Web
Analytics
معاشی ترقی کے اہداف کاحصول کس طرح ممکن ہیں! افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / معاشی ترقی کے اہداف کاحصول کس طرح ممکن ہیں! افتخار بھٹہ

معاشی ترقی کے اہداف کاحصول کس طرح ممکن ہیں! افتخار بھٹہ

پاکستان کے فی الوقت اہم مسائل میں معیشت کی بحالی اور آبی وسائل میں تیزی سے کمی ہے معیشت کی بحالی سے کیا مراد ہے اگر ہم پاکستان میں جاری معاشی پالیسیوں پر نظر ڈالیں تو اس میں مماثلت دیکھائی دیتی ہے کیونکہ تقریبا تمام حکومتوں نے قرضہ جات کے ذریعے اخراجات پور ے کرنے کی کوشش کی ہے ٹیکس نیٹ ورک محدود رہا ہے جبکہ نجی کاروبار میں بے پناہ ترقی کی ہے ماضی میں حکومتوں

نے میگا پراجیکٹس عالمی مالیاتی اداروں سے تعمیر کیے تھے جبکہ موجودہ حکومت ان اخراجات میں کٹوتی کرتی جا رہی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یاد رہے کہ ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے وقتی طور پر معاشی سر گرمیوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے جسے میں سیمنٹ سریا اینٹیں اور تعمیراتی سامان تیار کرنے والی کمپنیاں متحرک ہوتی ہیں جبکہ مقامی آبادی کو روز گار مل جاتا ہے مگر اس سے ملک کی مجموعی قومی پیدا وار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے آج کا ترقیاتی ماڈل ایکسپورٹ لیڈ ویلیو ایڈیٹ گروتھ کے ساتھ منسلک ہے کیونکہ اعلیٰ درجے کی برآمدات ہی سے ملک کو زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے جس کی بنیاد صنعتیں ہوتی ہیں، اگر ہم چاول ، کاٹن کی گانٹھیں کورا کپڑا اور چمڑا وغیرہ برآمد کرتے ہیں جن کا ہجم تو بہت زیادہ ہوتا ہے جبکہ زر مبادلہ بہت کم وصول ہوتا ہے یاد رہے ملائیشیا تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، فلپائن، اور ہندوستان نے اپنی معاشی ترقی کے اہداف برآمدات کے ذریعے حاصل کیے ہیں۔ آج ان ممالک کے پاس زر مبادلہ کے خاصے ذخائر موجود ہیں جبکہ ہم عدم توازم ادائیگی اور مالیاتی حساروں سے دو چار ہیں ، ہمیں اپنی ریاست کو دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے ، ہم زر مبادلہ کا کثیر حصہ غیر ملکی خوراکیں بسکٹ، دودھ، پنیر اور غیر ضروری ایشیا درآمد پر ضائع کر دیتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں پاکستان کی انڈسٹری تیار کر رہی ہے اس طرح ہمارے زر

مبادلہ کے ذخائر اور مقامی انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے ملک کی صنعتی ترقی میں انڈسٹری کا اہم کردار ہے جس میں اہم حصہ سمال میڈیم انٹر پرائزر کا ہے یہ درمیانے اور چھوٹے کے صنعتی یونٹس اور ادارے ہوتے ہیں جو کہ مقامی سطح پر مینو فیکچرنگ کا کام کرتے ہیں یہ شعبہ آج سے بیس سال قبل کافی فعال تھا اور ملکی برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے تھے ان کی مصنوعات کی مقامی منڈیوں میں کافی کھپت تھی یہ چھوٹی صنعتیں راولپنڈی گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، سرگودھا ،

لاہور، ملتان، حیدر آباد، کراچی، وزیر آباد اور فیصل آباد وغیرہ میں قائم ہیں آج ان شہروں میں بیشتر انڈسٹری بند ہو چکی ہیں یا بند ہونے جا رہی ہیں جس کی بنیادی وجوہات میں مہنگا درآمدی خام مال اور بجلی ہے جس کی وجہ سے ان کی مصنوعات کی لاگت عالمی منڈیوں میں دستیاب ائٹم سے کہیں بڑھ گئی ہیں جبکہ کاٹج انڈسٹری بھی بحرانی کیفیت سے دو چار ہے جس کی وجوہات میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے چارٹر کے تخت بیرون مال کی بغیر رکاوٹ درآمد ہے ہم دیکھتے

ہیں کہ ہماری مارکیٹیں بیرونی منصنوعات سے بھری پڑی ہیں اور معیار بھی بہتر ہے حالانکہ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں چھا جانے والی چینی مصنوعات سستی ہیں تو مگر کم پائیدار ہیں مگر خریدار اپنی بچت کیلئے انہیں کو خریدنے کو ترجیح دیتا ہے ان درآمدات کو کے دبائو کو روکنے کیلئے آج عالمی سطح پر ترقیافتہ ممالک میں تحفظات اور نیشنل اکانومی کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔جیسا کہ اوپر لکھا ہے قرضہ جات کے ذریعے معیشت کو متحرک نہیں کیا

جا سکتا حالانکہ قرضہ جات کو نام نہاد کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے یوں بھی سرمایہ داری نظام میں کینزیثن نقطہ نظر کے تحت اخراجات معاشی ترقی کیلئے ضروری ہیں مگر ان سے مجموعی قومی پیدا وار کوئی بہتر اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں موجودہ حکومت نے پچاس لاکھ گھر بنا کر تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اس کیلئے مالی وسائل کہاں سے دستیاب ہونگے اسی طرح پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا گیا یاد رہے کہ کوئی حکومت اپنے

