Web
Analytics
کارپوریٹ معیشت کا ابھار اور عام آدمی کی بنیادی ضروریات! ا فتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / کارپوریٹ معیشت کا ابھار اور عام آدمی کی بنیادی ضروریات! ا فتخار بھٹہ

کارپوریٹ معیشت کا ابھار اور عام آدمی کی بنیادی ضروریات! ا فتخار بھٹہ

پاکستان میں عمومی انداز سے دیکھا جائے تو ہمیشہ بد عنوانی ، بیڈ گورننس اداروں کی پامالی ، آبی ذخائر کی کمی اور اب سب سے اہم معیشت کی بحالی میں ناکامی کا تذکرہ ہے جس کی وجہ سے وقفے وقفے سے غربت ، بے روز گاری، تعلیم، اور صحت کے مسائل کا ذکر ہوتا رہتا ہے مگر ہماری ترقی صنعت کاری اور برآمدات میں اضافہ کی بجائے خوبصورت بینکوں کی امارات، شاپنگ مال ، جہاں پر اربوں کا درآمدی

مال دودھ ، پنیر ، کاسمیٹک اور اشیائے تعیش سے بھری پڑی ہیں غریب طبقات ان میں داخل ہونے سے خوفزدہ لگتے ہیں ہم کریڈیٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے رومانس میں جکڑے جا چکے ہیں کنزیومر ازم جدید معیشت کی پر اسراریت اسٹاک مارکیٹ میں سٹے بازی حام مال کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتے ہوئے بھی اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ فرنچائز اور برانڈز کے نام پر نئے ٹریڈنگ اور صارف کلچر کا فروغ ہے فرنچائز میں سرمایہ کار کو کوئی پبلسٹی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ مال سپلائی کرنے والی کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے پرانی روایتی دکانیں اور سٹور محض غریبوں کی بستوں تک محدود رہ گئے ہیں یہاں پر زیادہ سودہ ادھار بیچا جاتا ہے ذاتی کاروبار میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے مگر فرنچائز کیلئے بہتر کاروباری لوکیشن کا ہونا ضروری ہے رہائشی سڑکیں اب کمرشل مرکزی بن چکی ہیں یہ تمام سہولتیں آمیر طبقات کیلئے ہیں فرنچائز سے ملکی اور غیر ملکی برانڈز فائدہ اٹھا رہی ہیں فاسٹ فوڈ والے خاصے فائدے میں ہیں چین کی کمپنی علی بابا دنیا میں سب سے زیادہ تجارت کر رہی ہے پاکستان کی طرح امریکی منڈی پر چینی مصنوعات کا قبضہ ہے ریگن اور دھیچر کا نظریہ آزاد تجارت تھا جو اب ناکام ہو چکا ہے تمام ترقیافتہ ممالک اپنے تحفظاتی تجارت اور قومی معیشت کی بات کر رہے ہیں پاکستان میں غیر ملکی درآمدات نے ہمارے توازن ادائیگی کو بھگاڑ دیا ہے تا ہم اس کاروبار سے مٹھی بھر اشرافیہ نے جنم لیا ہے تیسری دنیا قرضوں میں جکڑی

گئی ہے اور ان پر سود کی وجہ سے مالیت میں اضافہ ہو رہا ہے آزاد تجارت میں تیسری دنیا کی مصنوعات زیادہ لاگت اور کم معیار کی وجہ سے غیر ملکی برآمدی اشیاء کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہیں یہی وجہ ہے پاکستان کی مقامی صنعتیں زوال پذیر ہیں کئی صنعت کاروں نے پاکستانی برانڈ بنانے کی بجائے بیرون ممالک سے پارٹس امپورٹ کر کے اسمبلنگ کا کام شروع کر دیا ہے یا وہ ملبوسات انڈ و نیشیا ، تھائی لینڈ اور چین سے درآمد کر رہے ہیں بد قسمتی سے ہم نے جو بھی

