Web
Analytics
روپے کی گرتی ہوئی قیمت اور معیشت کی حالت زار! افتخار بھٹۃ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / روپے کی گرتی ہوئی قیمت اور معیشت کی حالت زار! افتخار بھٹۃ

روپے کی گرتی ہوئی قیمت اور معیشت کی حالت زار! افتخار بھٹۃ

پاکستانی روپے کی قیمت میں کمی 11 جون کو دیکھنے میں آئی جب یہ ڈالر کے مقابلہ میں 3.69%کمزور ہوا ریٹ120روپے تک پہنچ گیا جبکہ مارکیٹ میں چند ایکسچینج کمپنیوں کے سوا کہیں سے ڈالر دستیاب نہیں تھا جن لوگوں کو عید پر اخراجات کیلئے پاکستانی روپے کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی کم فروخت کر رہے تھے ان کا خیال تھا آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا پائونڈ ، یورو اور

ریال کی بھی یہی صورتحال ہے یاد رہے کہ عید کے دنوں میں گھریلوں اخراجات کیلئے خاصے پاکستانی تارکین وطن رقوم بجھواتے ہیں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں ، کاروبار اور انفرادی سطح پر خاندنوں کیلئے ترسیل زر کا اہم کردار ہے ترسیلات زر سے روز گار سے مواقع پیدا ہوتے ہیں غربت میں کمی آتی ہے معیار زندگی بلند ہوتا ہے ادائیگیوں کا توازن بگڑنے سے محفوظ رہتا ہے غیر ملکی زر مبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے شر تبادلہ مارکیٹ میں استحکام رہتا ہے ملک کی کریڈیٹ ریٹنگ بہتر رہتی ہے ترقی پذیر ممالک کے بارے میں عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے پسماندہ ممالک کی ترقی میں ترسیل زر کا اہم کردار ادا کرتی ہیں ان ممالک کی انڈسٹری کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ نہیں کیا گیا ہے لہذا یہ ممالک حام مالک ہی برآمد کرتے ہیں ریگن اور مارگریٹ تھیچر فار مولے کے مطابق معیشت کو وسعت دینے کیلئے بجٹ کو خسارے کے ذریعے اس کا سائز اور حجم بڑا کیا جائے خسارے کو ٹیکسوں اور قرضوں کے ذریعے پورا کیا جائے جس سے ترقی کی شرح نمو بڑے گی اور جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا ہم جیسے ممالک کو زر مبادلہ کے ذخائر کا ہمیشہ مسئلہ رہتا ہے جس کی وجہ ویلیو ایڈیٹ کی بجائے خام مال کو برآمد کیا جانا ہے جس سے بہت کم زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے آج ہماری سالانہ برآمدات 22ارب ڈالر اور درآمدات 53ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے ایسے ضابطے مسلط کیے ہیں جو خام مال برآمد کرنے والے ممالک کیلئے زر مبادلہ کا

بحران بن چکے ہیں اب غیر ملکی درآمدات کو روک نہیں سکتے ہیں یہی وجہ ہے پاکستان میں پیدا ہونے والی اور تیار کی جانے والی مصنوعات جس میں کاسمیٹکس ، پھل، چاکلیٹیں، بیسکٹ، چٹنیاں ، مربے اور جیم شامل ہیں اربوں روپے کے درآمد کیے جا رہے ہیں ، جس سے ہم جیسے قر ض دار ممالک توازن ادائیگی کے بحران میں پھنس چکے ہیں بجٹ اور آزاد تجارت کے نتیجہ میں قرضے بڑھنے لگے ہیں بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات کو قرضوں کی ادائیگی میں ادا

کر دیا جاتا ہے یا ان کو غیر منافع بخش اثاثہ جات کی تعمیرات میں لگا دیا جاتا ہے پنجاب کے ضلع گجرات میں سب سے زیادہ ترسیلات زر آتی ہیں وہاں ان سے دیہاتوں میں کروڑوں روپے کے رہائشی مکانات تعمیر کیے گئے ہیں یا بڑے شہروں میں پراپرٹی خرید لی گئی ہے جبکہ اس سے کوئی صنعت نہیں لگائی گئی ہے ان جائیدادوں کی تعمیرات سے وقتی طور پر مقامی لوگوں کو روز گار حاصل ہوا ہے مگر یہ صورتحال جنوبی پنجاب اور ملک کے دوسرے علاقوں میں نہیں ہے

جہاں پر غربت اور بیروز گاری کا اضافہ ہوا ہے اور آبادی کی منتقلی سے شہروں پر دبائوں میں اضافہ ہوا ہے یہ تمام فنانشل مس منیجمنٹ کی وجہ سے ہوا ہے ہمارے قرضے بڑھتے گئے ہیں دوسری طرف قساد بازاری اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے برآمدات کو بڑھانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں اس طرح ادائیگی کیلئے زر مبادلہ کے ذخائر پر دبائو بڑھا ہے تجارتی اور کرنٹ خسارہ اپنی بلند تر شرح پر پہنچ گیا ہے نگران