وسائل سے نوکریاں مہایا نہیں کر سکتی ہے اس کیلئے اہم ذریعہ صنعت کاری کا عمل ہے جس میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ہم قومی وسائل کو بروئے کار لانے کی بات کرتے ہیں مگر ان سے استفادہ کیلئے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے سینڈک جیسے منصوبے کے بارے میں مقدمات عالمی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ہمیں خلاف ورزیوں پر جرمانے بھی ہو چکے ہیں آج ہماری تمام تر توجہ سی پیک کے منصوبوں پر ہے

جن کو چینی قرضوں کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے حکومت پنجاب میں دو ساٹھ ارب روپے اورنج لائن ٹرین پر خرچ کر دیئے ہیں جس سے کراچی سے پشاور تک ریلوئے ٹریک ڈبل کیا جا سکتا تھا لاہور کے چند لاکھ افراد لوگ استفادہ کریں گے ، اسی طرح میٹروک بس پر بھی سبسڈی ادا کی جا رہی ہے ان پراجیکٹس کا معیشت کی بحالی میں کوئی کردار نہیں ہوگا ہاں اس سے میاں برادران کی واہ واہ ضرور ہو گئی ہے اب حکومت نے وزیر اعظم ہائوس اور گورنر ہائوسز کو

مفاد عامہ کی خاطر تعلیم اور سیر و تفریح کیلئے استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے اس سے حکومت کو کوئی آمدنی نہیں حاصل ہو سکتی ہے اس سے عوام میں وقتی مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے کہ ہم نے سادگی اور بچت کی روایات کو فروغ دیا ہے موجودہ حکومت کے ایجنڈے میں بیرون ملک کی جائیدادیں اور آف شعور بینکوں کی دولت واپس لانا شامل ہے، ان اربوں ڈالر کے بارے میں شور کافی سالوں سے سنا جا رہا ہے مگر پاکستان واپس لانا محض نعروں تک محدود ہے

جبکہ عملاً طویل عدالتی جنگ کی ضرورت ہے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے حوالے سے جوش و جذبہ درمیانے طبقے یعنی پندرہ فیصد آبادی میں موجود ہے جبکہ 18کروڑ آبادی کے پاس روٹی تعلیم اور رو ز گار نہیں ہے موجودہ حکومت کے پاس دو آپشنز ہیں آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کیا جائے یا سعودی عرب سے دس عرب ڈالر پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں جمع کرنے کی درخواست کی جائے تا کہ ان میں استحکام لایا جا سکے دوسرے چین سے بھی قرضہ جات حاصل

کیے جا سکتے ہیں مگر اس کیلئے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانا ہوگی یہ تمام اقدامات ریاست کی حد تک محدود ہیں اور محض قرضہ جات سے ریاست نظام سے چلانا ہے۔معیشت اس وقت متحرک ہوگی جبکہ ملک میں صنعتی سر گرمیاں شروع ہونگی، اس سلسلہ میں SMESکا اہم کردار رہا ہے ملک کے صنعتی شعبے کا 90فیصد سمال میڈیم انٹر پرائزیر پر مشتمل ہے جبکہ بڑی انڈسٹری میں سیمنٹ چینی کھاد تیل صاف کرنے والے کار خانے اور ٹیکسٹائل ادارے

ملز شامل ہیں چھوٹے صنعتی اداروں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کو زیادہ روز گار حاصل ہوگا اور معیار زندگی بہتر ہوگا آج اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ 7سو اداروں میں سے صرف ایک سو پچاس ادارے فعال ہیں جبکہ دوسروں کی سر گرمیاں محدود اور مفقود ہیں مگر بد قسمتی سے ہماری درآمدی پالیسیوں نے ملک کو صارف کی منڈیوں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں پر غیر ملکی مصنوعات کی خرید کو ترجیح دی جاتی ہے جس سے مقامی انڈسٹری کی

سیل کم ہوئی ہے حکومت کو ریاستی طویل میں موجود صنعتی اداروں میں اصلاحات کرنے کے ساتھ نان پبلک سیکٹر کو پروموٹ کرنا چاہیے اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے ، انہیں مصنوعات کے معیار کو جدید جدید ٹیکنالوجی سے بہتر بنانے کی صلاحیت پیدا کرنے کیلئے قرضے فراہم کرنے چاہیں ان اداروں میں پاکستان کی اسی فیصد غیر زرعی لیبر کام کرتی ہے اس کا مجموعی قومی پیدا وار میں حصہ چالیس فیصد ہے یہ تمام ادارے ملک کے نوجوانوں

کو روز گار فراہم کر رہے ہیں حکومت کو ان اداروں کی مزید فعالیت کیلئے ٹیکسوں کی شرح پر نظر ثانی کرنا ہوگی اگر دیکھا جائے کامیاب قومتوں کی تین ترجیحات ہوتی ہیں میٹریل ، فنانشل، اور انسانی وسائل پاکستان کے پاس وسائل اور ہیومن فورس موجود ہے جبکہ سرمایہ کی قدرے ضرورت ہے اگر تینوں کو مناسب طریقہ سے متحرک کیا جائے تو ملکی معاشی ترقی میں بہتری لائی جا سکتی ہے ، معاشی ترقی کے اہداف صرف صنعتی گروتھ اور ویلیو ایڈیٹ کی برآمدات سے

حاصل کی جا سکتی ہے جس کی مدد سے ہم مالیاتی اور تجراتی خساروں پر قابو پا سکتے ہیں محض قرضوں اور ان کے خرچ کرنے سے ریاست وقتی ریلیف تو حاصل کر سکتی ہے لیکن معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کی زندگیوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