Web
Analytics
کارکنوں کی پکڑدھکڑ، لاک ڈائون الیکشن چوری کرنے کی کوشش، نواز شریف کی گرفتاری کیخلاف پرویز رشید پھٹ پڑے،عدالتوں پر کڑی تنقید، کیا کچھ کہہ دیا – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / کارکنوں کی پکڑدھکڑ، لاک ڈائون الیکشن چوری کرنے کی کوشش، نواز شریف کی گرفتاری کیخلاف پرویز رشید پھٹ پڑے،عدالتوں پر کڑی تنقید، کیا کچھ کہہ دیا

کارکنوں کی پکڑدھکڑ، لاک ڈائون الیکشن چوری کرنے کی کوشش، نواز شریف کی گرفتاری کیخلاف پرویز رشید پھٹ پڑے،عدالتوں پر کڑی تنقید، کیا کچھ کہہ دیا

لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ( ن) نے کارکنوں کی گرفتاریوں اور لاک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسلم لیگ (ن )کے سینکڑوں کارکنوں کی پکڑ دھکڑاور لاک ڈاؤن غیر جمہوری اور پری پول دھاندلی کے مترادف اورالیکشن چوری کرنے کی کوشش ہے،گرفتاریوں اورلاک ڈاؤن کا واحد مقصد محاذ آرائی اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنا ہے،،لاہور سمیت دیگر

شہروں میں جس طرح کنٹینر لگائے گئے ہیں ، اب صرف کرفیوکی کسر باقی رہ گئی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی مرکزی میڈیا کمیٹی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید ، سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور مسلم لیگ( ن) سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ایسے ہتھکنڈے استعمال نہ کرے جس سے انتخابات متنازعہ ہو جائیں ۔سیاستدانوں کی قسمت کا فیصلہ عوامی عدالت کو کرنے دیں۔دو ہرا معیار رکھیں گے تو شکوک و شبہات پیدا ہونگے اور اداروں پر سوال اٹھیں گے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کو احتساب کیلئے انتخابات کے بعد تک رعایت مل سکتی ہے تو نواز شریف کو کیوں نہیں؟ نواز شریف وفاق کی علامت ہے۔ سیاست اور پارلیمنٹ بندوق کے تابع نہیں بلکہ بندوق سیاست کے تابع ہے ، بندوق سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہے۔ ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں جبکہ لاڈلہ جلسے کر رہا ہے۔اگر اس الیکشن کے نتائج بھی تسلیم نہ کیے گئے تو 70 ء کی طرح وفاق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ن لیگی رہنماؤں نے کہا کہ ہم اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے استقبال کے لیے جا رہے ہیں جو مکمل پر امن ہو گا ہماری طرف سے کسی قسم کا تشدد یا احتجاج نہیں ہو گا۔ سینیٹر مشاہد حسین سیدنے کہا کہ لاہور میں 10ہزار پولیس اہلکار اور ائیرپورٹ پر 2ہزار رینجرز اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے یہ انتظامیہ کی سراسر نالائقی ہے۔انتظامیہ کا اولین فرض سیاسی کارکنوں اور انتخابی

امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ناکہ پکڑ دھکڑ کرنا۔ پکڑ دھکڑ اور رکاوٹوں کے باوجود پورے پاکستان سے لوگ نواز شریف کا خوش آمدید کہنے کے لیے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت دہشتگردی روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں دو سیاسی رہنماؤں پر دہشتگرد حملے انتظامیہ کی نالائقی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کے ساتھ جو ہوا وہ بھی غلط تھا ۔ سیاستدانوں کا احتساب کرنا عوام کا

حق ہے اورعوام 25 جولائی کو اپنایہ حق استعمال کرلیں گے۔ انتظامیہ نالائقی چھوڑ ے اور ماضی کی غلطیاں نہ دہرائے۔ پکڑ دھکڑ اور لاک ڈاؤن جیسے منفی ہتھکنڈے الیکشن چوری کرنے کیلئے کیے جا رہے ہیں لیکن ہمارے کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں اور ہماری اخلاقی فتح ہو چکی ہے۔مشاہد حسین نے کہا کہ مخالفین کا خیال تھا کہ میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے لیکن ان کی خوش فہمیاں ختم ہو گئی ہیں کیونکہ نواز شریف صاحب ووٹ کی عزت اور آئین اورعوام کی بالا دستی

کے لیے وطن واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے عجلت میں دیے جانے والے فیصلے کا مقصد اسے ہمارے خلاف استعمال کرنا تھا۔ اس سے پہلے پاناما کیس کا فیصلہ بھی ایسا ہی دیا گیا جس کے بارے میں خود عمران خان نے بھی کہا کہ کمزور فیصلہ تھا۔سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازشی لوگ نہیں کرتے ، فیصلہ 25 جولائی کو پاکستان کے عوام کریں گے ۔لاک ڈاؤن غیر جمہوری، غیر آئینی اور دھاندلی کرنے کے مترادف ہے ۔ ہمارے خلاف کی

