Web
Analytics
سائبر حملوں کا خطرہ!پاکستان کے 6بینکوں نے بیرون ممالک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی سہولت ختم کردی – Lahore TV Blogs
Home / بزنس / سائبر حملوں کا خطرہ!پاکستان کے 6بینکوں نے بیرون ممالک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی سہولت ختم کردی

سائبر حملوں کا خطرہ!پاکستان کے 6بینکوں نے بیرون ممالک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی سہولت ختم کردی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گذشتہ ماہ ملک کے بڑے اسلامی بینک پر سائبر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں نہ صرف 80 کروڑ روپے چوری کر لیے گئے بلکہ ہزاروں بنک صارفین کے کارڈز بھی غیر محفوظ ہو گئے۔بینک اسلامی نے سائبر حملے کے بعد باضابطہ رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آن لائن نظام سے 27 اکتوبر کی صبح بعض مشکوک ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ حفاظت کے پیش نظر پے منٹ سسٹم بند کر دیا گیا ہے۔جس کے بعد پاکستان کے مزید بینکوں پر سائبر حملوں کا خدشہ منڈلانے لگا جس کے پیش نظر متعدد پاکستانی بینکوں نےکارڈز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر رقوم کی منتقلیاں روک دیں۔ تاہم اب 6 پاکستانی بینکوں نے بیرون ملک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کے لیے استعمال ہونے

والے ڈیبیٹ کارڈز عارضی طور پر غیر فعال کر دئے ہیں۔6 پاکستانی بنکوں نے اپنے صارفین کو اس فیصلے سے متعلق بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع دے دی ہے البتہ صارفین پاکستان میں اپنے اے ٹی ایم کارڈز استعمال کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 29 اکتوبر کو ملک کے بڑے اسلامی بینک پر سائبر حملہ ہوا ۔ اس سائبر حملے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے اس مخصوص بینک کے صارفین کے کارڈز بیرون ملک اے ٹی ایم اور پوائنٹ آف سیلز پر استعمال ہونے کے خدشہ کے پیش نظر متعلقہ بینک سمیت تمام بینکوں کو ہدایات جاری کیں کہ تمام پے منٹ کارڈز کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں اور پے منٹ کارڈز کے ذریعے کیے جانے والے لین دین بالخصوص بیرون ملک لین دین کی رئیل ٹائم نگرانی کی جائے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق پے منٹ کارڈز کی سکیورٹی کی خلاف ورزی کا سامنا کرنے والے بینک نے اپنے کارڈز کے ذریعے بیرون ملک تمام لین دین کی سہولت بھی بند کر دی ۔اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تمام بینکوں کو ہدایت کی گئی کہ تمام آئی ٹی نظام بشمول کارڈ آپریشنز سے منسلک نظاموں کی سکیورٹی کے اقدامات اور انہیں مستقل اپڈیٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔کارڈ آپریشنز سے متعلق نظاموں اور لین دین کی چوبیس گھنٹے بروقت نگرانی یقینی بنانے کے لیے وسائل مختص کیے جائیں۔ تمام پے منٹ اسکیموں، سوئچ آپریٹرز اور میڈیا سروس پروائیڈرز کے ساتھ فوری تعاون کیا جائے جن کے ساتھ بینک منسلک ہیں تا کہ مشتبہ لین دین میں کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی کی نشاندہی کی جا سکے۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ غیر معمولی واقعات کی صورت میں فوری طور پر اسٹیٹ بینک کو رپورٹ کریں۔اس

سائبر حملے کے بعد تمام نجی بینکوں نے اپنے اپنے سکیورٹی نظام کو بہتر بنانے اور اس حوالے سے کی جانے والی اپڈیٹس سے متعلق صارفین کو آگاہ کر دیا ہے۔ نجی بینکوں نے مستقبل میں ایسے کسی حملے سے نمٹنے کے لیے اپنے بینکنگ نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا بھی آغاز کر دیا ہے جبکہ صارفین کو بھی ہدایت نامے جاری کر دئے گئے ہیں۔ اور سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہی 6 پاکستانی بینکوں نے بیرون ملک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیبیٹ کارڈز عارضی طور پر غیر فعال کر دئے ہیں۔