صنعتیں قائم کی ہیں ان کیلئے متعلقہ ممالک سے ٹیکنالوجی منتقل نہیں کروائی ہے جس کی وجہ سے اربوں روپے کی خراب ہو جانے والی مشینری کو دوبارہ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ہے آج بھی محکمہ ہیلتھ کے متعلقہ مشینری کمروں میں بند پڑی ہے کنزیومر ازم اور برانڈز متعارف کروا کے جنک فوڈ کو فروغ دیا ہے سیل فون تیار کرنے اور کنکشن فراہم کرنے والی کمپنیاں اربوں ڈالر کما رہی ہیں ڈبل روٹی اور چکن سے تیار کردہ کھانوں کے ریسٹورنوں کے باہر بھیڑ دیکھائی دیتی ہے سڑکوں

پر امپورٹڈ ری کنڈیشن اور لگثرری گاڑیاں رواں دواںہیں ٹریفک جام نے زندگی اجیرن بنا دی ہے چھوٹے شہروں میں آبادی کے اضافے کی وجہ سے بے ہنگم کالونیاں اور محلے آباد ہو رہے ہیں شہروں کے ارد گرد کاشتکاری کیلئے کھیت ختم ہو چکے ہیں غریبوں کی بستیوں میں تنگ گلیاں ہیں جہاں پر سخت ، صفائی اور سیوریج کا نظام مفکوز ہے جبکہ شہروں کی جدید بستیوں میں کوئی عام آدمی تین مرلے کا مکان بھی حریدے کا تصور نہیں کر سکتا عمران خان کی حکومت نے پچاس

لاکھ نئے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا جس کیلئے معاشی وسائل مہیا کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی قیمتی املاک اور رہائش گاہوں کی فروحت پر نظر ہے یاد رہے کہ ریاستوں کے معاملات قرضے اور اثاثہ جات کی فروخت سے نہیں کیے جا سکتے ہیں ماضی میں نواز شریف کے عہد میں نجکاری کے نام پر بینکوں اور فیکٹریوں نیلام کر دیا گیا تھا فیکٹریاں تو دوبارہ چالو نہ ہو سکیں بلکہ ان کی شہری جائیداد کو کمرشل اور رہائشی پلاٹس بنا کر فروخت کر دیا گیا

جبکہ پاکستانی بینک آج سب سے زیادہ منافع کما رہے ہیں جن میں سے زیادہ قرضے حکومتیں ریاستی گرانٹی پر حاصل کر کے روز مرہ کے اخراجات چلا رہی ہیں کمرشل اور صنعتی قرضہ جات برائے نام ہیں پرسنل قرضہ جات زیادہ ہیں جنکو تنخواہ دار طبقات ذاتی ضروریات گاڑیوں اور مکانات کی خرید کیلئے حاصل کر رہے ہیں ۔جدید معیشت میں ٹیکنالوجی اور مہارتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پیدا واری صلاحیت بڑھی ہے جس میں مزدور اور ملازمین کا کوئی کردار

نہیں ہے نیو لبرل اکانومی کی حامی قوتیں عام آدمی کے مسائل کے حل کو ترجیح دینے کی بجائے کارپوریٹ سیکٹر کو مراعات دینے کے بارے میں سوچتی ہیں پاکستان کا صنعت کار اور تاجر ہمیشہ بیرونی درآمدات سے خائف رہے ہیں اور حکومت سے حفاظتی تدابیر اور تحفظات اور رعایتوں کا مطالبہ کرتے رہتے ہیںجبکہ کبھی کم منافع پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے دنیا کے جدید معاشی نظام نے انسانوںکو بری طرح جکڑ لیا ہے آپس میں ایسی تقسیم کی ہے کہ مسلمانوںنے اپنے ہی بھائیوں کے

ساتھ مشرق وسطیٰ میں خون کی خولی کھیلی ہے پاکستان میں فرقہ واریت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں ستر ہزار جانیں ضائع ہوئی ہیں بد قسمتی سے ہماری موجودہ حکومت اس کو پرائی جنگ تصور کرتی ہے اور آئندہ کسی پرائی جنگ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرتی ہے یہ بات پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یوم دفاع کی مرکزی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہی یہاں پر دہشت گردی کیخلاف جنگ کرنے والوں کے لواحقین موجود تھے اس سے ان کو کتنا دکھ

