Web
Analytics
بچپن کی شادیاں چند حقائق اور گزارشات۔۔۔ مسرور احمد – Lahore TV Blogs
Home / کالم / بچپن کی شادیاں چند حقائق اور گزارشات۔۔۔ مسرور احمد

بچپن کی شادیاں چند حقائق اور گزارشات۔۔۔ مسرور احمد

اگر گہرائی میں دیکھا جائے توہمارے معاشرے میںکم عمری میں شادیوں جیسی قباحت کا تعلق صنفی عدم مساوات ، روائیت پسندی، غلط مذہبی تشریحات اور رسوم و رواج سے منسلک ہے۔سندھ میں باڑا یا ڈانڈ، پنجاب میں ونی اور کے پی کے میں سوارا جیسی قبیح رسومات اب بھی موجود ہیںجہاں نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کو بالغوں کی انا کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔وٹہ سٹہ کی شادیاں بھی بے شمار مسائل لئے ہوتی ہیں۔ اس

پر مستزاد یہ کہ عورت کی عصمت کے متعلق ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی حساسیت اور خاندان کی عزت کے نام پر لڑکیوں کی جلد شادی کر دی جاتی ہے۔یوں ان کے سارے خواب کچلتے ہوئے گویا ہم انھیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کا واحد کام بچے پیدا کرنا ہے ۔ یونیسف (UNICEF)کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر 100میں سے 35لڑکیاں 18سال سے کم عمر میں بیاہ دی جاتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک کے بعض علاقوں میں 16سال سے پہلے شادی کا رواج عام ہے۔ جس کی وجہ سے کم عمر لڑکیوں یا لڑکوں کو بہت نفسیاتی ، معاشرتی اور جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2011سے 2020تک 140ملین کم عمرلڑکیوں کی شادیاں متوقع ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق سندھ میں کم عمری کی شادیوں میں 72 فیصد لڑکیوں اور 22فیصد لڑکوں کے کیسز دیکھنے میں آئے ہیں جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں کم عمری کی شادیوں میں 66 فیصد لڑکیوں اور 22فیصد لڑکوں کے کیسزسامنے آئے ہیں۔دوسری طرف ہمارے قبائلی علاقوں میں کم عمری میں لڑکیوں کی شادیوں کی شرح سب سے زیادہ 99فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان کے قانون ایکٹ 1929کے مطابق 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی قانونا جرم ہے اور ایسی کسی شادی کو منعقد کروانے والوں کو قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ نابالغ لڑکی یا لڑکا بلوغت کی عمر تک پہنچ کر اس شادی کو ختم بھی کر سکتے ہیں۔کم عمر

لڑکی شادی کے ساتھ جڑی بہت سی تبدیلیوں ، نئی ذمہ داریوں اور رشتے نبھانے کیلئے نفسیاتی طور پر تیار نہیں ہوتی اور اسے اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار اپنے خاندان اور شریک حیات سے کرتے ہوئے دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مزید یہ کہ بچوں کی پیدائش اور جنسی عمل وغیرہ سے گزرنے کیلئے کم عمر لڑکی کو شادی کے بعد اپنے جسم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا جو صریحا ظلم ہے۔ کم عمر لڑکیوں کا تولیدی نظام ابھی خود تشکیل کے مرحلے میں ہوتا ہے

اس لئے زچگی کا بوجھ اس کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔یہ بات تحقیق سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ دوران زچگی اموات کی شرح 15سے 19سال کی کم عمر حاملہ لڑکیوں میں سب سے زیادہ ہے اور کم عمر شادی شدہ لڑکیوں میں رحم کے کینسر کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔اور اسقاط حمل کی سب سے زیادہ شرح بھی کم عمر حاملہ لڑکیوں میں ہی ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدگی یہ بھی ہے کہ کم عمر ماؤں کے بچے کم جسمانی وزن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور ساری عمر ان

بچوں کو کم وزنی کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔اسی طرح کم عمر شادی شدہ لڑکوں کو بھی گوناں گوں معاشرتی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے کے رسم و رواج کے مطابق مرد ہونے کے ناطے وہ اپنے خاندان کی کفالت اور تحفظ فراہم کرنے جیسے دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ کم عمری میں شادی سے لڑکے اپنے تعلیمی مقاصد سے دور ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں جسمانی تعلقات میں پہل کرنے اور ان تعلقات کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی اٹھانی پڑ سکتی ہے۔تاہم

