Web
Analytics
احتسابی جکڑ بندی اور دہشت گردی میں انتخابات۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / احتسابی جکڑ بندی اور دہشت گردی میں انتخابات۔۔۔ افتخار بھٹہ

احتسابی جکڑ بندی اور دہشت گردی میں انتخابات۔۔۔ افتخار بھٹہ

25جولائی2018کے انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات نے 150سے زائد شہادتو ں ماحول کو انتہائی سوگوار بنا دیا ہے ان واقعات میں محسوس جماعتوں کی کارنر میٹنگ میں راہنمائوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے واضح ہو گیا ہے تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل کے علاوہ کسی دوسری جماعت کو پر امن اور آزادانہ سیاسی ماحول میسر نہیں ہے جبکہ مسلم لیگ ن احتسابی جکڑ بندی میں مقید کر دی گئی

ہے اس انتخابات سے قبل جس طرح سیاسی وفا داریاں تبدیل کروائی گئیں امتیازی انتخابی نشان الاٹ کئے گئے جس سے جانبداری کا تعصب ابھرا ہے دوسری طرف اخلاقیات کلی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں کسی جماعت کے حامیوں کو گدھے کسی کو مخالف جماعت کو ووٹ دینے والے بے غیرت اور کسی کو محسوس جماعت کا جھنڈا لگانے والے مکینوں کو طوائف کی اولاد قرار دیا جا رہا ہے اخباروں اور ٹی وی چینلز پر انتخابات کے علاوہ کوئی بات سنائی نہیں دیتی ہے ڈالر کی اُڑان معیت کی بربادی غریب طبقات کے ساتھ ظلم و زیادتیاں مہنگائی بے روز گاری کوئی بھی خبر کار پریٹ میڈیا کیلئے اہم نہیں ہے قسم قسم کی بولیاں امید واروں کے بیانات میں سنائی دیتی ہیں جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں انتخابی مہم کا مقصد کوئی سیاسی پروگرام یا منشور دینا یا عوام کے مسائل کے حل کے متعلق نہیں ہے بلکہ اس میں الزام تراشیاں اور بڑھک بازیاں ہیں ماضی میں انتخابات میں عوام متحرک ہوتے تھے لیکن موجودہ صورتحال میں عوام لا تعلق دیکھائی دیتے ہیں ہر آدمی کے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجہ میں ان کی تلخ زندگیوں میں کس طرح تبدیلی آ سکتی ہے تمام اس حوالے سے تمام پارٹیاں ترازو کے ایک ہی پلڑے میں دیکھائی دیتی ہیں سیاسی بحران اور اداروں کے درمیان تصادم میں رائج الوقت حکمران طبقے کے سیاسی دھندے کو عوام کی نظروں میں مزید ننگا کر دیا ہے ، ن لیگ کی دراصل حکمران طبقات کے باہمی

تضادات کی چپقلش سے تمام تر رنگ بازی کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے انتخابات سے میں پچھلے پانچ سالوں میں اقتدار میں رہنے والی دیگر جماعتوں کے ساتھ مقابلہ ہونے جا رہا ہے یہ انتخابات عوام کے حقوق یا جمہوریت کی بالا دستی کے لئے نہیں کرائے جا رہے ہیں بلکہ 700سے زیادہ ملک کے امیر جاگیر دار اور صنعت کاروں کے خاندانوں کو اقتدار میں شامل کرنے کیلئے منعقد ہو رہے ہیں ایک ہی خاندان میں چار چار پارٹیوں کے ٹکٹ حاصل کیے ہیں ان تمام میں بیشتر وہی

افراد شامل ہیں جو کہ طویل مدت سے سیاسی دھارے پر براجمان ہیں ، انتخابات میں ماضی کی نسبت صورتحال کافی مختلف نویت کی حامل ہیں مگر کچھ حوالوں سے یکسانیت بھی ہے 2013کے انتخابات میں میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے حوالے سے آصف علی زرداری کی کرپشن کو نشانہ بنایا گیا جس سے پیپلز پارٹی کا ورکر خاصہ مایوس ہو گیا 30فیصد نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور باقی گھر سے ووٹ دینے ہی نہیں نکلے تھے دوسرے دہشت گردوں کی دھمکیوں نے پیپلز پارٹی

کی قیادت کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ دی موجودہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی قیادت احتسابی جکڑ بندیوں سے دو چار ہے اس صورتحال میں میاں نواز شریف کس طرح اپنی پارٹی کے ووٹ کو انتخابی عمل میں متحرک رکھ سکتے ہیں یہ بہت بڑا سوال ہے نواز شریف کی لاہور ائیر پور ٹ پر آنے والی ریلیوں کے شرکاء کے خلاف مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں ہیں ان اقدامات کی بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری نے دھبے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے

اس کو جمہوری عمل کیلئے نا خوشگوار قرار دیا ہے اس کے ساتھ سندھ میں پیپلز پارٹی کے حامیوں کی وفا داریاں تبدیل کروانے کے الزامات عائد کے ہیںجبکہ عمران خان نے جنرل ضیاء الحق اور صدر مشرف کے ساتھ رہنے والے سندھی قوم پرست اور جاگیر داروں کے امید واروں کے اتحاد کی حمایت کے اعلان پر خاصے سوالیاں نشان اٹھائے جا سکتے ہیں ،آئندہ انتخابات میں کونسی جماعت اکثریت حاصل کرتی ہے یا کم حاصل کر پاتی ہے انتخابات آزادانہ اور شفاف کروائے جانے

