Web
Analytics
نماز میں خیال آجانے سے باغ خدا کی راہ میں دینا – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / نماز میں خیال آجانے سے باغ خدا کی راہ میں دینا

نماز میں خیال آجانے سے باغ خدا کی راہ میں دینا

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے ایک پرندہ اڑا اور چونکہ باغ گنجان تھا اس لئے اس کو جلدی سے باہر جانے کا راستہ نہ ملا. کبھی اس طرف کبھی اس طرف اڑتا رہا اور نکلنے کا راستہ ڈھونڈتا رہا ان کی نگاہ اس پر پڑی اور اس منظر کی وجہ سے ادھر خیال لگ گیا اور نگاہ اس پرندہ کے ساتھ پھرتی رہی دفعتہ نماز کا خیال آیا تو سہو ہوگیا کہ کون سی رکعت ہے نہایت

قلق ہوا کہ اس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی کہ نماز میں بھول ہوئی فوراً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا قصہ عرض کر کے درخواست کی کہ اس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی اس لئے میں اس کو اللہ کے راستے میں دیتا ہوں۔آپ جہاں دل چاہے اس کو صرف فرما دیجئے. اسی طرح ایک اور قصہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں پیش آیا کہ ایک انصاری اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کھجوریں پکنے کا زمانہ شباب پر تھا اور خوشے کھجوروں کے بوجھ اور کثرت سے جھکے پڑے تھے نگاہ خوشوں پر پڑی اور کھجوروں سے بھرے ہونے کی وجہ سے بہت ہی اچھے معلوم ہوئے. خیال ادھر لگ گیا جس کی وجہ سے یہ بھی یاد نہ رہا کہ کتنی رکعتیں ہوئیں. اس کے رنج اور صدمہ کا ایسا غلبہ ہوا کہ اس کی وجہ سے یہ ٹھان لی کہ باغ ہی کو اب نہیں رکھنا جس کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی. چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا کہ یہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہتا ہوں اس کو جو چاہے کیجئے. انہوں نے باغ کو پچاس ہزار میں فروخت کر کے اس کی قیمت دینی کاموں میں خرچ فرما دی. یہ ایمان کی غیرت ہے کہ نماز جیسی اہم چیز میں خیال آ جانے سے پچاس ہزار درہم کا باغ ایک دم صدقہ کر دیا. ہمارے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قول جمیل میں صوفیہ کی نسبت کی قسمیں تحریر فرماتے ہوئے اس کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ یہ نسبت ہے اللہ کی اطاعت کو ماسویٰ پر مقدم رکھنا اور اس پر غیرت کرنا کہ ان حضرات کو اس پر غیرت آئی کہ اللہ کی اطاعت میں کسی دوسری چیز کی طرف توجہ کیوں ہوئی؟