Web
Analytics
سانحہ ماڈل ٹائون کیس، راناثناء اللہ وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار، ایسا دعویٰ کردیاگیا کہ (ن) لیگ میں کھلبلی مچ گئی – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / سانحہ ماڈل ٹائون کیس، راناثناء اللہ وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار، ایسا دعویٰ کردیاگیا کہ (ن) لیگ میں کھلبلی مچ گئی

سانحہ ماڈل ٹائون کیس، راناثناء اللہ وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار، ایسا دعویٰ کردیاگیا کہ (ن) لیگ میں کھلبلی مچ گئی

لاہور(نیوز ڈیسک)سانحہ ماڈل ٹاون کیس، کیا رانا ثناء اللہ وعدہ معاف گواہ بننے والے ہیں؟، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈاپور نے سابق وزیر قانون پنجاب کے شہباز شریف کیخلاف گواہ بننے کا دعویٰ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈاپور کی جانب سے تہلکہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔خرم نواز گنڈا پور کا کہنا ہے کہ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے والے ہیں۔ خرم نواز گنڈاپور کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ سانحہ ماڈل ٹاون کیس میں ناصرف سلطانی گواہ بنیں گے، بلکہ تختہ دار تک بھی پہنچیں گے۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی طرف

سے سانحہ ماڈل ٹائون کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کے قیام کی یقین دہانی پر درخواست گزار بسمہ امجد کی درخواست نمٹا دی۔عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب حکومت انسداد دہشتگردی قانون کی شق 19 کے تحت نئی جے آئی ٹی بنانے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے نئی جے آئی ٹی کے قیام درخواست گزار کا موقف پورا ہوجاتا ہے۔ درخواست پر سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثا ر نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ عدالت سانحہ ماڈل ٹائون کا واقعہ پر روزانہ کی بنیاد پرٹرائل کا حکم پہلے ہی دے چکی ہے اس سے زیادہ کیا تیز انصاف دیا جائے۔دھرنے کے باعث سپریم کورٹ مفلوج اور بے توقیر کرکے رکھ دیا گیا۔ ہمیں یاد ہے کہ یہاں عدالت عظمیٰ کے لوگو پر پھٹی ہوئی قمیضیں لٹکی ہوئی تھیں۔ دھرنے کے سبب بچے سکول نہیں جاسکتے تھے ایمبولینس میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہا کیا آپ کا دھرنے کے دوران یہ اقدام درست تھا۔ آپ جس کے پاس جانا چاہتے ہیں ہمیں علم ہے اس ملک کا سب سے مضبوط ادارہ عدلیہ ہے آپ نے اس وقت سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔۔دوران سماعت ڈاکٹر طاہر القادری نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں تحریک منہاج القرآن کے سو کے قریب کارکن زخمی جبکہ دس شہید ہوئے تھے۔ پنجاب پولیس نے ازخود مقدمہ کے اندراج کے بعد جے آئی ٹی کا قیام عمل میں لایا جبکہ ہماری درخواست پر وقوعہ کے دو ماہ بارہ دن بعد مقدمہ کا اندراج عمل میں لایا گیا ۔ ہوم سیکرٹری پنجاب نے ہمارے مقدمہ پر ایک نئی جے آئی ٹی بھی بنائی جس کی سربراہی بلوچستان میں پنجاب پولیس کے یپوٹیشن پر تعینات افسر کے ذمہ لگائی گئیں جس سے ہم اور ہمارے کارکن مطمئن نہ تھے پولیس اور دونوں کے آئی ٹیز میں سے کسی ایک

نے بھی شہداء کے ورثاء کے بیان قلمبند نہیں کئے جبکہ ہماری طرف سے نامزد کئے گئے ملزمان جن میں وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، وزیر قانون ، آئی جی پنجاب و دیگر شامل تھے میں سے بھی کسی ایک کو بھی شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔ساڑھے چار سال سے زائد عرصہ میں ان بیوائوں ، یتیموں کو انصاف ہونے کی تسلیاں دیتا آرہا ہوں۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ واقعہ کی حقیقی بنیادوں پر تفتیش ہی نہیں کی گئی رانا ثناء اللہ نے جسٹس باقر نجفی کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے اقرار کیا کہ پنجاب حکومت نے تحریک منہاج کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جبکہ بیریئر ہٹانے کا صرف بہانہ استعمال کیا گیا ادارہ منہاج القرآن ے باہر بیرییئر اس وقت کی حکومت اور خود میری

سکیورٹی کیلئے نصب کروائے تھے جسن کی ایک لمبے عرصے تک سرکاری سطح پر نگرانی بھی ہوتی رہی احمد چیمہ اپنے بیان می بتا چکے ہیں کہ انہوں نے ادارہ منہاج القرآن کو اپنے بیریئر ہٹانے کا نوٹس جاری نہیں کیا درخواست گزار کی والدہ اور پھوپھو اور والدہ اس سانحہ میں شہید ہوئیں جبکہ درخواست گزار ہمارے تمام دس شہدا کے مدعی کے بطور عدالت میں موجود ہیں ہمارے دس افراد شہید ہوئے ساڑھے چار سال قانونی پیچیدگیوں میں گزر گئے ہمارے ملازمین اس وقت حکومت میں تھے چیف جسٹس نے طاہر القادری کے دلائل کے دوان ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سانحہ ماڈل ٹائون کا واقعہ پر روزانہ کی بنیاد پرٹرائل کا حکم پہلے ہی دے چکی ہے اس سے زیادہ

کیا تیز انصاف دیا جائے دھرنے کے باعث سپریم کورٹ مفلوج اور بے توقیر کرکے رکھ دیا گیا ہمیں یاد ہے کہ یہاں عدالت عظمیٰ کے لوگو پر پھٹی ہوئی قمیضیں لٹکی ہوئی تیں دھرنے کے سبب بچے سکول نہیں جاسکتے تھے ایمبولینس میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہا کیا آپ کا دھرنے کے دوران یہ اقدام درست تھا آپ جس کے پاس جانا چاہتے ہیں ہمیں علم ہے اس ملک کا سب سے مضبوط ادارہ عدلیہ ہے آپ نے اس وقت سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا آپ کا موقف ہے واقعہ کے بعد آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئیں سازش کے تحت پورا منصوبہ بنایا گیا چیف جسٹس نے سوال کیا اگر نئی جے آئی ٹی بنے تو کیا ریاست کو اعتراض ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں بولنا چاہا تو عدالت پر اعتراض لگا کہ جب جے آئی ٹی بنتی ہے تو اس میں آپ اپنا موقف دے دینا عدالت نے پنجاب حکومت کی طرف سے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کے قیام کی یقین دہانی پر معاملہ نمٹا دیا۔