چاہیں تمام معاملات انتہائی اہم ہیں شکست کی صورت میں جماعتیں اجتماعی روایہ استعمال کرتی ہیں یا مصلحت سے کام لیتی ہیں کنٹرول انتخابات ہمیشہ جمہوریت کیلئے مضر ہوتے ہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر دھبہ ہوتے ہیں جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے انتخابات انتہائی اہم ہیں مگر اس میں تمام امید واروں کو آزادانہ طور پر حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے مگر ہمیں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے نواز شریف کو سیاسی عہدے سے ہٹا دیا گیا جس کی وجوہات میں سیاسی کرپشن

شامل تھی اس ساری کامیابی کا سہرا عمران خان اپنے سر باندھ رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک کرپشن ہی پاکستان کی ترقی میں سب سے زیادہ رکاوٹ ہے جس کا ذمہ دار محض نواز شریف خاندان ہے مگر ایسا نہیں ہے یہ تمام نظام میں وسائل کی عدم تقسیم اور اجارہ داریوں کا اقتدار پر قبضہ ہے عمران خان بیروز گاری قرضہ جاتی بحران اور نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ہے اس کو دہشت گردوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ انتخابی مہم چلانے

کی کھلی اجازت ہے محصوص مذہبی جماعتیں اس کی سیاسی خلیف ہیں ہر مسلکی کئی جماعتوں نے علیحدہ علیحدہ اپنے امید وار کھڑے کر دیئے ہیں اس طرح مذہبی ووٹ بینک کا کوئی فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوتا نظر نہیں آ رہا ایسے میں لوگ ووٹ کس کو دیں ان میں انہیں دیں جو ان پر حملہ آور ہیں یا ان کو یہ ہمیشہ آمریتوں کے ساتھی رہے ہیں موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم کو فی الحال منظر سے ہٹا دیا گیا ہے فضل الرحمان کا اثر رسوخ محدود ہے مسلم لیگ ن کو سائیڈ لائن کرنے

کی کوشش کی جا رہی ہے پیپلز پارٹی اور اسٹبلشمنٹ کبھی مل کر بیٹھ نہیں سکتی ہیں اگر مسلم لیگ ن سے کامیابی سے ساتھ نمٹ لیا گیا تو اگلا ہدف پیپلز پارٹی ہوگی عوامی نیشنل پارٹی کی سر گرمیوں کو محدود کر دیا گیا ہے تحریک انصاف سیاسی مبصرین کے تجزیوں کے مطابق دیگر چھوٹی مذہبی جماعتوں جی ڈی اے اور آزاد امید واروں کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوری اتحاد نمبر دو بنانے جا رہی ہے پاکستان میں کمزور سیکولر سیاست ایم کیو ایم پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن

اور اے این پی کی وجہ سے اگر انہیں منظر سے ہٹا دیا گیا تو پھر کن کا راج ہوگا یہ بلا تبصرہ ہے جس طرح بلوچستان اور پختون خواہ میں مخصوص جماعتوں پر حملے ہو رہے ہیں جس سے ڈر ہے شائد یہ ترقی پسند جماعتیں اپنی انتخابی سر گرمیوں سے ہی دستبردار ہو جائیں اگر ایسا تھا تو ریاستی اداروں کو ان پارٹیوں کو پہلے ہی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی ، پنجاب کو ایک مخصوص جماعت کیلئے خالی کرایا جا رہا ہے ان کوششوں کا اینٹی کلائمکس

نظر آ رہا ہے آئندہ چند روز میں نواز شریف اور مریم نواز کے کیسوں کا فیصلہ ہونے والا ہے تاریخی روایت ہے عوام گرنے والے مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں اس ساری کشمکش میں کچھ پارٹیاں قریب آتے ہوئے دیکھائی دیتی ہے جبکہ ایک بڑی پارٹی جس کو اپنے اقتدار میں آنے کا پورا یقین ہے اس نے جس کے ساتھیوں میں گرینڈ ڈیمو کریٹ الائنس شامل ہیں ا س طرح سیاسی منظر دھندلا دھندلا نظر آ رہا ہے اب مسلم لیگ کے تمام لیڈر جیل سے انتخابات لڑینگے کس کس کے ہاتھ

باندھے جا رہے ہیں کس کس کو سر پر بیٹھایا جا رہا ہے پوشیدہ قوتیں ووٹر کے آزادانہ استعمال سے حایف دیکھائی دیتی ہیں بد قسمتی سے ہماری سیاسی قیادتوں میں مستقل مزاجی اور پختہ فکری جمہوری شعور کا ہمیشہ فقدان رہا ہے بلاول بھٹو کی سنجیدہ گفتگو کی طرف میڈیا اور دانشور توجہ دینے کیلئے تیار نہیں ہیں بہر صورت آئندہ انتخابات میں بر سر اقتدار آنے والے اتحاد یا پارٹی کو بے پناہ چیلنجوں کا سامنا ہوگا جس میں پانی کی کمی قرضہ جاتی بحران اور دہشت گردی کا خاتمہ سب سے زیادہ اہم ہے۔