Web
Analytics
روس میں انقلاب کے وقت اذان اور نماز پر پابندی کے باوجود ایک نوجوان کس طرح کھلے عام اذان دیتا اور نماز پڑھتا تھا، پولیس کو کس طرح چکما دیتا تھا، ایمان افروز واقعہ – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / روس میں انقلاب کے وقت اذان اور نماز پر پابندی کے باوجود ایک نوجوان کس طرح کھلے عام اذان دیتا اور نماز پڑھتا تھا، پولیس کو کس طرح چکما دیتا تھا، ایمان افروز واقعہ

روس میں انقلاب کے وقت اذان اور نماز پر پابندی کے باوجود ایک نوجوان کس طرح کھلے عام اذان دیتا اور نماز پڑھتا تھا، پولیس کو کس طرح چکما دیتا تھا، ایمان افروز واقعہ

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی سمرقند کے سفر کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ سمرقند میں عالم ایک نوجوان کو مجھ سے ملانے کیلئے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نوجوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں روزانہ پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا۔ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی اور پوچھا وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا دیا‘ ہم نے دیکھا تو اس کی پیٹھ کے ایک ایک انچ پر زخموں کے نشانات موجود تھے‘میں نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔ اس نے اپنی داستان بیان کرنا شروع کی‘وہ کہنے لگا جب میں نے پہلی مرتبہ اذان دی تو پولیس والے مجھے پکڑ کر لے گئے اور خوب مارا‘ میں جان بوجھ کر اس طرح بن گیا جس طرح کوئی پاگل ہوتا ہے وہ جتنا زیادہ مارتے میں اتنا زیادہ ہنستا‘ ایک وقت میں کئی کئی پولیس والے مارتے مارتے تھک جاتے مگر میں اللہ کے نام پر مار کھاتے کھاتے نہ تھکتا۔ مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے مگر میں نے برداشت کر لئے۔

مجھے کئی کئی گھنٹے برف پر لٹایا گیا‘ مجھے پوری پوری رات الٹا لٹکایا گیا‘ مجھے گرم چیزوں سے داغا گیا‘ میرے ناخن کھینچے گئے مگر میں اس طرح محسوس کرواتا جیسے کوئی پاگل ہوتا ہے میں جان بوجھ کر پاگلوں والی حرکتیں کرتا تھا‘ پولیس والوں نے ایک سال میری پٹائی کرنے کے بعد مجھے پاگل خانے بھجوا دیا‘ وہاں بھی میں نے ایک سال اسی طرح گزارا حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے لکھ کر دے دیا کہ یہ شخص پاگل ہے اس کا ذہنی توازن خراب ہے یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ اپنے آپ میں مگن رہتا ہے لہٰذا اب اس کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے چنانچہ اس ڈاکٹری رپورٹ پر مجھے آزاد کر دیا گیا جب میں باہر آیا تو میں نے ایک جگہ پر چھوٹی سی مسجد نماز کیلئے بنائی میں وہیں دن میں پانچ مرتبہ اذانیں دیتا اور پانچ نمازیں کھلے عام پڑھا کرتا تھا۔میں نے اس نوجوان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس کے چہرے کو بار بار دیکھتا رہا اور اس کی ثابت قدمی پر رشک کرتا رہا۔