Web
Analytics
روبہ زوال پیپلز پارٹی کا اچھا منشور ۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / روبہ زوال پیپلز پارٹی کا اچھا منشور ۔۔۔ افتخار بھٹہ

روبہ زوال پیپلز پارٹی کا اچھا منشور ۔۔۔ افتخار بھٹہ

 

پاکستان میں آج سے چند ہفتے بعد انتخابات کا انعقاد ایسی کیفیات میں ہو رہا ہے جہاں پر بصیر رکھنے والی عملیت پسند قیادت اور مقبول عام پارٹیوں میں ریاست کاری کے امور سے واقف رکھنے والی ٹیم کی ضرورت ہے جو اس کی معاشی سماجی اور ثقافتی تمنائوں کی شاندار ترجمانی کرتے ہوئے اپنے روٹ میپ کے ذریعے عملیت کا ثبوت دے ان تمام مقاصد کے حصول کیلئے مضبوط قومی کردار کی ضرورت ہے

جو کہ قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد منظر عام پر نہیں آ سکا ہے یہاں پر مقتدرہ طبقات نے مختلف ادوار میں مختلف نظریات اور پالیسیوں کے تخت سیاسی سماجی اور فرقہ وارانہ سطح پر گروپ بندی کرنے کی کوشش کی ہے آج بھی دائیں اور بائیں بازو کی تفریق کے حوالہ سے مختلف نظریاتی تضادات نسلیت پسندی شدت پسندانہ نظریات موجود ہیں سیاست نظریاتی کی بجائے شخصیات کے حوالے سے ہو رہی ہے چھ سو خاندانوں کے افراد اور اجارہ داریاں الیکٹ ایبل کے نام پر مختلف سیاسی جماعتوں پر چھائے ہوئے ہیں ان کی مہاجرت کا سلسلہ ایک جماعت سے دوسری جماعت کی جاری ہے الیکشن میں حصہ لینے والے اپنے مفادات اور بیرونی دبائو کے تخت سیاسی ہمدردیاں اور جماعتوں کے ٹکٹ تبدیل کر کے آزادانہ حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں نادیدہ قوتیں کسی سنگل پارٹی کو واک اوور نہیں دینا چاہتی ہیں زیادہ مبصرین بھی ہنگ پارلیمنٹ کی توقع کر رہے ہیں اس غل غباڑے میں یہ بات قابل تعریف ہے کہ ووٹر امید واروں سے اپنے مسائل کے حل کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ان کا گریبان پکڑ رہے ہیں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی ان پر دھوم مچی ہے بد قسمتی سے موجودہ حالات اور نظام کی تبدیلی کی امید پی ٹی آئی میں مختلف لوگوں کی شمولیت سے دم توڑ چکی ہے نواز شریف نے کون سا انقلابی کام سر انجام دیا ہے وہ کونسے تیر سے ریاستی اداروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں 37سال میں انہوں

نے عوام کیلئے کونسی قانون سازی کی ہے ان کی ریاست کو چلانے کی مہارت کی قلی کھل چکی ہے اس طرح عوام کی حقیقی نجات سماجی اور معاشی آزادیوں کی علمبردار کوئی جماعت انتخابی معرکے میں موجود نہیں ہے ایسے میں پیپلز پارٹی کے ہونہار بلاول بھٹو زرداری نے عوامی نعرے روٹی ، کپڑا اور مکان علم و صحت اور سب کا پاکستان کے نام پر اپنا منشور پیش کیا ہے جبکہ وہ بڑا معرکہ سر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے میاں شہباز شریف اسی طرح اور شرایط کے ساتھ

خدمات سر انجام دینے کیلئے تیار ہیں ہم نے ستر سال اس امید کے ساتھ گزار دیئے ہیں کہ کب انسانی سماجی حقوق بحال ہونگے عوامی جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا انتخابات میں سوائے1970کے نتائج کے عوامی خواہش کے بر عکس برآمد کروانے کی کوشش کی گئی ہے ووٹ کو عزت دینے کے ساتھ عوام کو بھی کبھی عزت نہیں دی گئی ہےپاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سب سے پہلا 2018کے انتخابات کے حوالے سے سیاسی منشور پیش کیا ہے عمران خان کی پارٹی کے

ترجمان کے بقول یہ منشور پکوڑے ڈالنے کے قابل بھی نہیں ہے جبکہ میڈیا کے مبصرین اور بینکرز پاکستان پیپلز پارٹی کو کسی خانے میں یا ذکر کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ماضی میں پارٹی منشور نظریات کی بنیاد پر پیش کیے جاتے تھے پیپلز پارٹی کا پہلا منشور اسلام، جمہوریت، سوشلزم ، روٹی کپڑا مکان کی فراہمی کے حوالے سے تھا مگر اب ایسا نہیں ہے کیونکہ نظریات کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے بلکہ شخصیات ہی کو نظریات سمجھا جا رہا ہے ملک میں پہلے واضح

