Web
Analytics
ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کتنی مفید ثابت ہو ئی۔۔۔ عبدالجبار خان دریشک – Lahore TV Blogs
Home / کالم / ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کتنی مفید ثابت ہو ئی۔۔۔ عبدالجبار خان دریشک

ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کتنی مفید ثابت ہو ئی۔۔۔ عبدالجبار خان دریشک

ٹرمپ اس سیارے یعنی زمین کی عجیب مخلوق میں شمار تو نہیں ہوتا، اور نہ ہی یہ دنیا کا واحد انسان ہے جو انڈے سے نکلے ہو۔ لیکن اس کی حرکتوں سے کبھی کبھی اندازہ یوں ہوتا ہے کہ ٹرمپ واقعی انڈے سے پیدائشی مخلوق ہے ، امریکہ اور روس ماضی میں بھی دوست نہیں تھے اور اب بھی ان میں کوئی لو سٹوری نہیں چل رہی ، معاملات حریفت سے رقیبت تک ان دونوں کے درمیان چلتے رہتے ہیں ، اپنے اپنے مفاد

کے ممالک کے درمیان ان دونوں کی جھوٹی چاہتیں بھی چلتی رہتی ہیں ۔ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کافی دونوں سے ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے بے قرار تھے جیسے ٹرمپ کم جونگ سے ملنے کے لیے بے صبرے تھے ، دونوں ایک دوسرے کو شکوے شکایات کرنے کے لیے ملنا چاہتے تھے۔ تو ان دونوں کی خواہش ہوری ہوگئی ، گزشتہ دن کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات بند کمرے میں ہوئی ، جس کی تیاریاں کئی مہینوں سے جاری تھیں۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے وسیع تر اہمیت کے حامل مسائل پر گفتگو کی گئی۔ یہ تعمیری اور مثالی بات چیت تھی۔ اب یہ گفتگو کتنی تعمیری ہوئی ہو گی۔ ٹرمپ کا اس ملاقات سے کچھ دیر پہلے کا بیان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ گپیں مارنے کا عادی ہے بلکہ عادی بیمار ہے۔ ملاقات سے قبل ٹرمپ نے ’سی بی ایس‘ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس، چین اور یورپی یونین ہمارے دشمن ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہمیں بہت سے ممالک کی پالیسیوں سے اختلافات ہیں۔ یورپی ممالک ہمارے ساتھ تجارت کے حوالے سے جو کچھ کررہیہیں وہ دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔ روس بھی کئی پہلوؤں سے ہمارا دشمن ہے جبکہ چین کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ ہمارا اقتصادی حریف ہونے کی بنا پر دشمن ہے۔ ٹرمپ نے یہاں اپنی بات کا رخ تبدیل کرتیہوئے کہا کہ یہ ممالک دشمن ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب بْرے بھی ہیں ، اب

انکل سام کو کون سمجھائے کہ دشمن برے نہیں ہیں تو اچھے بھی نہیں ہوتے۔دراصل امریکہ کے یورپ میں مفادات کم ہورئے ہیں، خاص کر جرمنی روس کے زیادہ زیر آثر میں آچکا ہے، یہ صورت حال تب بنی جب ٹرمپ نے سٹیل اور ایلیومینم پر ٹیکس عائد کیا اس کے جواب میں چین اور یورپ نے امریکہ کے گوشت سبزیوں پھلوں اور سویابین پر بدلے میں ٹیکس لگا دیا جس سے امریکہ کی زرعی شعبہ کو دھچکا لگا تھا، ساتھ ہی چین نے یورپی ممالک کو کہا کہ وہ اس کی کرنسی میں

تجارت کرسکتے ہیں ، ایسی آفر چین ایران اور پاکستان کو دے چکا ہے۔ جبکہ خود روس بھی یورپ کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کرنے کا خواہشمند ہے‘ اس کے بعد ٹرمپ نے روس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کییاور یورپی ممالک کا قائل کرلیا کہ اگر روس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرتے ہیں تو ان کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی جب انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا تو تو ایک ماہ بعد ٹرمپ نے ٹیکس کی چھوٹ کا فیصلہ واپس لے لیا ٹیکس واپسی کا فیصلہ یورپی ممالک کے

لیے بڑا دھچکا تھا۔ پھر ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والی ڈیل کو ٹرمپ نے توڑ دیا اور امریکہ اس معاہدے سے الگ ہوگیا ، یہ ناراضگی بھی یورپ کے ممالک میں پائی گئی کیونکہ اسی ڈیل کی وجہ سے یورپی کمپنیوں نے ایران میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی، جس کو فوری واپس کرنا ان کے لیے مشکل تھا، اسی سے ان کا سرمایہ ضائع ہوا۔ روس تو امریکہ کا ویسے ہی پرانا حریف ہوا ، ٹرمپ نے امریکی الیکشن پر اثرا انداز ہونے کے متعلق بھی پوٹن سے پوچھ جس کے جواب