ہوا گا ان تمام جنگوں میں امریکی اسلحہ خوب بکا اور خریداروںکی معیشتیں تباہ ہوئیں۔آج ہمار ا ملک قرضہ جاتی شکنجہ میں جکڑا جا چکا ہے کیونکہ ہمارا مالیاتی نظام قرضوں پر استوار ہے جس میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے ادارے ٹھیک کام نہیں کر رہے ہیں ملک کے آمیر طبقات کتنا کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں جبکہ ستر فیصد ٹیکس بلاواسطہ طور پر عوام سے ایشیائے ضروریات زندگی پر وصول کیا جاتا ہے غریب آدمی آپنی آمدنی کے تناسب سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے اس طرح نچلے

طبقات کا بے پناہ استحصال کیا جا رہا ہے استحصال رنگ نسل اور مذہب نہیں بلکہ طبقات کرتے ہیں منی لانڈرنگ کے خلاف بہت شور ہے مگر کاروائیاں نواز شریف اور زرداری کے خاندان کے خلاف ہو رہی ہیں جبکہ دیگر طبقات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے نہوں نے کالے دھندے سے اپنی صنعتی اور تجارتی امپائر کھڑی کی ہیں سوئس بینکوں سے پاکستانیوں کا روپیہ واپس لانا محض خواب اور نعرہ رہے گا اگر بے نامی اکائونٹس رکھنے والا مر جائے تو رقم ورثاء

کو نہیں ملتی ۔اقوام متحدہ کی حالیہ روپوٹ کے مطابق دنیا میں دو ارب تیس کروڑ افراد آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوتے ہیں پاکستان کے دس فیصد مالدار افراد پینے کا اسی فیصد صاف پانی استعمال کرتے ہیں کئی منرل واٹر پیتے ہیں وافر زرعی پیدا وار ہونے کے باوجود غریب کو دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں پاکستان میں ہوٹلوں اور شادیوں میں کھانا کچرے میں ڈال دیا جاتا ہے ایک طرف پاکستان میں زندگی گزارنا محال ہو رہا ہے تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی قومی ترقی کی

پیدا وار کی شرح نمو کو ہڑپ کر رہی ہے پانی کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں پاکستان میں ڈالر جمہوریت نے ایک ایسا کلب تخلیق کر دیا ہے جس سے مہنگائی بے روز گاری اور بیماری میں اضافہ ہوا ہے صحت اور تعلیم گلی گلی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے بہر حال یہ حقیقت ہے آج کے مالیاتی نظام میں اصلاحات کے کھوکھلے وعدوں کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کے سوہانے خواب دکھائے جا رہے ہیں بالخصوص عمران خان کے نعروں نے لوگوں کی خواہشات اور توقعات کو

ابھارا ہے ریاستی صادقی سے زیادہ عام زندگی میں اشیائے تیش اور فضول خرچی کو ترک کر کے بچتوں کو فروغ دینا چاہئے کیونکہ اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ہمارے ہاں انٹر نیٹ اور موبائل کے استعمال اور لا یعنی اور پر تشدد فلمیں عوام میں سوچنے سمجھنے اور تخلقی صلاحتیں ختم کر رہی ہیں مصنوعی ذہانت میں نئی اخلاقیات کو جنم دیا ہے جس میں انسان دوستی اور حب الوطنی کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے بد قسمتی سے پاکستان میں غریب طبقات کی کوئی سیاسی جماعت نمائندگی نہیں کر رہی ہے ریاست کی تمام باتیں اور منشور اپنے حکمران طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے انسانوں کو ربورٹ بنایا جا رہا ہے صنعت کاری کے عمل کو فروغ دینا چاہیے تا کہ روز گار کے بہتر مواقع پیدا ہونے سے غربت میں کمی آ سکے۔