ ارادہ تھا کہ گلدستہ ماما کو ٹی سی ایس کر دوں گا۔ ساتھ میں میری نظر ایک بچی پر پڑی جو

سٹال کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ میں اس کے پاس گیا اور پوچھا بیٹا کیا ہوا ہے آپ کو؟ بولی میں نے ماما کے لیے ایک لال گلاب لینا ہے۔ میں حیران ہوا کہ اس میں رونے کی کیا بات تھی پر میں نے سوچا کہ بچوں کا کیا پتہ ہوتا ہے، بلا وجہ ضد کرتے ہیں۔ میں نے بولا ادھر آؤ، میں نے دکاندار کو بولا کہ الگ سے ایک لال گلاب بھی نکالو، تازہ اور خوبصورت۔ اس نے میرا گلدستہ اور لال گلاب نکال کر دے دیے۔ میں نے پیسے ادا کر دیے۔اتنی پیاری خوشبو تھی پھولوں کی۔ میں کچھ دیر اسی بچی کے ساتھ ادھر ٹہلتا رہا پھر سوچا کہ آفس واپس جاؤں۔ میں نے بچی سے پوچھا کہ بیٹے بتاؤ آپ کو بھی گھر چھوڑ دوں؟ بولی انکل مجھے ماما کے پاس اتار دینا۔ میں نے کہا اوکے۔۔۔آجاؤ۔ْ قبرستان کے ساتھ سے گزر رہے تھے کہ بچی بولی: انکل ادھر روک دیں۔بہت شکریہ۔ میں نے بولا بیٹا یہ قبرستان ہے؟ کیا کر رہی ہو۔ بولی ماما ادھر ہی ہیں۔ میں نے گاڑی ادھر ہی روک لی اور دیکھتا رہا۔ وہ ایک نئی قبر کے پاس گئی اور پھول اس پر رکھ دیا۔ ایک دم میرے دل میں ہلچل مچ گئی، بھاڑ میں گیا آفس، اسی وقت گاڑی موڑی اور ماما کی طرف نکل گیا۔ آئی لووڈ مائی مام۔۔۔میں کیوں ان کو اپنے ہاتھوں سے گلدستہ نہ دوں میری ماما تو ابھی زندہ ہیں اور میرے لیے دنیا میں سب سے حسین ہیں۔ دو منٹ کی زندگی ہے وہ بھی ہم بھاگم بھاگ گزار دیتے ہیں۔ میں پیسے جمع کر لوں میں امیر لگوں۔ لوگ میری بات سنیں۔۔۔ مجھے مانیں۔۔۔اور جو ہمیں کنگلا ہوتے ہوئے بھی مانتے ہیں۔ نالائق ہوتے ہوئے بھی پیار کرتے ہیں۔ ہماری ضدوں پر جان چھڑکتے ہیں، ہمارے لیے بے قصور بچوں کو بھی بچپن میں ڈانٹ دیتے تھے، جن کا شہزادہ ہمیشہ میں رہوں گا چاہے دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، میرے پاپا،میری ماما۔ ان کو ہم کیسے بھول جاتے ہیں؟