Web
Analytics
سو دن بعد ۔۔۔ تحریر : شیر محمد اعوان – Lahore TV Blogs
Home / کالم / سو دن بعد ۔۔۔ تحریر : شیر محمد اعوان

سو دن بعد ۔۔۔ تحریر : شیر محمد اعوان

وزیراعظم کی پہلی تقریر سن کر پاکستان میں ہر شخص نے تالی بجائی تھی یہاں تک کہ وہ لوگ بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکے جو خان صاحب کے سخت سیاسی حریف تھے۔اگرچہ الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدےاور دعوے بہت بلند و بانگ تھے لیکن جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں جتنے اچھے اور شائستہ انداز میں نو منتخب وزیراعظم نے قوم کو اعتماد میں لیا اس سے تائید اور تنقید کرنے والے ایک صف میں امیدوں کی نئی فصل بوتے نظر آئے اور پہلے سو روزہ منصوبہ پر نا صرف امیدیں بڑھ گئی بلکہ ہر شخص کی نظریں دن میں چاند دیکھنے لگیں۔سو دن مکمل ہوئے اب سب لوگ اچھے اور برے اقدامات اور کارکردگی کا گوشوارہ لیے نظر آرہے ہیں۔اور اسکی وجہ خان صاحب کی ذات، انکے دعوے، یقیں دہانی اور ان سے بڑھ کر وہ موازنہ ہے جو وہ اپنے اور سابق حکمرانوں کے درمیان الیکشن سے پہلے اور بعد میں تواتر

کے ساتھ کرتے رہے۔لکھنے کا حق تو یہ ہے کہ سو دنوں پر سو کالم تفصیلا لکھے جائیں لیکن چونکہ یہ قاری کی ذات اقدس پر گرز مارنے کےمترادف ہے اس لیے سمندر کو کوزے میں بند کرتے ہوئےاختصار کے ساتھ چند چیزیں آپکی بصارتوں کی نظر کرنا ہی مناسب ہے۔اگر مقدمات انکی سماعت اور انصاف کی جلد فراہمی کے بارے میں موجودہ حکومت کے اقدامات دیکھیں تو ہمیں نظر آیا کہ وزیر قانون اس معاملے میں کافی سنجیدہ اور متحرک نظر آے.اور کافی حد تک وعدوں کی تکمیل میں کاغذی کاروائی پوری کر چکے ھیں.لیکن تمام چیزوں کا اطلاق تا حا ل نظر نہیں آیا.نہ ہی اس حوالے سے حکومت کی طرف سےکوئی نوٹیفکیشن نظر آیا ھے.بحرحال پہلے سو دنوں میں روٹ میپ بنا لینا بھی ایک کارنامہ ھے.اور اسکا فوری اطلاق سونے پہ سہاگہ. لیکن جب ھم پارلیمان میں قانون سازی پر نظر دوڑاتے ہیں تو وہاں حکومت ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکی قانون سازی کا سب سے اہم جزو پارلیمانی کمیٹیاں ہیں جنکا قیام تاحال نظر نہیں آیا.اوراسی وجہ سے بہتر قانون سازی تو دور سرے سے قانون سازی کی ابتدا ہی نہیں ہوسکی.حکومت اور حزب اختلاف کے کارکنان اپنےسیاسی خداؤں کے دفاع اور غلط فیصلوں کی تائید میں زمین آسمان کی قلابیں ملا رھے ہیں,لیکن حقیقی معنوں میں حکومت کا یہ فرض ھے کہ جیسے تیسے اپوزیشن کو منائے اور ایسی راہ نکالے جس سے قانون سازی کی راہ ہموار ھو. اور بہترین قانون سازی سے عوام کی مشکلات کا خلاصہ ھو سکے.یہاں یہ بات بھی ذھن میں رکھنا ضروری ھےکہ حکومت کو کمیٹیوں کے قیام میں جو تحفظات ھیں اگر صوبائی سطح پر بھی انکو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تو آج تنقید کا سارا بوجھ حزب اختلاف کے کندھوں پر ھوتا.لہزاہ وفاق اور صوبوں میں حکومت کی خواہشات,اقدامات اور سوچ متضاد

ھونے کی وجہ سے قانون سازی میں نااہلی یا سستی کا سارا ملبہ حکومت پر گر رھا ھے.جہاں تک انصاف کی فوری فراہمی کا وعدہ ھے اسکا اندازہ لگانے کیلیے یہی معلومات کافی ھیں کہ پنجاب کے چار اضلاع میں ایک مہینہ سے عدالتیں بند ہیں.اگر خارجہ پالیسی کے حوالے سے دیکھیں تو ان سو دنوں میں سب سے اوپر سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے کرارے جوابات ہیں جس نے جذباتی قوم کے دل جیت لیےاور اچھا قدم یہ بھی تھا کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ بلا کر مراسلہ تھمایا گیا.اس طرح کا طرز عمل ماضی میں کم دیکھنے کو ملا.اگرچہ وزیر خارجہ ایک قابل اور زیرک شخص ہیں لیکن خارجہ پالیسی کو ان سطور پر اسطوار کرنے میں مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں,جنکا دعوی کیا گیا تھا اور نہ ہی قول و فعل میں مطابقت نظر آتی ھے.ایک طرف حکومت امن کی پینگیں ڈالتی ھے تو دوسری طرف لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے

