Web
Analytics
بھارت خواتین کے لیے خطرناک ملک قرار! عبدالوارث ساجد – Lahore TV Blogs
Home / کالم / بھارت خواتین کے لیے خطرناک ملک قرار! عبدالوارث ساجد

بھارت خواتین کے لیے خطرناک ملک قرار! عبدالوارث ساجد

یہ انڈین ریاست جھار کنڈ کا واقعہ ہے جس نے وہاںکے ہر انسان کووحشت زدہ کر دیا ۔سات دن میں وہاں دو لڑکیوں کو زبردستی ریپ کر کے زندہ جلا دیا گیا ۔ اس خوفناک خبر کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے ظاہر ہے جن افراد نے اس درندگی کو قریب سے محسوس کیا ہو گا وہ وحشت زدہ تو ہوں گے ہی۔ اب تو یہ ایک ریاست کی بات نہی ر ہی بھارت میں خواتین سے درندگی کے واقعات گذشتہ کئی سال سے مسلسل

بڑھ رہے ہیں تشویشناک بات یہ ہے کہ اب ان خواتین کو عصمت ریزی کے بعد قتل بھی کر دیاجاتا ہے اور قتل بھی عبرتناک انداز سے کیا جاتا ہے ۔ حالیہ دو واقعات میں سے پہلا واقعہ یوں ہوا کہ بے چاری لڑکی کو ہندؤ درندوں نے اغوا کیا اور پھر اس کے ساتھ ریپ کیا درندوں نے ہوس پوری کرنے کے بعد شطانیت کا کھیل رچایا اور زندہ لڑکی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جس سے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے کوچ کر گئی۔ جھارکنڈ کی پولیس ابھی اس کیس سے فارغ نہیں ہوئی تھی کہ جنونی ہندؤ نے ایک اور لڑکی کو جلا کر راکھ کردیا۔ سترہ سالہ اس لڑکی کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے شادی سے انکار کیا تھا اس کی سزا اسے اس صورت میںملی کہ ملزم نے اسے اس کے عزیزوں کے گھر میں گھس کر اسے اس وقت عصمت دری کا نشانہ بنایا جب وہ گھر میں اکیلی تھی ہنومان کے پجاری نے عصمت دری کے بعد اسے آگ لگا کر عبرت کا نشان بنانا چاہا لڑکی کی چیخ و پکار سن کر محلے والے اکٹھے ہوئے اوراس بے چاری کو ہسپتال لے گئے جہاں وہ جسم کا پچانوے فیصد حصہ جل جانے پر موت و حیات کی کشمکش میں سانس لیتی رہی مگر جانبر د نہ ہو سکتی ۔جھارگھنڈ میں ہونے والے زیادتی کے یہ دو وہ واقعات ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر بھارتی حکام کی خواتین کے تحفظ کے بارے پالیسی کھل کر واضح کر دی ہے؁۔ یہ دو واقعات بھی میڈیا میں صرف اس لیے آئے کہ لڑکیوں کے جل جانے کی وجہ سے بات تھانے اور ہسپتال تک پہنچ چکی تھی ورنہ پورے

بھارت میں ہر روز سینکڑوں ایسے واقعات جنم لیتے ہیں کہ حوا زادی کسی نہ کسی ہندؤ ظالم کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ جنسی بھوک مٹانے کے بعد درندہ اگر چاہئے تو لڑکی کو زندہ چھوڑ دیتا ہے ورنہ اسے عصمت ریزی کے بعد قتل بھی کر دیا جاتا ہے ان دنوں پورے بھارت میں عورتوں کے غیر محفوظ ہونے کے واقعات اس قدر بڑھ گئے ہیں کے وہاں باقاعدہ طور پر احتجاج کی صورت میں مظاہرے ہونے لگے ہیں۔پے درپے ہونے والے واقعات سے حکام بالا کی تو خیر کوئی

بات سامنے نہیں آتی مگر میڈیا رپورٹیس کہتی ہیں کہ بھارت کے اندر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات نے وہاں کی خواتین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو ہزار سولہ میں بھارت کے اندر ریپ کے چالیس ہزار واقعات سامنے آئے تاہم خیال ظاہر کیا جاتا ہے بہت سے کیسز ایسے ہوتے ہیں جنہیں رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا ۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ رپورٹ ہونے والے واقعات اگر چالیس ہزار ہیں تو رپورٹ نہ ہونے والے ایسے واقعات تو لاکھوں

