Web
Analytics
عاصمہ جہانگیر کی یاد میں دو روزہ عالمی کانفرنس۔۔۔افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / عاصمہ جہانگیر کی یاد میں دو روزہ عالمی کانفرنس۔۔۔افتخار بھٹہ

عاصمہ جہانگیر کی یاد میں دو روزہ عالمی کانفرنس۔۔۔افتخار بھٹہ

پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام نہیں چل سکتا ہے اور نہ ہی اس گنجائش ہے جمہوریت سے ہی لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں اب پاکستان میں آئین کے خلاف کوئی نظام یاشب خون مارنے کی سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا اپنے حقوق کیلئے متعلقہ اداروں پر بار بار دستک دی جائے گی بالآخر وہ آپ کی آواز سننے پر مجبور ہو جائیں گے یہ خیالات اس جوان ہمت اور عوام کے بنیادی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے ہیں جس نے کئی دہائیوں تک ملک میں فوجی اور جمہوری آمروں کیخلاف عوام کے بنیادی حقوق جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کیلئے جدو جہد کی عاصمہ جہانگیر کا انتقال 11فروری 2018کو ہوا تھا مگر ان کی بیٹیوں نے پہلی برسی کا انتظار نہیں کیا اور اس سے قبل ہی شاندار بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر ڈالی جس میں مختلف مصائب اور مضوعات کے حوالے سے مذاکروں اور فکری

نشستوں کا اہتمام کیا گیا اس کانفرنس میں پاکستان کے قانونی سیاسی سماجی اور دانشور حلقوں کے افراد نے شرکت کی جس میں صحافی عدلیہ کے ججز اور بار کے اعلیٰ عہدیداران کے علاوہ نوجوان وکلاء یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی کانفرنس کے پہلے اجلاس میں شرکاء کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ہال کے دروازے بند کر دیئے گئے ملک کے چھوٹے شہروں میں چونکہ ایسی تقریبات کم ہی منعقد ہوتی ہیں جہاں پر اتنی بڑی تعداد میں اہل علم و دانش ایک جگہ اکٹھے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں لہذا میں اپنی کم آمائیگی اور کم علمی میں مزید شعور آگاہی کیلئے کامریڈ فاروق طارق کی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا اس سے قبل ایسی فکری نشستوں کا اہتمام فیض امن میلہ میں کیا جاتا رہا ہے مگر عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں نوجوانوں کے جوش و جذبے سے یہ محسوس ہو رہا تھا ریاستی ادارے اور قدامت پسند میڈیا یا یک طرفہ بیانیے یا طاقت کے ذریعے خواں کسی کو غدار ،ہندوستان کا دوست یا کافر قرار دے دیا جائے لیکن اظہار رائے پر پابندیاں لوگوں کی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکتی ہیں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں پاکستان اور دنیا بھر سے آنے والے صحافیوں دانشوروں قانون دانوں اور سول سو سائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور ایسی بہادر خاتون کی جرات پر سلام پیش کیا جس کو غیر ملکی ایجنٹ اور دشمن طاقتوں کا خفیہ ہتھیار قرار دیا جاتا رہا اس بہادر خاتون نے انسانی حقوق کی پاسداری ، قانون کی حاکمیت ، سماجی رواداری ، تعصبات کے خاتمے اور دیگر مسائل کے حل کیلئے نصف صدی سے زیادہ جدو جہد کی جو ہماری تاریخ کا روشن باب ہے ملکی اور عالمی سطح کے دانشوروں کی کانفرنس میں شرکت سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مرحومہ

عاصمہ جہانگیر کی جدو جہد سچائی انسانی حقوق اور انصاف کے حقوق کیلئے تھی انہوں نے صنفی امتیازات اور دیگر تعصبات کے حاتمے کیلئے جدو جہد کر کے ایک مثالی معاشرے اور نظام کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں تمام طبقات کو اس تحریک میں حصہ ڈالنے کیلئے متحرک کیا ۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا دستور کی بالا دستی اور بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کیلئے جدو جہد کرنے والی بلند ہمت اور جرات مند آپا عاصمہ نے دستور کی بالا دستی جمہوریت، شخصی آزادیوں اور مساوات کو ہی ملک کا مستقبل قرار دیا پاکستان کے عوام کے ساتھ ماضی میں کئی تجربات ہوئے آج غیر جمہوری اقدامات کے نتیجے میں ہم یہاں تک پہنچے ہیں جمہوریت اور حقوق دینے سے انکار نے سقوط مشر قی پاکستان کے علمیہ کو جنم دیا آج ہمیں ماضی کی غلط پالیسیوں سے سبق سیکھنے اور مستقبل کی بہتری کیلئے

