Web
Analytics
گلگت کی آزادی کا پس منظر ۔۔۔ عامر جہانگیر – Lahore TV Blogs
Home / ادارہ / گلگت کی آزادی کا پس منظر ۔۔۔ عامر جہانگیر

گلگت کی آزادی کا پس منظر ۔۔۔ عامر جہانگیر

تاریخ اور ثقافت قوموں کی میراث ہوتی ہے اور زندہ قومیں ہمیشہ اپنے مستقبل کا تعین اپنے ماضی کو مد نظر رکھ کر کرتی ہیں۔شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے غیور عوام نے 1947ء میں ظالم اور غاصب حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے آزادی حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی اور اپنے ماضی کے بارے میں معلومات کا حصول ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔یقینا وہی قومیں ترقی پاتی ہیںجو اپنے ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی لام بندی کرتی ہیں ۔غالباًیہی تاریخ کے مطالعے کا مقصد بھی ہوتا ہے ۔گلگت بلتستان کی آزادی کی

داستان کی مثال اس چنگاری کی سی ہے جو پھوٹی گلگت بلتستان کے پہاڑوں ،جنگلوں اور حسین وادیوںسے لیکن اس کی تپش /گرماہٹ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے شمع آزادی کی صورت میںمحسوس کی ۔یہ سلسلہ گلگت بلتستان کے ان بہادر سپوتوں کی دانشمندی کا ہے جو قراقرم کے پہاڑوں سے بھی بلند تر عزم کے مالک تھے۔آزادی کی اس خود رو چنگاری کے پھوٹنے کا مطلب پہاڑوں کا سینہ پھاڑتے ہوئے ہزاروں قسم کے پھولوں کا حسین گلدستے کا وجود ہے اور یہ گلدستہ پاکستان کے ماتھے کا جھومر بنا ۔گلگت بلتستان کی تاریخ ایک خاص حیثیت رکھتی ہے جو زیادہ تر سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی گئی جس کی وجہ سے یہ لازمی امر ہے کہ اس کی حقیقت قائم رکھنا مشکل ہے لیکن جو تاریخ تحریر کا حصہ بنی آج وہی اس علاقے کا تاریخی سرمایہ ہے ۔تاریخ کے مطابق 1842ء کو کریم خان گلگت کا راجہ تھا جس نے پنجاب کے سکھوں کو گلگت پر قبضہ کرنے کی دعوت دی اور سکھوں نے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے گلگت پر چڑھائی کی لیکن یاسین کے راجہ گوہر امان نے جواں مردی سے 1848ء تک سکھ کمانڈر نتھے شاہ کا مقابلہ کیا ۔بعد میں گوہر امان کو شکست دینے کے لیے متھراداس ہندو کی طرف سے کوشش کی گئی لیکن ناکام لوٹا ۔1847ء کو نتھے شاہ نے اپنے اتحادیوں سے مل کر ناکامی کا بدلیہ لینے کے لیے ہنزہ پر حملہ کیا لیکن جوابی حملے میں دونوں(کریم خان اور نتھے شاہ) مارے گئے۔ کشمیر کے ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ نے کریم خان کے پوتے کو گلگت کا راجا بنا دیا ۔گوہر امان نے کشمیر سے ڈوگرہ کی فوج کو بھی باہر دھکیلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈوگروں پر حملہ کیا تو ڈوگروں نے

بونجی کے کمانڈر بھوپ سنگھ کو مدد کے لیے پکارا ۔بھوپ سنگھ نے گلگت کی طر ف مارچ کیا لیکن گوہر امان نے جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے ڈوگرہ فوج اور اس کے اتحادیوں کا مکمل صفایا کر دیا اور ڈوگرہ حکومت کی گلگت پر قبضہ کی خواہش صرف خواہش ہی رہ گئی ۔لیکن1857ء کو جب مہاراجہ گلاب سنگھ کی وفات کے بعد رنبیر سنگھ کشمیر کا مہاراجہ بنا۔1860ء میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے گلگت پر قبضہ کی ٹھان لیا ۔اوراس دفعہ بڑی آسانی سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے گلگت کو ریاست جموں وکشمیر کی عمل داری میں شامل کر دیا

۔ریاست جموں وکشمیر کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان بھی جغرافیائی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے ۔انیسویں صدی کے وسط میں جب روس نے اپنی سرحدی حدود میں توسیع کرنا شروع کی تو برطانوی سامراج کو ہندوستان میں اپنے مفادات خطرے میں نظر آنے لگے ۔خاص طور پر 1935ء میں جب روس نے چینی ترکستان کے صوبہ سنکیانگ پر قبضہ حاصل کر لیا تو پھر 6مارچ 1935ء میں انگریزوں نے گلگت کو مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ سے 60سالوں کے لیے پٹے پر لیتے ہوئے اپنی عمل داری میں شامل کرتے ہوئے گلگت ایجنسی قائم کی ۔

اپریل 1935ء کو گلگت ایجنسی میں چار کمپنیاں مستقل طور پر قائم کر لی گئیں ۔ہنزہ اور نگر سے ایک ایک کمپنی اور گلگت ،پونیال ،یاسین اور کوہ غذر سے آدھی آدھی کمپنی تشکیل دی گئی ۔اور گلگت ایجنسی کے قیام کے بعد اس کے دفاع کی تمام تر ذمہ داری 1889ء میں قائم ہونے والی گلگت سکائوٹس کے سپرد کر دی گئی۔3جون1947ء کے تقسیم برصغیر کے منصوبہ کے مطابق حکومت برطانوی ہند اور برصغیر کی ریاستوں کے درمیان ہونے والے تمام معاہدات منسوخ تصور ہوئے تو یکم اگست 1947ء کو حکومت برطانوی ہند نے گلگت ایجنسی کو