وزیر خزانہ شمشاد حسین نے کہا ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے روپے کی گراوٹ کو روکنے کی کوشش کرے گی لیکن ایسا کرنے سے زر مبادلہ کے ذخائر مزید کم ہونگے جو کہ صرف دو ماہ کی درآمدی ادائیگیوں کیلئے ہیں ۔روپے کی قدر میں کمی عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے جڑی ہے دنیا کی تمام کمزور معیشتیں شدید دبائو کا شکار ہیں ترقی کی کرنسی لیرا کی ویلیو اس سال 20%کم ہو چکی ہے وہاں پر مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود

میں اضافہ کے باوجود گراوٹ کو روکا نہیں جا سکا ہے نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں ملائشیا، انڈ نیشیا، ہندوستان، جنوبی افریقہ، اور برزائل کی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے اس طرح عالمی معیشت پر کالے بادل منڈلا رہے ہیں ایسی کیفیات میں پاکستانی روپے کی قیمت میں استحکام پیدا ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہم اس ساری صورتحال میں سی پیک کے ذریعے چینی سرمایہ کاری کو ترقی کا زینہ قرار دے رہے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت ترقی کرے گی اور یہاں خوشحالی آئے گی مگر

بیرونی سرمایہ کاری کسی ممکنہ حد تک مسئلے کا حل ہے چین کی تمام سرمایہ کاری قرضوں پر مشتمل ہے جو معیشت میں مزید بگاڑ پیدا کر سکتی ہے حالیہ تجارتی اور کرنٹ خسارہ انہی اقدامات کا نتیجہ ہے ملکی صنعتیں بند ہوتی جا رہی ہیں اور برآمدات کم ہو چکی ہیں روپے کی قدر میں کمی کے باوجود برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہی ہیں بلوم برگ کی مارچ2018کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو9.5ارب ڈالر کے

فوری قرضوں کی ضرورت ہے ہم چین سے انتہائی مہنگے قرضے حاصل کرنے کیلئے مذاکرات کر رہے ہیں ان تمام مالیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف سے پیکج کا حصول نا گزیر ہو چکا ہے مرکزی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر بیرونی قرضہ جات 92ارب ڈالر سے زیادہ ہیں جو کہ مجموعی قومی پیدا وار کا 82%ہیں 2002سے2023تک پاکستان نے آئی ایم ایف ، عالمی بین، ایشیائی ترقی بینک، پیرس کلب، سی پیک ملکی اور غیر ملکی بینکوں کو31.3

ارب ڈالر واپس کرنے ہیں صرف حالیہ روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان کا قرضہ ساڑھے4سو ارب روپے بڑھ چکا ہے اس کے ساتھ شرح سود اور افراط زر میں مزید اضافہ متوقع ہے تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں امریکہ نے پاکستان کو ملنے والی امداد معطل کر دی ہے جولائی 2018میںfatfکی میٹنگ میں پاکستان پر مزید دبائو میں اضافہ ہو سکتا ہے ، روپے کی گراوٹ سے برآمدات میں اضافے کا امکان نہیں ہے کیونکہ مقامی صنعتیں سستی چینی مصنوعات کا مقابلہ نہیں

کر سکتی ہیں تارکین وطن کی رقوم میں پچھلے پانچ ماہ میں 5%کمی ہوئی ہے عالمی منڈی میں پاکستانی بانڈز کی قیمتیں گر رہی ہیں پچھلے قرضوں کے پروگرام کی کئی کٹوتیاں نجکاریاں اور ٹیکس واجب ادا ہیں عوام کے سامنے ایک ہی مستقبل ہے لا متناہی کٹوتیاں خوش ربا ٹیکس خوفناک مہنگائی بے روز گاری اور غربت ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس معاشی سدہار کیلئے کوئی روڈ میپ نہیں ہے مسلم لیگ ن دیکھاوئے کے پراجیکٹس تعمیر کر کے اربوں کے قرضے کا

بوجھ قوم پر ڈال دیا ہے عمران خان کے پاس کرپشن کے خلاف بولنے کے علاوہ معیشت کو چلانے کیلئے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے ، قرضوں کی سپلائی سے پراجیکٹس میں لوٹ مار سے واقع ہی حکمران طبقات کی ترقی ہوتی ہے پاکستان میں اس وقت حکمران اشرافیہ کے طبقات کے دوران طاقت کے حصول کی جنگ جاری ہے جس سے عوام کو کچھ لینا دینا نہیں ہے پہلے غریب طبقات کچلے گئے ہیں اب مڈل کلاس کو غربت کی طرف دکھیلا جا رہا ہے آخری اطلاع کے مطابق

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈی انٹر نیشنل نے پاکستان کی معاشی آئوٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا ہے کیونکہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر ہیں مہنگائی میں چار فیصد سے سات فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے مجموعی قومی پیدا وار کی شرح نموع 5.8%کی بجائے5%رہنے کا امکان ہے ملک کے ممتاز ماہر معاشیات حفیظ پاشا کے بقول تجارتی خسارہ کو کم کرنے کیلئے اربوں روپے کی غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگانا ہوگی معاشی ایمر جنسی کو ڈکلیر کرنا ہوگا معاشی بحالی کیلئے سیاسی حصول کے مقاصد کار کو قربان کر کے سخت فیصلے کرنے ہونگے آئندہ حکومت کیلئے پانی کا بحران اور قرضہ جاتی بحران سب سے بڑے چیلنجز ہونگے ۔
۔۔۔۔۔