Web
Analytics
اللہ کو جاننے والے – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / اللہ کو جاننے والے

اللہ کو جاننے والے

میرے ایک دوست تھے سلطان راہی ان کا نام تھا‘ آپ نے ان کی فلمیں دیکھی ہونگیں‘ ایک روز مجھے ان کا پیغام ملا کہ آپ آئیں‘ ایک چھوٹی سی محفل ہے‘ اس میں آپ کی شمولیت ضروری ہے اور آپ اسے پسند کریں گے‘ میں نے کہا بسم اللہ!بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سلطان راہی کو قرا ت کا بہت شوق تھا اور اس کا اپنا ایک انداز اپنا لہجہ تھا‘ جب ہم اس کے گھر پہنچے تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا جو حلئے

سے پکا پینڈو لگ رہا تھا اس نے دھوتی باندھی ہوئی تھی ، کندھے پر کھیس تھا‘ سادہ سا آدمی تھا کچھ اتنا زیادہ متاثر کن بھی نہیں تھا ۔سلطان راہی کہنے لگے ان سے ملیں یہ بھا رفیق ہے‘ ہم دس ، پندرہ لوگ دیوار کے ساتھ ڈھو لگا کر بیٹھ گئے ۔سلطان راہی نے اپنی آواز میں سورہ مزمل کی تلاوت شروع کی‘ بہت ہی اعلیٰ درجے کی قرات کی جسے لوگوں نے بہت پسند کیا ‘وہ پڑھتے رہے ہم دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سنتے رہے اور جب ختم ہو گئی تو سب کے دل میں آرزو تھی کہ کاش راہی صاحب ایک مرتبہ پھر سورہ مزمل کی تلاوت کریں مگر انھوں نے بند کر دی پھر انھوں نے بھا رفیق کی طرف دیکھا اور ان سے کہا جی آپ بھی فرمائیں‘ بھا رفیق نے کہا جی میری آرزو بھی سورہ مزمل سنانے کی تھی لیکن چونکہ انھوں نے سنا دی ہے تو میں قرآن کی کسی اور سورت کی تلاوت کردیتا ہوں‘ہم نے کہا نہیں نہیں آپ بھی ہم کو یہی سنائیں ‘ ہم تو دوبارہ سننے کی آرزو کر رہے تھے۔بھا رفیق نے کھیس کندھے سے اتار کر اس انداز میں گود میں رکھ لیاکہ اس کے اوپر کہنیاں رکھ کر بیٹھ گئے ، اور سورہ مزمل سنانی شروع کی‘آپ نے بیشمار قاریوں کو سنا ہوگا لیکن جو انداز بھا رفیق کا تھا وہ بہت منفرد اور دل کو موہ لینے والا تھا۔جوں جوں وہ سناتے چلے جا رہے تھےہم سارے سامعین یہ محسوس کر رہے تھے کہ اس بیٹھک میں تاریخ کا کوئی اور وقت آ گیا ہے ‘یہ وہ وقت نہیں ہے جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہم لوگوں کو ایسا لگا کہ ہم قرون اولیٰ کے مدینے شریف کی زندگی میں

ہیں اور یہ وہی عہد ہے وہی زمانہ ہے اور ہم ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جو اس عہد کی آواز کو ویسے ہی کسی آدمی کے منہ سے سن رہے ہیں‘یہ سب کا تجربہ تھا‘ عجیب و غریب تجربہ تھا ‘ ہم نے یوں محسوس کیا جیسے اس کمرے میں ‘بیٹھک میں ، عجیب طرح کی روشنی تھی‘ہو سکتا ہے یہ ہمارا خیال ہو لیکن اس کی کیفیت ایسی تھی کہ اس نے سب کے اوپر سحر کر دیا تھا‘ تلاوت ختم ہوئی تو ہم نے بھا رفیق کا زبانی شکریہ ادا نہیں کیاکیونکہ ہم سارے اتنے جذب ہوگئے

تھے کہ بولا نہیں جا رہا تھا ۔البتہ ہماری نگاہوں میں ، جھکے ہوئے سروں میں ، اور ہماری کیفیت سے یہ صاف واضح ہوتا تھا کہ یہ جو کیفیت تھی ، جو گزری تھی یہ کچھ اور ہے۔کوشش کر کے ہمت کر کے میں نے کہا ، راہی صاحب ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں‘ پہلے آپ نے سورہ مزمل سنا کر پھر آپ نے اپنے دوست کو لا کر تعارف کروایا اور قرآن سنوایا ‘یہ کیفیت ہمارے اوپر کبھی پہلے طاری نہیں ہوئی تھی ‘ راہی صاحب کہنے لگے‘ بھا جی ! بات یہ ہے کہ میں سورہ مزمل کو

جانتا ہوں اور بہت اچھی طرح جانتا ہوں لیکن یہ شخص مزمل والے کو جانتا ہے ‘ اس لئے بہت واضح فرق پڑا۔ یہی بات ہے جب آپ والی کو جانتے ہیں ، اور جاننے لگتے ہیں تو خوش قسمتی سے اللہ سے ایسا رابطہ پیدا ہو جاتا ہے جیسا بھا رفیق کا تھا تو پھرایسی کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں۔