مہاراجہ کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا تو مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے برطانوی پولٹیکل ایجنٹ کی جگہ بریگیڈیر گھنسار سنگھ کو گلگت کا گورنر مقرر کیا ۔گلگت روانگی سے قبل مہاراجہ کے پولیٹیکل سیکرٹری نے گھنسار سنگھ کو گلگت کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت کے جملہ سول ملازمین اور سکائوٹ نے اپنے مستقبل کو پاکستان سے وابستہ کر رکھا ہے ۔گھنسار سنگھ 30جولائی 1947ء کو میجر جنرل سکاٹ کے ہمراہ گلگت پہنچا ۔جہاں سکائوٹ کے دیگر افسران اور ملازمین سے ملاقات کی جس میں تمام نے یہ واضح کیا کہ ان کا

مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے اور وہاں کے باسیوں کے خوابوں اور خیالوں میںصرف اور صرف پاکستان ہی رچا بسا ہوا ہے ۔ریاست کے دور افتادہ علاقوں میں کرنل مرزا حسن خان جنگ آزادی کی قیادت کر رہے تھے ۔کرنل مرزا حسن نے بہ طور کپتان نمبر 6جموں وکشمیر انفنٹری بٹالین میں کمپنی کمانڈر تھے اور بٹالین کے لیفٹیننٹ کمانڈر عبدالحمید خان تھے ۔بریگیڈیر گھنسار سنگھ نے اپنی کتاب Gilgit Before 1947 میںگلگت کی جنگ آزادی کا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے ۔بقول پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور عباسی کہ کرنل مرزا حسن خان نے مجھے خود

بتایا ہے کہ چلاس سکائوٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جان عالم ،گلگت سکائوٹ کے کیپٹن محمد سعید ،کیپٹن غلام حیدر اور ڈوگرہ فوج کے کیپٹن محمد خان جرال کے علاوہ گلگت سکائوٹ کے صوبیدار میجر بابر خان کو ساتھ ملایا اور ان سب نے مجھے (کرنل مرزا حسن) کو اپنا لیڈر چنا ۔پوری ریاست میں جنگ آزادی کے نتیجہ میں 24اکتوبر1947ء کو ریاست جموں وکشمیر کے ایک حصہ میرپور ،پونچھ اور مظفرآباد پر مشتمل غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میںآزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کی بنیاد رکھی۔27اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں

وکشمیر کے دوسرے حصہ جموں ،سری نگر اور لداخ پر جبراً بھارت نے اپنی فوج سرینگر کے ہوائی اڈہ پر اتارتے ہوئے قبضہ کر لیا۔ اس خبر کے نشر ہوتے ہی کرنل مرزا حسن خان نے کیپٹن حیدر اور صوبیدار میجر بابر سے رابطہ قائم کرتے ہوئے گورنر گھنسار سنگھ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔سکائوٹ کی ایک پلاٹون نے 31اکتوبر اور یکم نومبر 1947ء کی درمیانی شب کو گورنر ہائوس کا محاصرہ کیا اور یکم نومبر علی الصبح گھنسار سنگھ کو حراست میں لے لیا اور ریذیڈنسی پر پاکستانی پرچم لہرایا ۔کرنل مرزا حسن کی تجویز پر گلگت کے

راجہ شاہ رئیس خان کو عبوری طور پر صدر نامزد کیا اور کرنل مرزا حسن خان کو جنگی امورکا لیڈرچنا گیا ۔نومبر کے وسط میں شاہ رئیس خان ،مرزا حسن خان اور صوبیدار میجر بابر خان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے سردار محمد عالم خان کو گلگت کا پولیٹکل ایجنٹ مقرر کیا ۔گلگت چونکہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھا تو اس لیے28 اپریل 1949ء کو آزادکشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم خان اور ریاست کی واحدنمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس نے معاہدہ کراچی کے تحت انتظامی امور کی

انجام دہی اور دیکھ بحال کے لیے گلگت بلتستان کو حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا ۔یہ واحد دستاویز(معائدہ کراچی)ہی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا قانونی اور آئینی حصہ ہے ۔گلگت ایجنسی کی تمام تر آبادی مسلمان ہے تاہم چند سکھ اور ہندو بھی تجارت کی غرض سے گلگت آتے تھے ۔گلگت کے بسنے والے مسلمان مختلف گروہوں میں ہیں ۔ہنزہ ،پونیال ،یاسین اور کوہ غذر کے زیادہ تر لوگ اسماعیلی ہیں یعنی آغا خان کے پیروکار ،نگر کی تمام آبادی شیعہ مسلک سے متعلق ہے ۔یاسین اور کوہ غذر کے علاقوں میں

سنی کم تعداد میں موجود ہیں ۔اشکومن میں سنی اور اسماعیلی مل کر رہتے ہیں ۔گلگت سب ڈویژن میں شیعہ سنی مل جل کر رہتے تھے ۔گلگت بلتستان میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں ۔جن میں شینا،بلتی، واکھی،کھوار اور بروشسکی زیادہ بولی جانے والی ہیں ۔پولو گلگت کا قومی کھیل ہے جو ستمبر کے آخر سے لے کر اپریل کے شروع تک ہوتا ہے ۔گلگت شہر میں ہفتے میں دوبار یعنی سوموار اور جمعرات کو پولو کھیلا جاتا ہے ۔گلگت میں دو پولو گرائونڈ ہیں ۔ایک کو شاہی پولو گرائونڈ اور دوسری پرانی پولو گرائونڈکہتے ہیں ۔