میں ہوں گے اور جہاں لڑکیوں ساتھ ایک سال میں زیادتی کے لاکھوں واقعات ہوں گے وہاں وحشت اور تشویش پھیلنا تولازمی ہے۔اب یہ تشویش ہندوستان سے نکل کر دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہندوستانیوں کاتعارف بن گئی ہے بھارت میں ہونے والی خواتین کے ساتھ اس درندگی کے دنیا بھر میں تذکرے ہونے لگے ہیں اس کی ایک وجہ تو خود انڈین عورت کے ساتھ ہونے والی جنسی زیاتیاں ہیں اور دوسری وجہ وہ خواتین بھی ہیں جو مغرب ممالک میں سے انڈین میں سیر وسیاحت

کے لیے آتی ہیں۔ دہلی میں پچھلے سال غیر ملکی خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں نے مغربی ممالک کو بھی اس بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔جولائی 2017ء میں امریکی صحافی لارابیگے بلوم نے مشہور رسالے ، فوربس کی ویب سائٹ پر ایک مضمون ’’خواتین سیاحوں کے لیے دس خطرناک جگہیں‘‘ تحریر کیا۔ اسی میں لارانے سیاحت کی ممتاز ویب سائٹ، ٹرپ کام کے حوالے سے انکشاف کیا کہ خواتین سیاحوں کے لیے بھارت دنیا کاچوتھا خطرناک ترین دیس ہے۔ اس نے بھارت جانے والی خواتین سیاحوں کو درج ذیل مشورے دیے:
٭ گلی بازار میں ہوشیار ہو کر چلو کیونکہ کوئی بھی مرد حملہ کر سکتا ہے۔
٭ بھارتی مرد گھور کر دیکھتے ہیں۔ اس عمل کے لیے تیار رہیے۔
٭ رات کو گھومنے پھرنے سے پرہیز کریں۔
٭ دہلی، ممبئی اور دیگر بڑے شہروں میں خواتین کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ میں سفرکریں۔یہ واضح رہے کہ انسانی فلاح و بہبود سے وابستہ عالمی اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں کی تحقیقی رپورٹوں میں بھارت ان ممالک میں شامل ہوتا ہے جو خواتین کے لیے خطرناک قرار دیے جا چکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بھارتی معاشرے میں آج بھی عورت کو کمتر اور کمزور سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے بھارتی مرد خواتین خانہ کو پاؤں کی جوتی سمجھتے اور ان پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ بھارت کے بیشتر گھروں میں لڑکے کو لڑکی پر ترجیح دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ لڑکی بھوک سے مرجائے گی تب بھی والدین بیٹے کا پیٹ بھرنا ضروری سمجھتے ہیں۔عورت بھارت میں کسی طرح بھی محفوظ نہیں رہی اول تو اس کا پیدا ہونا مشکل ہے اسے ماں کے پیٹ میں ہی مار دیا جاتا ہے ۔پیدہ ہو تو عزت اور زندگی تک محفوظ نہیں ہوتی انڈین معاشرے میں اس کے لئے زندہ رہنا مشکل ہے اور مرنا آسان۔بزفیڈ(Buzzfeed) خبریں وحقائق دینے والی مشہور امریکی ویب سائٹ ہے۔ پچھلے سال ایک بھارتی صحافی، شایان رائے نے اس پرچشم کشامضمون تحریر کیا یہ مضمون نہیں بھارتی مردوں کے خلاف خوفناک چارج شیٹ ہے جنہوں نے خواتین پر ظلم کرنا و تیرہ بنا رکھا ہے۔ مضمون میں بیان کردہ چند حقائق درج ذیل ہیں:
٭ پچھلے تین برس میں چوبیس ہزار دلہے جہیز نہ لانے پر اپنی دلہنوں کو قتل کر چکے۔
٭ بھارت میں 70 فیصد شادی شدہ خواتین گھروں میں شوہروں یا سسرالیوں کے ہاتھوں مارپیٹ یا بے حرمتی کا نشانہ بنتی ہیں۔
٭ یونیسف کے اعدادوشمار کی رو سے بھارت میں نوزائیدہ بچے کی جنس کا تعین کرنے والی طبی صنعت کی مالیت ایک ہزار کروڑ روپے ہو چکی۔
٭ پچھلے دس سال میں بھارتی ڈاکٹر ’’آٹھ کروڑ‘‘ زنانہ جنین(پرورش پاتے بچے) قتل کر چکے۔
