Web
Analytics
کرسمس اور ہماری ذمے داری ۔۔تحریر: ام محمد عبداللہ – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / کرسمس اور ہماری ذمے داری ۔۔تحریر: ام محمد عبداللہ

کرسمس اور ہماری ذمے داری ۔۔تحریر: ام محمد عبداللہ

چھ سالہ نبیل کمرے کی دیوار پر آویزاں بڑی سکرین پر کرسمس کے رنگین مناظر بہت دلچسبی سے دیکھ رہا تھا۔ قریب ہی صوفے پر بیٹھے بابا جانی لیپ ٹاپ پر مصروف تھے جب کہ امی جان اس کی فرمائش پر کچن میں پکوڑے بنا رہی تھیں۔ کرسمس کا دن پاکستان میں موجود مسیحی برادری کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عیسائی برادری گو کہ پاکستان میں اقلیت میں ہے مگر پورے ملک میں یہ لوگ موجود ہیں۔ اس دن یہ لوگ یسوع مسیح کی پیدائش کو عید کے طور پر مناتے ہیں۔ اسکرین پر چلنے والی ڈاکومینٹری نے نبیل کی دلچسبی اپنی جانب کھینچ لی تھی۔ اس دن عیسائی چرچ میں حاضر ہوں گے۔ گھروں میں خصوصی کرسمس کیک اور پکوان تیار کیے جائیں گے۔ کرسمس ٹری بھی اہتمام سے تیار ہوں گے۔ بچے تو سانتا کلاز کی جانب سے بھیجے جانے والے تحفوں کا شدت سے انتظار کریں گے۔ خوب ہلا گلا ہو گا۔ ہماری

دعا ہے کہ مسیحی برادری یہ دن امن و امان سے گزارے۔ ڈاکومینٹری پر کرسمس کیک، کرسمس ٹری اور سانتا کلاز کے ساتھ اچھلتے کودتے بچے دکھائے جا رہے تھے۔ ”یہ لیں نبیل آپ کے لیے مزے دار پکوڑے دہی کی چٹنی کے ساتھ تیار ہیں“۔ امی جان ایک بڑی ڈش میں پکوڑوں اور چٹنی کے پیالے کے ہمراہ ٹی وی لاو نج میں داخل ہوئیں۔ ”ارے واہ نبیل میاں آپ کے پکوڑوں کے ساتھ تو ہم بھی انصاف کریں گے“۔ بابا جانی نے ہنستے ہوئے نبیل کو مخاطب کیا۔ امی اور بابا جانی بھی نبیل کے ہمراہ قالین پر آبیٹھے۔ ”امی جانی اس مرتبہ ہم بھی کرسمس منائیں گے“؟ نبیل نے جو کرسمس کے پروگرام میں کھویا ہوا تھا امی سے کہا۔ ”ہائیں۔ توبہ توبہ ہم کیوں منائیں گے کرسمس“؟ امی اس عجیب فرمائش پر پریشان ہو گئی تھیں۔ ”کیوں جی۔ میں تو سانتا کلاز سے اپنا تحفہ بھی لوں گا“۔ نبیل نے اپنی اگلی خواہش بھی بیان کر ڈالی۔ ”نہیں نبیل بیٹے کرسمس پر نئے کپڑے بنانے یا سانتا کلاز سے تحائف لینے کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں۔ ہمارے اپنے بہت خوبصورت اور پرکشش تہوار ہیں جو ہمارے لیے کافی ہیں“۔ اب کے بابا جانی نے نبیل کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ ”ہمارے تہوار“؟ نبیل نے بابا جانی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ”جی جناب کیوں بھول گئے عید الفطر کو جس میں خوبصورت واسکٹ کے ساتھ آپ کا سفید کرتا شلوار بنا تھا۔ مزے دار سویاں اور بابا جانی کے ساتھ اللہ اکبر پڑھتے مسجد کو گئے تھے ناں آپ“،امی جان نے نبیل کو یاد دلایا۔ ”جی امی جان اور مجھے ڈھیر ساری عیدی بھی تو ملی تھی ناں“۔ عیدی کی یاد نے نبیل کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔ ”صرف یہ ہی نہیں اور وہ عیدالاضحی جس میں گائے ذبح ہوئی تھی۔ وہ بھی تو اتنا پیارا تہوار ہے ہمارا“،بابا جانی نے نبیل کو یاد دلایا۔ ”جی بابا جس میں ہم وہ دور کچی بستی میں گوشت بانٹنے

گئے تھے۔ کتنا اچھا لگ رہا تھا۔ سب میرے بابا جانی کو دعائیں دے رہے تھے“۔ نبیل نے لاڈ سے بابا جانی کی طرف دیکھا۔ ”جی تو اب ہمارے انوکھے لاڈلے کی سمجھ میں آئی کہ جب ہمارے اپنے اتنے بہترین اور پیارے تہوار ہیں تو ہمیں خواہ مخواہ دوسری اقوام کے تہوار منانے کی کوئی ضرورت نہیں“، امی جان نے محبت سے نبیل کا گال تھپتھپایا۔ ”لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کو تو ہم مسلمان بھی اللہ کا برگزیدہ پیغمبر مانتے ہیں“، نبیل کے بڑے بھائی راحیل جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئے تھے نے گفتگو میں حصہ لیا۔”جی بالکل۔ بھلا آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں“؟ ابو جان نے بچوں سے پوچھا۔”حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے پیغمبر ہیں“، نبیل نے جواب دیا۔”بابا جانی مجھے حضرت جعفررضی اللہ عنہ کا وہ جواب یاد ہے جو انہوں نے حضرت عیسی ؑکی بابت سوال کرنے پر

دربار نجاشی میں دیا تھا“۔ ”بہت اچھے۔ سنائیے“، بابا جانی نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ حضرت جعفررضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا، ”ہم حضرت عیسیؑ کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو نبیﷺلے کر آئے ہیں، یعنی وہ اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا وہ کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری، پاک دامن مریمؑ کی طرف القا کیا تھا“۔ ”شاباش بیٹے! بس حضرت عیسیؑ سے متعلق یہی عقیدہ حق پر مبنی ہے ۔رہے عیسائی تو انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی محبت و عقیدت میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ شرک جیسے ظلم کو جا پہنچے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ آپ پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے کتاب انجیل نازل کی گئی تھی۔ آپ کو بہت سے معجزات بھی عطا کیے گئے“۔”جی بابا مجھے دادی جان نے بتایا تھا کہ حضرت عیسیؑ اللہ کے حکم سے مٹی سے

پرندے کی صورت بنا کر پھونک مارتے تو وہ حقیقی پرندہ بن جاتا، پیدائشی اندھوں کوآنکھوں کا نور عطا فرما دیتے، کوڑھ کے مریضوں کو شفایاب کردیتے اور مردوں کو زندہ کردیتے تھے“۔ ”جی بالکل نبیل میاں اللہ تعالی نے آپ ؑکو یہ سب معجزات عطا کیے تھے۔ لیکن آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔”تو عیسائی جو آپؑ کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہتے ہیں وہ غلط ہے ناں بابا“، نبیل نے پوچھا۔ ”جی بیٹے نہ صرف غلط ہے بلکہ بہت بڑا گناہ بھی ہے قیامت کے روز اللہ پاک حضرت عیسیؑ سے پوچھیں گے کہ کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ جل شانہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کی عبادت کرنا؟ تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالی آپ کی ذات پاک ہے اور میں نے ایسی بات نہیں کہی؟ اور ویسے بھی اللہ تعالی آپ تو سب کچھ جانتے ہیں“۔