اصلاحات اور قانون سازی کی ضرورت ہے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا جمہوریت کو جمہوری قوتوں سے خطرہ ہے ہم اٹھاریں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کی مزاحمت کریں گے، عاصمہ جہانگیر نے جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے ہر دور میں آواز بلند کی وہ انصافی حقوق ، جبری مشقت ، جبری شادیوں اور مذہبی تشدد کے خلاف مضبوط آواز تھیں آج کے عہد میں ان کی زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جبکہ میڈیا دبائو کا شکار ہے ملک میں شدید معاشی بحران ہے ان کے نظریات مر نہیں سکتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط وفاق ، جمہوریت ، صوبائی خود مختاری اور انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہے ہمارا عدالتی نظام درست طریقے سے نہیں چل رہا ہے ہمیں عدلیہ کو مضبوط بنانا ہوگا تا کہ انصاف کے مساوی فوائد تمام طبقات کو حاصل ہو سکیں۔عاصمہ جہانگیر

فائونڈیشن کی طرف سے کانفرنس 13اور14اکتوبر کو لاہور کے ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں مختلف موضوعات اور مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ریاستی قوانین کی اہمیت ، آزاد عدلیہ میں بار کا کردار ، کریمنل سسٹم میں عورتوں کو طاقتور بنانے کیلئے قانونی معاونت ، طلباء میں تعلیمی انتخاب اور آزادی رائے کی آزادی ، پاکستان میں آزادی رائے کیلئے کم ہوتی ہوئی گنجائش ، فائبر کرائم قوانین اور انسانی حقوق کا مسئلہ ، مقامی قوانین میں عالمی انسانی حقوق کی گنجائش ، اٹھارویں ترمین کی عملیت میں ابھرتے ہوئے چیلنجز ، سزائے موت کے قوانین اور مستقبل بانڈلیبر فاٹا اور پاٹا اصلاحات ، انتخابی اصلاحات اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی انتہا ہ پسندی شامل ہیں اگر ان موضوعات کا جائزہ لیا جائے تو پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے کیونکہ وہاں پر عمومی طور پر

روایتی باتیں ، تنقید ، تجزیے اور مذاکرے ہوتے ہیں جن میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ان ایشوز کے حوالے سے مطالعہ ابزر ویشن اور تجزیہ کرنے کی کوئی صلاحیت موجود نہیں ہوتی وہ محض زور بیان اور گفتگو کے ذریعے اپنے حریف کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہی صورتحال اینکرز کے حوالہ سے ہے ہم روزانہ مخصوص چہروں کو چینلز پر مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے سنتے ہیں مگر ایسی صورتحال عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں نہیں تھی بلکہ یہاں مختلف علوم سیاست ، سماجیت اور قانون سے تعلق رکھنے والے شخصیات کو اظہار خیال کیلئے بلایا گیا تھا جو کہ اپنی رائے اور موقف رکھتے ہیں صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے زاہد حسین (ڈان نیوز) خامد میر(جیو نیوز) ممتاز دانشور کالم نگار اور اینکر نسیم ظہرا جس کے فکری حوالے سے تحریرکردہ انگریزی زبان میں کالموں کا

میں ہمیشہ معترف رہا ہوں ، آج کل ان کی کارگل کے حوالے سے میرے زیر مطالعہ ہے انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمان، ڈاکٹر شیری مزاری، یورپی یونین کے سفیر جین فرانسکو ، ترقی پسند حلقوں سے تعلق رکھنے والے بشریٰ گوہر ، افرا سیاب خٹک، فاروق سلہریا، فارو ق طارق، اختر حسین ایڈووکیٹ کراچی، ممتاز قانون دان عابد حسن مٹو ، تیمور الرحمان ، عالیہ ، آمیر علی، ڈاکٹر نیلم حسین، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، پروفیسر تاج حیدر، فرحت اللہ بابر، حاصل بزنجو ، کاملہ بھاشن انڈیا ، موجودہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور احمد بلال محبوب پلڈاٹ ،نے انج فکری نشستوں میں اظہار خیال کیا اس کانفرنس کی مختلف نشستوں میں بحث کا حاصل یہ ہے ماضی سے صرف راہنمائی حاصل کی جائے نا پسندیدہ عملوں سے سبق سیکھا جائے فیڈریشن کی اکائیوں اور قومیتیوں میں اعتماد سازی کیلئے عدلیہ اور پارلیمان کے کردار سے

انکار نہیں کرنا چاہیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کردار ادا کریں ، پارلیمان جمہوریت اور عوام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کیلئے قانون سازی کرے اور خود احتسابی پر زور دے عدلیہ دستور کے محافظ کی حیثیت سے اس پر نگاہ رکھے اقلیتوں کے حقوق کی نگہداشت کی جائے شہری حقوق کو پامال نہ کیا جائے کوئی شخص یا ادارہ آئین سے کھلواڑ نہ کرے اس کانفرنس میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی سماج میں بہتر جمہوری اور انسانی حقوق کی خاطر جدو جہد کیلئے تیار ہیں اور وہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کو اس ضمن میں ایک روشن استعارہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں پر حقیقی جمہوری سماج انسانی حقوق اور طبقاتی منافرتوں کے حاتمے تک جدو جہد جاری رہے۔