Web
Analytics
آج کا ریاستی بیانیہ اور نظریہ پاکستان!افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / آج کا ریاستی بیانیہ اور نظریہ پاکستان!افتخار بھٹہ

آج کا ریاستی بیانیہ اور نظریہ پاکستان!افتخار بھٹہ

11اگست کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے تاریخی خطاب میں فرمایا پاکستان میں نہ کوئی مسلمان نہ کوئی عیسائی نہ کوئی ہندو نہ سکھ نہ پارسی مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ سیاسی حوالے سے تمام پاکستانی ہیں یہی نقطہ نظر رکھ کر ترقی پسند جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو شہید اور بلاول بھٹو زرداری تقاریر کرتے رہے ہیں مگر ایسا کچھ جنرل ضیاء الحق اس کے سیاسی وارثوں

اور عمران خان کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا ہے پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں نظام ، حکومت اور اختیارات کے حوالے سے مبہم نقطہ نظر اور اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو کہ ایوب خان کی بنیادی جمہورتوں کے نظام ذوالفقار علی بھٹو کی سوشل از م کے نام پر سیاست صدر ضیاء الحق کی اسلامی نظام کے قیام پر آمریت کے زیر اثر کنٹرول ڈیمو کریسی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی محاذ آرائی جہادافغانستان کے نام پر مذہبی فرقہ وارانہ گروہوں کا ابھار اور دہشت گردی اور خود کش حملوں کی وارداتوں کے بعد ہم تیسری مرتبہ تسلسل کے ساتھ تیسری مرتبہ جمہوری انتقال اقتدار کی طرف جا رہے ہیں سابق انتخابات میں دو جماعتی نظام قائم تھا مگر2013کے انتخابات میں تحریک انصاف نے سسٹم میں گنجائش پیدا کر لی ہے اب 2018میں ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جس کی نمائندگی وفاقی اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہے ، عمران خان سے قبل بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے نئے پاکستان کی بات کی ہے پیپلز پارٹی کے نعرے اسلام سوشل ازم اور جمہوریت موجودہ سیاسی تناظر میں غیر متعلق ہو چکے ہیں حالانکہ اس دور میں محنت کش طبقات کیلئے اسودگی کا دور شروع ہوا تھا کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش محنت مزدوری کیلئے عرب ریاستوں اور دیگر ملکوں میں چلے گئے تھے اور آج بھی مارکیٹ منڈیوں میں خریدو فروخت کی رونق انہیں تارکین کی بھجوائی ہوئی رقوم کی وجہ سے ہے مسلم لیگ ن کی

حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اپنی کارکردگی دکھانے کی کوشش کی جبکہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعروں اور عدالت سے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا کے بعد پنجاب میں سیاست کا منظر نامہ تبدیل کر دیا ہے اگر عمران خان اور نواز شریف کے سیاسی نظریات اور حرکیات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو دونوں ہی انتہائی دائیں بازو کے سرمایہ دارانہ نظریات کے حامی اور سیاسی طور پر طالبان کے نظریاتی حلیف محسوس ہوتے ہیں اس حوالے سے

عوام میں خاصے شک شبہات پائے جاتے ہیں عمران خان نے کبھی طالبان کیخلاف بیان نہیں دیا ہے اور بطور وزیر اعظم پہلا دور افغانستان کرنے کا اعلان کیا ہے یاد رہے کہ فل وقت آدھے سے زیادہ افغانستان پر طالبان اور داعش کا قبضہ ہے امریکہ بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہے اس کا مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے دانش مندی کا تقاضہ ہے افغانیوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے دینے چاہیں اور امریکہ کو بھی انے مسائل خود حل کرنے چاہیں جس

میں سب سے بڑا مسئلہ کھربوں ڈالر کے تجارتی خسارے اور اور بانڈز کی چین کو ادائیگی کے متعلق ہے اس حوالے سے امریکہ چین کی طرف سے بہت دبائو کی حالت میں ہے ۔بانی پاکستان نے فرمایا کہ پاکستان نے رشوت ستانی اور بد عنوانی کو برداشت نہں کیا جائے گا اب یہی بات عمران خان کر رہا ہے پاکستان میں بد عنوانی کا سلسلہ متروکہ املاک کی لوٹ مار سے شروع ہوا تھا ہندئوں کے کاروبار پر مقامی لوگوں نے مال غنیمت سمجھ کر قبضہ کر لیا تھااوقاف ٹرسٹ کے

مختلف سر براہان کو اس حوالے سے ابھی تک مقدمات کا سامنا ہے اس ساری صورتحال میں سوائے بھٹو صاحب کے جنہوں نے پاکستان کے لوگوں کو ایک لباس دیا جو آج مزدور سے لیکر وزیر اعظم پہنتے ہیں حقوق کے بارے میں سیاسی شعور دیا اب اس کی مگر موجودہ ملکی لیڈر شپ میں نظریہ اورحصول کی کوئی گنجائش دیکھائی نہیں دیتی، کیونکہ سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں اور آمروں نے اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کے استحکام اور طوالت کیلئے سمجھوتے کیے ہیں ایسا