اگر کم عمری کی شادی کی صورت میں بار گراں کسی کے کندھوں پر پڑ جائے تو بہت سے ممکنہ نکات ہیں جن پر عمل کر کے ایسے افراد شادی کے ممکنہ مسائل سے بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر باہمی اعتماد کی بنیاد پر شریک حیات کے ساتھ قریبی جذباتی و نفسیاتی تعلق استوار کیا جاسکتا ہے۔اگر کم عمری کی وجہ سے آپ کو جسمانی تعلق کو سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو کسی قریبی سمجھدار خاتون یا مرد سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح خاندانی

منصوبہ بندی یا بچوں کی پیدائش میں وقفہ کرنے کیلئے شریک حیات اور بزرگ خواتین سے صلاح مشورہ کیا جا سکتا ہے۔اگر جلد ہی حمل ٹھہر جائے تو دونوں میاں بیوی کسی اچھی لیڈی ڈاکٹر یا لیڈی ہیلتھ ورکر سے حمل سے جڑے مسائل پر گفتگو اور صلاح مشور کر سکتے ہیں۔ شریک حیات کے ساتھ مل کر خاندان کے بارے میں منصوبہ سازی پر بات چیت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ، اس سے ہر معاملے میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان باہمی اعتماد پیدا ہو گا۔بچوں کی شادی

کرنا والدین کیلئے ایک نہائیت اہم اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرتی نظام میں والدین کا کل سرمایہ ان کی اگلی نسل ہی ہوتی ہے۔ جہاں والدین ان کی تعلیم وتربیت پر بے شمار وسائل اور محنت صرف کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے ایک آرام دہ زندگی گزار سکیں وہیں یہ بات بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ ان کی زندگی کا اہم فیصلہ یعنی شادی کرنے سے پہلے چند حقائق پر نظر ڈالیں تاکہ وہ پر سکون اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔اگر آپ لڑکی کے والدین ہیں تو کم عمری

کی شادی کے ممکنہ مسائل اور چند حقائق آپ کے علم میں ضرور ہونے چاہئیں کہ آیا آپ کی بیٹی کم عمری میں شادی سے پیدا ہونے والی معاشرتی ، نفسیاتی اور جذباتی ذمہ داریاں اٹھا سکتی ہے۔ اور کیا آپ کی بیٹی بچپن میں شادی کی جسمانی ذمہ داریوں اور زچگی کے مسائل سے با آسانی عہدہ براء ہو سکتی ہے یا یہ کہ کیا آپ کا بیٹا شادی کی جذباتی ، جسمانی اور نفسیاتی ذمہ داریوں پر پورا اتر سکتا ہے اور کیا وہ معاشی طور پر اپنے خاندان کی کفالت کر سکتا ہے؟یوں تو ہمارا م

عاشرہ بہت مذہبی ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ” جب میں خوش ہوتا ہوں تو والدین کو بیٹیاں عطا کرتا ہوں۔”جبکہ ہمارے ہاں اکثر خاندان بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور انھیں اہل، قابل ، ہنرمنداور تعلیم یافتہ بنانے کی بجائے جلد از جلد اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تدابیر کی جاتی ہیں۔چنانچہ کم عمری کی شادی کا شکار ہونے والے افراداپنی آنے والی نسل کی صحیح تربیت کرنے سے قاصر رہتے ہیں کیونکہ وہ خود بہت سے نفسیاتی

مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔ جیسی لاپرواہی ان کے معاملے میں برتی گئی تھی اپنی اولاد سے متعلق ان کارویہ بھی عام طور پر ویسی ہی لاپرواہی پر مبنی ہوتا ہے۔مذہبی انتہاپسندوں کی وجہ سے پاکستان میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ہمارے ہاں اس حوالے سے قوانین میں بھی سقم پایا جاتا ہے اور یہاں سائن کرنے کے باوجود اقوام متحدہ کے کنونشنز رائٹس آف دی چائلڈ (سی آر سی) کے نفاذ کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔ یوں حکومت پاکستان بچوں کے حقوق

کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہے۔حکومت کو مؤثر قانونی نظام تشکیل دیتے ہوئے اس حوالے سے سخت اقدامات کرنا ہوں گے اوراس سلسلے میں قانون کی حکمرانی کو نچلی سطح تک یقینی بنانا ہو گاکیونکہ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی مہذب معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا اور قانون کی حکمرانی یہ ہے کہ بلا امتیاز ہر شہری کیلئے مساوات کی بنیاد پر انصاف کے عمل کو ممکن بنایا جائے۔