Web
Analytics
عمران ہی کیوں؟ مراد علی شاہد – Lahore TV Blogs
Home / کالم / عمران ہی کیوں؟ مراد علی شاہد

عمران ہی کیوں؟ مراد علی شاہد

کرکٹ سے سیاست تک عمران خان کو ہمیشہ ہی مخالفتوں اور مخا لفین کا سامنا رہا ہے۔اور تو اور وہ لوگ جو کبھی عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیقرار و بے چین دکھائی دیتے تھے جب سے عمران نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا ہے وہ بھی سستی شہرت کے حصول کے لئے عمران کے خلاف یاوہ گوئی اور لغویات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں،مجھے سر سید احمد خان کے دو

واقعات یاد آ رہے ہیں کہ جب انہوں نے اشرافیانہ زندگی کو چھوڑ کر سیاسی اور سماجی کاموں سے بھر پور زندگی کا آ غاز کیا تو وہ تمام نواب اور اشرافیہ جو کبھی سر سید کے محاسن بیان کرتے تھکتے نہیں تھے وہ سب کے سب ان کے خلاف ہوگئے مگر ایسے حالات میں بھی سر سید کے پائوں ڈگمگائے نہیں وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے شب و روز محنت میں لگے رہے،ایک بار ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کی سرکار میں پڑھا لکھا مسلمان ہوں تاہم بے روزگار ہوں اور بعض اوقات تو کھانے پینے کے لئے بھی کچھ دستیاب نہیں ہوتا آپ اگر کسی انگریز سرکار سے میری سفارش کر دین تو میرا بھلا ہو جائے گا اس پر سر سید نے کہا کہ دیکھو سفارش تو میں کسی کی کرتا نہیں ،ہاں میرے پاس ایک مشورہ ہے آپ کے لئے اگر آپ اس پر عمل کر لیں تو مجھے امید ہے آپ کا کام چل پڑے گا ،اس نے پوچھا جناب وہ کیا کام ہے تو سر سید نے کہا کہ دیکھو تم ایک پڑھے لکھے شخص ہو تم میری تفسیر کا رد لکھ دو خوب بکے گی اور تمھیں اچھی خاصی آمدنی بھی ہو جائے گی۔ایسا ہی ایک دوسرا واقعہ کہ ایک بار ایک آدمی حج کے لئے گیا تو واپسی پر سر سید احمد کے خلاف مکہ کی کسی مفتی کا فتویٰ بھی لے آیا کہ سر سید کے خیالات ملحدانہ اور کافرانہ ہیں اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔بات پھیلتے پھیلتے سر سید تک بھی پہنچی تو فرمانے لگے خدایا تیرا شکر ہے کہ میری وجہ سے اس شخص نے حج کی سعادت حاصل کی،نہ وہ میرے خلاف فتویٰ کا سوچتے اور نہ ہی

وہ حج کرنے جاتے۔موجودہ سیاسی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ سیاسی طور پر جو بھی مقبول ہونا چاہتا ہے وہ عمران کے خلاف ایک آدھ ایسا بیان دھاگ دیتا ہے جس سے عمران کی شخصیت پر اثر پڑے نہ پڑے وہ شخص رات و رات شہرت ضرور حاصل کر لیتا ہے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بار لوگ کیوں عمران خان کو اپنا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں،میری نظر میں اس کی بڑی وجہ کینسر ہسپتال،نمل یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ کے پی کے کا پانچ سالہ دورِ اقتدار

ہے جس میں انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ کم از کم ان اداروں کو ٹھیک کیا جائے جو کسی بھی ملک اور معاشرہ کی مضبوطی کا باعث ہوتے ہیں جیسے کہ پولیس،صحت،تعلیم،کھیل،احتساب،پاور سیکٹر اور ٹرانسپورٹ۔اگر ان پانچ سالوں کی کارکرگی کا اندازہ لگا یا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے ان تمام اداروں کی سمت کو درست کرنے کی بھر پور سعی کی ہے اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے،جیسے کہ ایک مثال میں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا کہ کچھ

روز قبل میری ایک سابق سٹوڈنٹ کا فون آیا جو پشاور میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہے ،میں نے اس سے پوچھا کہ سنائو کے پی کے میں کوئی تبدیلی آئی یا بس ایسے ہی شور ہی ہے،تو اس نے جواب دیا کہ سر ابھی چند روز قبل میرے بابا بیمار پڑ گئے تھے تو ہم انہیں حیات آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں فورا لے گئے تو میں یونہی ہسپتال میں داخل ہوئی تو مجھے قطر کے ہسپتال یاد آ گئے،یعنی صاف ستھرے اور سسٹامیٹک۔بہت خوشی ہوئی۔ایسے ہی باقی ادارے بھی اسی

طرز پر ترقی کر رہے ہیں،سوچنے والی یہ بات بھی ہے کہ ہم اس صوبے کی بات کر رہے ہیں جو بلوچستان کے بعد سب سے یادہ محرومی والا صوبہ خیال کیا جاتا ہے۔اگر اس صوبے میں ایسی ترقی دیکھنے میں مل رہی ہے تو پھر اس ترقی کا سرخیل عمران خان ملک کا وزیر اعظم کیوں نہیں؟