میں پوٹن نے کہا ہمیں ان 12 افراد تک رسائی دی جائے جن پر یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ اس فعل میں مجرم پائے گئے ہیں۔ گذشتہ دنوں امریکہ کی ایک گرینڈ جیوری نے ایک درجن روسی جاسوسوں پر فرد جرم عائد کی جنہوں نے امریکیوں کا ڈیٹا ہیک کیا تھا ، یہ ہیکنگ امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے کی گئی ، امریکہ میں خصوصی تفتیش کار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ان لوگوں نے پانچ لاکھ ووٹرز کا خفیہ ڈیٹا چوری کیا ہے ‘روس کے ساتھ دوسرا معاملہ

ایران کا بھی ہے روس کے ایران کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں اور یہ بات امریکہ کو پسند نہیں اور اس ناپسندیدگی کے پیچے اسرائیل کھڑا ہے ، اور اسرائیل کو تکلیف ایران کی شام میں اثرانگیزی سے ہے اور مزید پریشانی ایران کا اٹیمی پروگرام ہے۔ ایران شام میں داعش کا خاتمہ کر رہا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ نیک کام اپنے ہاتھوں سے کرے ، یہی ہی نہیں ایران اب افغانستان میں بھی داعش کے خاتمے کے لیے پرعزم ہوچکا ہے اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ اسی دن فن لینڈ میں

روس اور امریکہ کے سربراہوں کی ملاقات ہوئی اور دوسری طرف ایرانی افواج کے اہم عہدے داروں کی اسلام آباد میں پاک آرامی کے اعلی عہدے داروں سے ملاقات ہوئی، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل ڈاکڑ محمد باقری وفد کی قیادت کر رہے تھے۔اس اہم ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیاکہ افغانستان سے داعش کا خاتمہ مل کر کیا جائے اس سے پہلے اسلام آباد میں اسی ہفتے روس ، چین ، ایران اور پاکستان کے انٹیلی جنٹس حکام کی ملاقات ہوچکی ہے

، بلوچستان میں سانحہ مستونگ اور ملک میں نئی دہشت گردی کی لہر میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ خطے میں امن کی بحالی کے لیے یہ ملاقات بہت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ایران کی قربت پاکستان سے چند وجوہات کی بنا پر ہورہی ہے خود ایران کو افغانستان میں دہشت گرد گروہوں سے خطرات ہیں ، دوسرا چین اور روس کا ایک پیج پر جمع ہونا چاروں ممالک افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کا عزم رکھتے ہیں۔ تیسرا ایران اور بھارت کے درمیان دوری جس میں امریکہ کا ہاتھ ہے

بھارت نے امریکہ کے کہنے پر ایران سے تیل کی تجارات کم کر دی ہے اور 4 ستمبر تک مکمل طور پر امریکہ نے تیل کی تجارت ختم کرنے کا بھارت کے نام حکم نامہ جاری کر دیا ہے ، ایران اور پاکستان کے بہتر ہوتے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں اچھے رہیں گے دونوں سرحدی دہشت گردی کے ساتھ مستقبل میں تجارت اور سی پیک میں شراکت داری کر سکتے ہیں۔مزید اسی دن تیسرا اتفاق یہ ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوج کے سربراہ اور کمانڈر ریسولوٹ سپورٹ

فورسز جنرل جان نکلسن نے اپنے ایک بیان کہا کہ امریکہ افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ مذاکرات کا مقصد افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ لیکن یہ بھی اتفاق ہے کہ اس بیان میں داعش کے خاتمے کا ذکر امریکہ کی طرف سے نہیں کیا گیا ، ادھر امریکہ طالبان سے مذکرات کر رہا ہے تو دوسری طرف چاروں ممالک پاکستان، چین، روس، اور ایران داعش کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ مطلب امریکہ کا افغانستان

میں اور موقف ہے اور ادھر ان چاروں ممالک کا الگ موقف ہے ، داعش کے خاتمے کے لیے امریکہ کو ان چاروں ممالک کے موقف کی تائید کرنی چاہیے تبھی افغانستان میں امن کی فضاء قائم ہوگی ، اور ان چاروں ممالک کے تعاون کے بغیر امریکہ کو کامیابی ملنا نامکمن ہے۔ اب پوٹن اور ٹرمپ کی یہ ملاقات کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے یہ دونوں ممالک روس اور امریکہ کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر منحصر ہے لیکن حالات ایسے نظر نہیں آ رہے جہاں امریکہ کے

مفادات ہیں وہاں روس کو خطرات ہیں اور جہاں روس کے مفادات ہیں وہاں امریکہ کے لیے خطرات ہیں۔ یہ ملاقات اہم ضرور تھی لیکن اس ملاقات سے مستقبل میں کوئی بہتر تنائج برآمد نہیں ہوں گے ، بس یہ سب کچھ ٹرمپ آئندہ الیکشن کے لیے ایک جواز تیار کر رہا کہ اس نے فارن پالیسی اور امریکہ کے مستقبل کے لیے دشمنوں سے ہاتھ ملایا تھا جس کے لیے پہل بھی اس نے کی تھی۔ امریکہ گر چالاک ہی سہی لیکن روس اس کے مقابلے وہ زہر ہے جس کا اثر بہت دیر بعد بڑا بھیانک ہوتا ہے ۔