دعوے کیے جاتے ہیں,امریکہ , انڈیا اور افغانستان کے بارے میں نہ ہماری پالیسی میں تسلسل ھے نہ مستقل مزاجی اور نہ ھی کوئی اہداف متعین ھیں,یمن سے بات کیے بغیر ہم ثالثی کے دعوے کرتے ہیں چائنہ سے بات کیے بغیر ہم سعودی عرب کو پارٹنر بناتے ھیں,پھر اس سےمکر جاتے ہیں,ایران قطر اور عرب ممالک سے ھمارے تعلقات کیسے اور کتنے ھیں ہم بتانے سے قاصر ھیں,پہلے سو دنوں میں ایک بار بھی روس کا نام نہیں لیتے. سارک میں ہندوستان کے وزیر سے ملنے کیلیے ہم پاپڑ بیلتے ھیں,کشمیر کو شاہ رگ کہتے ہیں مگر اہم مواقع پر اسکا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں,پاکستان کو اسلام کا قلعہ ثابت کرنے پر تلے ہیں مگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے قرارداد لے آتے ہیں لیکن فلسطین کا ذکر نہیں کرتے.چائینہ کو تحفظات کا موقع فراہم کرتے ہیں,کس ملک سے کتنا تعلق رکھنا ھے اور کس پیمانے پر رکھنا ھے اس

کےلیے ھماری واضح پالیسی ھونا ضروری ھے.جو ابھ تک نہیں ھےجنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئیے بنائی جانے والی کمیٹی میں حزب اختلاف کو شامل نہ کرناجنوبی پنجاب صوبہ کے قیام پر قومی اتفاق رائے کے وعدے کو زمیں بوس کرنا ہے۔ اداروں کی بہتری کے وعدے پر نظر ڈالیں تو پولیس ریفارمز اور سیاسی اثر سے بالاتر پولیس کا وعدہ بھی ہوا ہو گیا۔ناصر درانی کا استعفی،طاہر واڈا قتل،ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ اور آئی جی اسلام آباد کا قصہ حکومتی وعدوں کے منہ پہ طمانچہ ہے۔بیوروکریسی کو میرٹ پر لگانے کے وعدوں کی ٹرین بھی پٹری پہ نہ چڑھ سکی۔سینیئر بیوروکریٹس ناصرف نظر انداز کیے گئے بلکہ سر عام بیوروکریسی کو گھر بھیجنے اور ناک کی سیدھ میں چلنے کے پیغامات نشر کیے گئے۔زبان زد عام ادارہ نیب خود مختار ہونے کی بجائے گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلہ میں زیدہ متنازعہ ادارہ بن کے سامنے

آیا۔یوں لگتا ہے کہ انصاف اور فوری انصاف کا جذبہ فقط حزب اختلاف کے لیے مختص کردیا گیا۔خیبر پختونخواہ میں احتساب کمیشن پانچ سال غیر فعال رہنے اور آفیسرز کو مراعات دینے کے بعد بغیر آڈٹ بند کر دیا گیا۔بحیثیت زرعی ملک عوام کیلیے حکومتی زرعی ایمرجنسی کا نفاذ بھی امید کا وہ سونامی تھا جو پہلے سو دنوں میں منہگی بجلی اورمنہگی یوریاکے بند دیکھ کے الٹے پاوں لوٹ گیا۔فرٹیلائزر پر سبسڈی کا خاتمہ کسانوں کی امیدوں اور حکومتی وعدوں کو دیمک کی طرح چاٹ گیا۔ایک کروڑ نوکریوں کے سہانے گیت پنجاب ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ریلوے ملازمین اور یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمیں کے نوحوں میں قابل سماعت نہ رہے۔سرسبزاور صاف پاکستان منصوبے کی بنیاد محترم وزیراعظم نے بذات خود جھاڑو پھیر کر رکھی وعدہ پورا کیا اور مثال قائم کی لیکن ساتھ ہی بڑی صفائی سے صاف پانی کے وعدےپر

جھاڑو پھیر دیا کیونکہ ابھی تک کو پالیسی سامنے نہیں آئی۔اعدادو شمار پر نظر رکھنے والےلوگ خواتین کی ترقی کے لولی پاپ سے بدہضمی کا شکار ہیں۔قومی مالیاتی ایوارڈ میں سندھ کے تحفظات صوبوں میں انتظامی توازن کے وعدے کو دھندھلا کرتے نظر آئے۔سپیکر بلوچستان کے مستعفی ہونے سے بلوچستان میں سیاسی مفاہمت اور استحکام کے وعدے بھی گونگے کا خواب ثابت ہوئے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سو دنوں ملکی حالات ایک دم نہیں بدل سکتے۔سارے وعدے قلیل مدت میں پورے ہونا ممکن نہیں خاص طور پر جب وعدے ماونٹ ایورسٹ کے حجم میں ہوں۔لیکن سو دنوں میں پالیسی بنائی جا سکتی ہے۔قانون سازی کی جا سکتی ہے ترجیحات واضح ہو سکتی ہیں روٹ میپ دکھایا جا سکتا ہے۔اور پاکستان کے عوام صرف اسی کے منتظر تھے۔لیکن میانہ روی کی پالیسی پر سختی سے کاربند حکومت نے ایک خوبصورت تقریب اور اشتہارات پر کڑوڑوں خرچ کر کے تھا،تھی،تھے اور گا،گی ،گے کے راگ سنائے۔آپ ریکارڈ دیکھ لیں پہلی تقریر کے بعد جب بھی وزیراعظم نے تقریر فرمائی سٹاک مارکیٹ نیچے اور ڈالر اوپر گیا۔یہاں مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ یہ باور کروانا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کو یاد رکھے اور درست سمت میں متحرک نظر آئے تا کہ عوام کی امید نہ ٹوٹے کیونکہ جب امید ٹوٹتی ہے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