Web
Analytics
ڈالر کے بعد سعودی ریال کی اونچی اڑان، قیمت کہاں تک جاپہنچی، ہوشرباتفصیلات – Lahore TV Blogs
Home / بزنس / ڈالر کے بعد سعودی ریال کی اونچی اڑان، قیمت کہاں تک جاپہنچی، ہوشرباتفصیلات

ڈالر کے بعد سعودی ریال کی اونچی اڑان، قیمت کہاں تک جاپہنچی، ہوشرباتفصیلات

کراچی (نیوز ڈیسک) گذشتہ روز ڈالر کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 142 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق روپے کی قدر میں کمی آئی تو ڈالر سمیت تمام غیر ملکی کرنسیاں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ نومبر کے اختتام تک مہنگائی میں دوگنا اضافہ ہو گیا۔ایک ہی ہفتے میں ڈالر کی قیمت میں 5.06 روپے کا اضافہ ہوا۔ہفتے کے اختتام پر سعودی ریال کی قیمت 37.06 روپے، یورو 158.17 روپے اور برطانوی پاؤنڈ 177.85 روپے کا ہو گیا۔ جبکہ کاروبارہ ہفتے کے اختتام پر ڈالر 139 روپے کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ گیس نرخ

بڑھنے سے بھی ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا۔سی این جی مہنگی ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو گیا جس کا بوجھ عوام کو اُٹھانا پڑا۔سیمنٹ اور سریے کی قیمت بڑھنے سے تعمیری لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز ڈالر کی قیمت میں 8 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر 142 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس حوالے سے معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈالر کی قیمت میں اس حالیہ اضافے اور روپےکی قدرمیں کمی سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آجائے گا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے درآمدی مصنوعات جس میں کھانے کا تیل، مختلف دالیں، خشک دودھ، پیٹرول، ڈیزل، الیکٹرونکس مصنوعات، موبائل فونز، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں وغیرہ سب کچھ مہنگا ہونے کا واضح امکان پیدا ہو گیا تھا ۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونے کےبعد سے ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ تاہم بعد ازاں سٹیٹ بینک کی مداخلت کے بعد ڈالر 138 روپے پر ٹریڈ ہونا شروع ہو گیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈالر کا ریٹ 142 روپے تک پہنچنے کے بعد کمرشل بینکوں کو ڈالر صرف حقیقی خریداروں کو فروخت کرنے کی ہدایت کی جبکہ کمرشل بینکوں کو اس کے علاوہ بھی اسٹیٹ بینک کی جانب سے کئی خصوصی ہدایات جاری کی گئیں جس کے بعد ڈالر کی قیمت کم ہو کر 138 روپے پر آگئی ۔ تاہم اب پیر کے روز تک ڈالر کی قیمت میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