سیاسی نظریاتی تقسیم موجود تھی جس کی علمبردار پیپلز پارٹی بائیں بازو کی جماعتیں اور جماعت اسلامی تھے اب تمام جماعتیں مارکیٹ اکانومی کی خامی ہیں جس میں سرمایہ دار ، صنعت کار ، جاگیر دار اور مقتدرہ طبقات عوامی حقوق دینے کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہیں اس معاشی بد خالی کے عہد میں غریب طبقات کی بہتری کیلئے ریلیف کی بات کرنا انتہائی مشکل کام ہے بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پہلے منشور میں ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے آبی ذخائر کا بندو

بست کرنے ، خواتین کے فوڈ سٹور کھولنے زراعی اصطلاحات کرنے صنعتی اور کھیت محنت کشوں کو برابر کا درجہ، زرعی استعمال کی اشیاء ، کھاد بیج کی قیمتوں پر سبسڈی دینے، غریب اور مزدور کیلئے علاج کا پروگرام بھوک مٹائو پروگرام جاری کرنے غربت اور بے روز گاری کے خاتمہ کیلئے خصوصی پروگرام کرنے کا اعلان کیا ہے بظاہری طور پر یہ منشور انتہائی خوبصورت ہے سوال ابھرتا ہے ان تمام کاموں کیلئے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے، ملک کو قرضہ جات

ی شکنجے سے کس طرح نجات دلائی جائے گی کیا امیر طبقات سے ان کی جائیدادوں ، کاروبار اور دولت کے تناصر ٹیکس وصول کیے جائیں گے کیا تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق نصابی طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا، ملک میں قائم طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کس طرح ہوگا، یوں بھی دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر شعبہ زوال کا شکار ہے ریاست ، مالیاتی طور پر کمزور ہوتی جا رہی ہے مگر حکمران طبقات کی دولت اور اثاثوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے آج عالمی سطح پر پاکستان

تنہائی سے دو چار ہے ، ریاستی ادارے پارلیمنٹ سے سپریم ہیں بلاول بھٹو نے خارجہ اور معاشی پالیسیوں کو پالیمنٹ کے زیر طابع چلانے کا عزم کیا ہے اور کہا ہے کہ دھرنوں اور پارلیمنٹ سے لعنت بھیجنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی ہے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کے لئے جدو جہد تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے یوں یہ منشور خوبصورت باتوں خواہشات اور توقعات کے اظہار کا مظہر ہے یاد

رہے ریاست میں دو طرح کے کردار متحرک ہوتے ہیں ، ( Doing) کام کرنے والے اور(talktive)باتیں کرنے والے ہوتے ہیں موجودہ صورتحال میں ہمیں لیڈروکے نعرے اور وعدے ہی سنائی دے رہے ہیں جبکہ ملک میں بنیادی تبدیلیوں کیلئے کوئی روڈ میپ موجود نہیں ہے سابق دور میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیم سوشلسٹ نظام کے تخت عوام کو اقتدار میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی تا کہ جمہوریت کے ثمرات ان تک پہنچ جائیں مگر اس کے بعد کوئی ایسی لیڈر شپ نہیں آئی جو کہ

عوام کے مسائل کے حل میں کوئی عملی اقدامات کر سکے پاکستان کی دونوں جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف امیر طبقات اور مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی صرف لپ سروس کیلئے غریبوں کا نام استعمال کرتی ہے اس ساری صورتحال میں جماعتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے آزاد امید واروں کے نام پر الیکشن میں جیتنے والوں کا پریشر بنانے کی تیاری کی جا ر ہی ہے پیپلز پارٹی نے عوام دوست منشور کا اعلان تو کیا ہے مگر وہ سیاسی

طور پر تیسرے نمبر ہے پنجاب میں سب سے زیادہ بحرانی کیفیات سے دو چار ہے اس کی سیاسی حرکیات کے بارے میں کوئی بھی گفتگو نہیں کرتا ہے جس سے اسے زمین سے اٹھنے میں مدد نہیں مل رہی ہے بلاول بھٹو شائد اپنے ٹرمپ کارڈ کے ذریعے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو متحرک کرنے میں کامیاب ہو جائے مگر تمام بگاڑ زرداری کی مصالحتانہ سیاسی رویہ سے ہوئی ہے کیونکہ پنجاب میں حکمران طبقات کی مخالفت سے گریز کیا گیا ہے ان تمام ماضی کے غلط اقدامات کا نتیجہ آج پیپلز پارٹی پنجاب میں بھگت رہی ہے ۔