جانے والی کارروائیاں الیکشن چوری کرنے کی کوشش ہے۔ ہم صرف اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کو خوش آمدید کہنے جا رہے ہیں۔ ہمارے کسی کارکن نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ۔اگر ہمارا کوئی کارکن قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پکڑیں ورنہ خوامخواہ اگر کوئی چائے بھی پی رہا ہے تو اسے بھی پکڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف دہشتگردی کی روک تھام میں نگران حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری طرف حکومت کو صرف ہمارے

کارکنوں کا خوف ہے اس لیے وہ کسی قیمت پربھی انہیں روکنا چاہ رہے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ انصاف جب سب کو ایک نظر سے نہ دیکھے تو مذاق بن جاتا ہے، جنہوں نے انصاف کی بالا دستی اور تحفظ کرنا تھا انہوں نے ہی اسکا گلا گھونٹ دیا۔کسی کو اب یہ گلہ نہیں ہو نا چاہیے کہ سیاستدانوں نے انصاف کو متنازعہ بنایا بلکہ انہوں نے متنازعہ بنایا جنہوں نے اس کا تحفظ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے امیدوار

قمر الاسلام راجہ کے ساتھ نیب اور طرح کاسلوک کرتا ہے جبکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کیساتھ اور طرح کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ جو رعایت آصف زرداری اور فریال کو دی گئی وہ قمر الاسلام راجہ کو بھی ملنی چاہیے تھی۔جب دو ہرا معیار رکھیں گے تو شکوک و شبہات پیدا ہونگے اور اداروں پر انگلیاں اٹھیں گے،اس کی ماضی میں بھی بے تحاشہ مثالیں موجود ہیں۔ نواز شریف نے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔اگر زرداری اور فریال تالپور کو احتساب

کیلئے انتخابات کے بعد تک رعایت مل سکتی ہے تو نواز شریف کو کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں اسی لاہور سے عمران خان نے دھرنے کا سفر شروع کیا تھا ۔گھنٹوں وہ شہر کی سڑکوں پر دھندناتے پھرے ۔ انکا اعلان تھا کہ وہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ نا انکا کوئی کارکن گرفتار ہوا، نا کسی نے کنٹینر کھڑے کر کے انہیں روکا، احتجاج ان کا جمہوری حق سمجھا گیا۔ پرویز رشید نے کہا کہ آج مسلم لیگ ن کے کارکن کسی کو تختہ الٹنے نہیں اپنے قائد میاں

محمد نواز شریف کا استقبال کرنے جا رہے ہیں۔جو اجازت عمران خان کو میسر تھی وہ ہمیں کیوں نہیں دی جا رہی ؟ کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ حسن عسکری آج نا جانے کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔ ان میں میڈیا کا سامنا کرنے کی جرات نہیں ۔وہ گھبرائے ہوئے ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ میڈیا کا سامنا کریں اور ہمارے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاریوں کی ذمہ داری قبول کریں۔پرویز رشید کا کہنا تھا کہ حسن عسکری کا ضمیر اگر زندہ ہے، اگر ان

میں اخلاقی جرات موجود ہے تو میڈیا پر آکر تسلیم کریں کہ گرفتاریاں آپ نے کی ہیں۔ آپ کو اپنے جرائم تسلیم کرنا ہوں گے۔ پرویز رشید نے کہا کہ انتخابات چوری کرنے کے لیے جو کارروائیاں کی گئیں پاناما کیس ان کا حصہ تھا۔ ایک ہی مقدمہ میں نواز شریف کو چار بار سزا دی گئی۔ اب وہ شخص پانچویں سزا بھگتنے آ رہا ہے۔اس کے ساتھ اس کی بیٹی ، داماد اور کروڑوں عوام کو بھی سزادی جا رہی ہے۔ اور نواز شریف کو یہ سزا کسی جرم پر نہیں بلکہ جرم سے روکنے پر دی جا رہی ہے۔ آپ کو کروڑوں ووٹروں کیلئے جیل بنانی پڑے گی۔ آپ نا آج روک سکتے ہو اور نا ہی 25جولائی کو روک سکوگے۔اس موقع پر مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ نے کہا کہ سندھ کی دھرتی سے یہ پیغام لیکر آیا ہوں کہ 70کی دہائی والی کارروائیاں مت کریں۔بنگا لیوں کیساتھ جو ہوا سب کو علم ہے۔۔نواز شریف وفاق کی علامت اورہر پاکستانی کی آواز ہے۔ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا کچھ تو پاس رکھو۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست اور پارلیمنٹ بندوق کے تابع نہیں بلکہ بندوق سیاست کے تابع ہے ، بندوق صرف سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں اپنے فرائض پورے نہیں کر رہی ہیں۔ افغان بارڈر پر جو کچھ ہو رہا ہے ساری دنیا کے سامنے ہے۔ یہاں ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور لاڈلہ جلسے کر رہا ہے۔ اگر اس الیکشن کے نتائج کو بھی تسلیم نہ کیا گیا تو 70 ء کی طرح وفاق کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