Web
Analytics
مقناطیسی دھاگے کے ذریعہ آپریشن – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / مقناطیسی دھاگے کے ذریعہ آپریشن

مقناطیسی دھاگے کے ذریعہ آپریشن

سعودی عرب میں ہمارے ایک واقف کار رہتے تھے، ان کا ایک اکلوتا بیٹاتھا، اسے پرندوں کے شکار کا شوق ہوا، انہوں نے اسے ائیرگن لے کر دے دی اب وہ نوجوان عصر کے بعد باہر نکلتا اور پرندوں کا شکار کرتا، وہ پرندوں کا شکار کرنے کے لیے نکلا اور اس نے چھرے منہ میں ڈال لیے، وہ ایک ایک چھرہ نکالتا اور ائیر گن کے اندر رکھ کر نشانہ باندھتا، اللہ کی شان کہ ایک مرتبہ اس نے چھرہ نکالنے کے لیے منہ

کھولا تو ایک چھرہ اس کی ہوا کی نالی میں چلا گیا، اسے یہ تھوڑا عجیب تو لگا اور تکلیف بھی ہوئی، لیکن جب وہ اندر اتر گیا تو مطمئن ہوگیا کہ اب یہ پیٹ میں چلا گیا ہے، یہ نکل جائے گا لیکن وہ پیٹ میں نہیں بلکہ پھیپھڑے میں گیا تھا اور پھیپھڑا ہر وقت کھلتا اور بند ہوتا رہتا ہے، جب لوہے کی بنی ہوئی چیز پہنچی تو وہاں زخم ہونا شروع ہو گیا، اسے دس پندرہ دنوں کے بعد بخار ہونا شروع ہوگیا، ڈاکٹروں نے دوائیاں دیں مگر بخار نہ اترا، ڈاکٹر حیران تھے کہ دوائی اثر کیوں نہیں کر رہی، بالآخر انہوں نے کہا کہ اس کا جنرل چیک اپ کروائیں، چنانچہ جب اس کا الٹرا ساؤنڈ کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کے پھیپھڑے کے اندر لوہے کی بنی ہوئی کوئی چیز ہے، اب ڈاکٹروں نے آپریشن کروانے کو کہا، آپریشن بھی ڈبل ہوگا، پہلے پیٹ کھولیں گے پھر پھیپھڑے کو کاٹ کر اندر سے چھرہ نکالیں گے، ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ اس کی کامیابی کے چانس بہت تھوڑے ہیں، چونکہ وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، اس لیے اس نے رونا شروع کر دیا کہ میرے بیٹے کی جان کو خطرہ ہے، چنانچہ اس نے کچھ اور ڈاکٹروں سے مشورہ کیا، ایک ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ جدہ میں کنگ عبدالعزیز ہسپتال ہے، انہوں نے اینڈوگرافی ڈیپارٹمنٹ میں نئی نئی مشینیں منگوائی ہیں، آپ وہاں لے جائیں، چنانچہ یہ وہاں پہنچ گیا، انہوں نے مریض کو آپریشن تھیٹر میں لٹایا اور انہوں نے تار کی موٹائی کے برابر کوئی چیز ناک کے ذریعے سانس کی نالی میں داخل کی، اس تار کا سرہ مکھی کے سر کے برابر موٹا تھا، اس

مکھی کے سر کے برابر جگہ میں لائٹ بھی تھی اور وڈیو کیمرا بھی تھا، وہ اسے اندر ڈالتے رہے اور اسکرین پر اس کی تصویر دیکھتے رہے، جب انہوں نے اس کو اس دھاتی چیز (چھرہ) کے ساتھ ٹرچ کر دیا تو پیچھے سے انہوں نے بٹن آن کرکے اسے مقناطیس بنا دیا، اب اسے مقناطیسی دھاگے نے پکڑ لیا، انہوں نے تین منٹ میں پھیپھڑے کے اندر پڑے ہوئے اس چھرے کو نکال کر باہر میز پر رکھ دیا، یہ کیا چیزہے؟.یہ مادی علم ہے… مادی علم پر محنت کرنے والے اگردھاگے کے ذریعہ اندر کے نقصان دہ مادہ کو نکال سکتے ہیں تو کیا اہل اللہ باطنی امراض میں مبتلا لوگوں کے رزائل کو نگاہ توجہ سے زائل نہیں کرسکتے؟