ہی کام صاف وشفاف لیڈر عمران خان اپنے نظریات اصولوں کے برعکس اقتدار کی خاطر متصادم نظریات رکھنے والے ارکین اسمبلی کو تحریک انصاف میں شامل کر رہا ہے اس طرح سے عمران خان کے نظریاتی ایجنڈے کی بظاہری طور پر تکمیل ممکن نہیں دیکھائی دیتی ہے مگر ہمیں کسی فیصلہ کن نتائج کے لئے انتظار کرنا چاہیے کرپشن پاکستان میں کس شعبے میں نہیں ہے اور عمران خان کے بیشتر ساتھی اسی بد عنوانی کا حصہ اور کل پروزے رہے ہیں بد عنوانی سے شفاف

سماج کے قیام کا معجزہ کس طرح پاکستان تحریک انصاف کی قیادت دیکھا سکے گی اس پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔14اگست کے قریب آتے ہی قیام پاکستان کے مقاصد کے بارے میں بڑی دانشوارانہ گفتگو تقاریر مضامین اور ٹی ٹاکس سننے پڑھنے اور دیکھنے کوملتے ہیں جن میں پاکستان کے قیام کے سیاسی سماجی اور معاشی محرکات کے حوالے سے تجزیے کیے جاتے ہیں کیا پاکستانی ریاست کو سیکو لر سیاست بنانا تھا یا مذہبی بنانا تھا،مذہبی لابی کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے پس

پشت مذہبی محرکات کار فرما تھے یہ مذہب ہی تھا جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کو قیام پاکستان کیلئے متحرک کیا مگر ہندوستان کی مذہبی جماعتوں نے اس کی مخالفت کیوں کی جس میں مولانا حسین احمد مدنی ، مجلس احراف اور جماعت اسلامی وغیرہ شامل تھے جماعت اسلامی کے دانشور یہ بات کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ مولانا موودی پاکستان کے مخالف نہیں تھے بلکہ وہ مسلم لیگ کی مغرب زدہ قیادت سے نالاں تھے اج بھی ان مذہبی جماعتوں کو پاکستان کے جمہوری

منظر نامے میں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور ان کا بیانیہ ہمیشہ کمزور ثابت ہوا ہے لبرل اور لیفٹ کے دانشوروں اکا موقف ہے کہ قیام پاکستان کے محرکات سیاسی اور معاشی تھے مسلم اشرافیہ نے اپنے تحفظ کیلئے قیام پاکستان کی تحریک کی حمایت کی کیوںکہ وہ کانگرنس کی ریڈیکل معاشی اور سماجی پروگراموں سے حائف تھے اور انہوں نے تحریک کی حتمی کامیابی کیلئے مذہب کا سہرا لیا آج ہمیں یہ نعرہ دوبارہ مدینہ جیسی ریاست کی قیام کی صورت میں عمران

خان کی زبان سے سنائی دیتا ہے وہ غریب اور محنت کش طبقات کے حقوق کی بات کرتا ہے جبکہ اس کی حامی مڈل اور اپر مڈل کلاس بالائی امیر طبقات میں شمولیت کی خواہش مند ہے لفٹ اور لبرل اپنے موقف کے حق میں قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کو پیش کرتے ہیں اور ان میں سے کئی ایک اپنے ترقی پسندانہ کتھارسس کا اظہار نواز شریف اور عمران خان کے بیانیہ میں دیکھتے ہیں ان کے نزدیک ماضی میں قائد اعظم کی آئوٹ لک جدیدیت اور سیکو لر ازم پر مبنی تھی

لبرلز کے پاس نظریاتی حوالے سے قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر ہے جس میں مذہبی اور عقیدے کا کچھ لینا دینا نہیں ہے اگر پاکستان کو سیکو لر سیاست بننا تھا تو پھر کانگرنس کے ساتھ اختلاف کیسا تھا وہ اس بات کا جوابدیتے ہیں کہ قائد اعظم کے مطالبات کو ہندو قیادت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لہذا وہ پاکستان بنانے کے مطالبہ پر ڈٹ گئے تیسرے نقطہ نظر کے مطابق پاکستان کے قیام کے پس پشت پر سامراجی مقاصد کی تکمیل تھی پاکستان کی حالیہ تاریخ میں مذہبی

جماعتوں کے طالبان کی حمایت کرنے کے ساتھ ان کی اسلامی ریاست کے قیام کیلئے مسلح جدو جہد کی حمایت کی تھی اور انہیں اپنے روٹھے ہوئے بھائی قرار دیا تھا جبکہ ایسی اخلاقی حمایت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی طرف سے بھی رہی ہے پاکستان کے قیام کی دجوہات مذہبی یا سیکو لر تھی اب اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے اب پاکستان کے قیام کی نظریاتی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے ہمیں20کروڑ ابادی کے بنیادی مسائل تعلیم صحت روزگار اور

غربت کو حل کرنے کیلئے معیشت کے جامد پہیہ کو متحرک کرنا ہوگا اب نظریاتی اثاث غیر متعلق ہو چکی ہے پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز حقوق دینے چاہئیں جمہوری اداروں اور سول بالا دستی کو یقینی بنانا چاہئے دنیا بھر اور خطے کے ممالک کے ساتھ برابری کے سطح پر تعلقات قائم کرنا چاہئے آج کے عہد کا یہ نظریہ پاکستان ہے۔