٭ بھارت میں کم عمری کی شادی ممنوع ہے مگر آدھی سے زیادہ خواتین کی شادی 18سال کا ہونے سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔شاید عدم تحفظ۔ بے توقیری اور ظلم وستم پر مبنی زندگی سے تنگی ہے کہ انڈیا اب خودکشی کی بلند شرح پر ہے۔بھارت ان ممالک میں شامل ہے جہاں مردوزن کی بڑی تعداد خود کشیاں کر کے اپنی جان لے لیتی ہے۔ ماہرین عمرانیات کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد خود کشی کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ پینتیس ہزار بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔
دبئی کی مشہور نیوز سائٹ، ال عربیہ میں 21ستمبر2017ء کو ایک ہندوصحافی ، مہیش تریدیوکا لکھا انگریزی مضمون شائع ہوا۔ اس میں مہیش صاحب نے انکشاف کیا کہ 15سے 29سال کی عمر کے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں سب سے زیادہ خود کشی کی شرح بھارت میں ہے۔مضمون کی رو سے بھارت میں ہونے والی 34فیصد خودکشیاں نوجوان لڑکے لڑکیاں کرتے ہیں ۔ یہ خود کشیاں آشکارا کرتی ہیں کہ بھارتی معاشرے میں زندگی سے مایوس مردوزن کی بہت بڑی تعداد بستی ہے۔ انہیں مستقبل میں بھی بہتری کی اُمید نہیں ہوتی لہٰذا وہ اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لیتے ہیں۔ زندہ لوگ خودکشیاں کرتے ہیں اور والدین ماں کے پیٹ میں ہی بیٹیوں کو مار رہے ہیں۔ خواتین کے ساتھ جو انڈین معاشرہ بدسلوکی کر رہا ہے اس سے بچاؤ بھی ہو سکتا ہے بہرحال یہ بدترین گناہ انڈیا میں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ بھارت میں ہزارہا والدین بیٹیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بھارت میں رفتہ رفتہ لڑکیوں کی قلت جنم لے رہی ہے۔ 6ستمبر2017ء کو بھارتی ویب سائٹ، ڈی نیوزلنیز میں بھارتی صحافی ، ترون امرناتھ کا لکھا مضمون شائع ہوا۔مضمون میں ترون امرناتھ نے انکشاف کیا کہ ممبئی میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف852 لڑکیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح نئی دہلی میں یہ عدد1832 اور حیدر آباد دکن میں 942 ہے۔ مضمون کی رو سے صرف پہاڑی علاقوں میں مردوں اور خواتین کا تناسب نارمل ہے ورنہ اکثر بھارتی علاقوں میں اب لڑکوں کو شادی کرنے کی خاطر لڑکی مشکل ہی سے ملتی ہے ۔ اس باعث عجیب و غریب مسائل جنم لے رہے ہیں۔بھارتی والدین بیٹی کی پیدائش کو خود پر مالی بوجھ سمجھتے ہیں لیکن بیٹے کے لیے مطلوبہ دلہن ڈھونڈنے پر ہزارہا روپے خرچ کر ڈالتے ہیں۔ بھارتی معاشرے کا یہ تضاد ایک دن رنگ لا کر رہے گا۔بالی وڈ کی فلموں میں فحاشی کے مناظر عام ہیں۔ ان فلموں کی وجہ سے بھارتی معاشرے میں لڑکیوں کو چھیڑنے کا چلن جنم لے چکا۔ حتیٰ کہ بدقماش خواتین پر حملے بھی کرنے لگے ہیں۔ بھارت میں ایک سرکاری محکمہ ’’نیشنل کرائم ریکارڈز‘‘ ملک بھر میں جرائم کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس محکمے کے اعداد و شمار کی رو سے صرف2015ء میں ’’ساڑھے چونتیس ہزار‘‘ بھارتی خواتین کو بے حرمتی کے عذاب سے گزرنا پڑا۔ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ نئی دہلی، ممبئی اور دیگر شہروں میں خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا دوبھرہو چکا کیونکہ مردان سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔ بالی وڈ فلموں نے بھارتی لڑکوں کو مادر پدر آزاد کر دیاہے۔ اب وہ لڑکیوں کو دق کرتے ہوئے اپنے اوپر کوئی اخلاقی یا قانونی دباؤ محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے۔