Web
Analytics
چین سے کچھ سیکھنے کی باتیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / چین سے کچھ سیکھنے کی باتیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

چین سے کچھ سیکھنے کی باتیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

وزیر اعظم عمران خان چینی حکومت کے اس سحر میں مبتلا ہیں کہ اس نے 8سو ملین آبادی کو غربت سے نکالا ہے، وہ اکثر و بیشتر بد عنوان عناصر کیخلاف کارروائیوں کا بھی تذکرہ کرتے رہتے ہیں چین کی ترقی ایک مسحور کن کہانی ہے او ر لوگوں کو سطح غربت سے نکالنے کا کام انسانی تاریخ کا اہم واقع ہے ۔ دوسرے ممالک کا چینی اقدامات کی نکل کرتے ہوئے ترقی کی طرف بڑھنا بہت مشکل کام ہے ۔پاکستان جیسے ملک جہاں پر قوم نسلی لثانی ، ثقافتی اور مذہبی فرقہ وارانہ تعصبات سے دو چار ہے وہاں کوئی نظریاتی منظم جماعت اور بصیرت رکھنے والی قیادت موجود نہیں ہے ، ہمارا کثیر التبقات سرمایہ دارانہ ، جاگیر دارانہ اور مقامی اجارہ داریوں کا نظام ہے جس کو نو آبادیاتی قانونی ڈھانچے کے ساتھ چلایا جا رہا ہے ۔ یاد رہے دنیا کی 1/5آبادی رکھنے والا سب سے بڑے ملک میں اگر1949کا کیمو نسٹ

انقلاب برپا نہ ہوتا جس نے پسماندہ اور فرسودہ سماجی اور معاشی ڈھانچے کو مسمار کیا جس سے سویت یونین کے بعد دنیا میں دوسرے انقلاب سے ترقی کی راہ ہموار ہوئی چین نے انقلابی اصلاحات اور 1978میں دنیا سے رابطے کے بعد اپنی معیشت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے کھولا جس سے سالانہ قومی پیدا وار کی شرح9.5%تسلسل کے ساتھ آ سکی جو کہ گزشتہ چار دہائیوں سے 35%زیادہ ہے دنیا مین معاشی ترقی کی تسلسل کے ساتھ چین کے علاوہ کہیں مثال نہیں ملتی ہے ، یہ تمام اہداف سیاسی استحکام ، ویژنری قیادت اور با اختیار اداروں کی وجہ سے حاصل ہو سکے ہیں چین کے راہنما زینگ پینگ نے انقلاب کے دوسرے مرحلہ پر قوم کی قیادت کرتے ہوئے جدید چین کی تشکیل کی یاد رہے کہ زینگ پینگ کا تعلق 1949کے انقلاب کی لیڈر شپ سے ہے موجودہ حکومت کی بنیادی پالیسیوں کے حصول میں نظام کی ہیت اور عملیت کے بارے میں جائزہ لینا کیا موجودہ سیاسی نظام یا سسٹم ریاست کے فائدہ میں ہے ، یہ ملک کے سیاسی استحکام کیلئے درست ہے ، اس سے معاشی اور ترقی اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے اگر یہ نظام اعشاریوں کی بہتری میں مدد دے رہا ہے ۔معاشی ترقی کے ساتھ چین نے عام آدمی کی زندگیوں کو بہتر بنایا ہے جبکہ پاکستان میں حکمران طبقات ، جاگیر دار ، سرمایہ دار، کاروباری طبقے اور مڈل کلاس کی دولت میں اضافہ ہوا ہے ۔ بد عنوانی اور غیر پید ا واری سر گرمیوں کی وجہ سے ریاست کے وسائل میں کمی آئی ہے معیشت کا زیادہ دارو مدار غیر ضروری قرضوں پر ہے آج قرضے ریاست پر بوجھ بن گئے ہیں اور اس کے پاس عوام پر خرچ کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے جس سے غربت اور بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے ہم 71سال سے حکمران طبقاتی کی بنائی ہوئی پالیسیوں کی وجہ سے

توانائی اور پانی کی قلت کے بحران سے دو چار ہیں صحت اور تعلیم کے شعبے سب سے زیادہ منافع کما رہے ہیں، یہاں کے سماجی، لثانی، ثقافتی تضادات اور خراب امن عامہ کی صورتحال کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، جبکہ صنعت کار مہنگی بجلی ، ان پٹس اور کرپٹ انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں ریاستی معاشی ، سماجی، سیاسی، ثقافتی اور خارجہ پالیسیوں میں کبھی تسلسل نہیں رہا ہے ، چین نے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑا ملک ہونے کے باوجود لوگوں کو غربت سے نکالنے میں حیران کن کامیابی حاصل کی ہے ملک میں کمیونسٹ نظام کو بر قرار رکھتے ہوئے نیو لبرل پالیسیوں کے تحت اپنی منڈیوں کو غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے متوجہ کیا ہے جس سے چین کی مجموعی پیدا وار میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے حاصل کردہ منافع یا ٹیکس سے نچلے طبقات

کی مدد کر کے انہیں غربت سے نکالا ہے ، چین نے معاشی اور سماجی ترقی کی اہداف حاصل کرنے کیلئے تعلیم اور آبادی کے کنٹرول پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے لاکھوں چینی جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے امریکہ اور دیگر ممالک میں بھجوائے گئے جنہوں نے ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک واپس آنے کو ترجیح دی آج چین میں لاکھوں انجینئر ، سائنس دان اور سماجی علوم کے ماہرین ایجادات اور تحقیق کے ذریعہ مقامی مصنوعات کو ویلیو ایڈیٹ اور جدید بنا کر ان کی عالمی منڈیوں میں کھپت کو یقینی بنا رہے ہیں ، آج چین کی درمیانہ درجہ کی عام استعمال کی مصنوعات دنیا کی تمام مارکیٹوں میں دستیاب ہیں ہماری انڈسٹری چینی مصنوعات کی درآمد کی وجہ سے بحرانی کیفیت سے دو چار ہے بلکہ ختم ہو رہی ہے ، ہمارے صنعت کار اپنی انڈسٹری یا کارو بار کو قدیم خاندانی مہارتوں سے چلا رہے ہیں جبکہ

جدید مشینری کیلئے سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ، سرمایہ زیادہ منافع کیلئے رئیل اسٹیٹ میں لگایا جا رہا ہے حکومت سے حاصل کردہ ایکسپورٹ ری فنڈ اور ایکسپورٹ ری فنانس کی مالیت سے کہیں کم برآمدات کی گئی ہیں اور ان میں کمی نظر آ رہی ہے ۔چین نے آبادی کے پھیلائو کو روکنے کیلئے ایک خاندان ایک بچے کی پالیسی اپنائی ہے جس سے غربت کو روکنے میں مدد کی ہے اب بچوں کی پیدائش میں معیشت کی ترقی کی وجہ سے کچھ چھوٹ دی گئی ہے جبکہ پاکستان میں یونی سیف کی آبادی کے بارے میں ایک رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں 60%آبادی رہائش پذیر ہے آج بھی خواتین بچوں کو گھروں میں جنم دیتی ہیں ، ملک میں30ہزار بچے روزانہ پیدا ہو رہے ہیں جس سے پاکستان کی آبادی میں ہر سال ایک کروڑ 8لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے ، اگر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو آئندہ بیس

سال میں آبادی دگنی ہو جائے گی ، یہ بڑھتی ہوئی آبادی ٹائم بم کی مانند ہے جو کہ ہماری معاشی ترقی کو نگل رہا ہے جس سے مستقبل میں خوراک ، توانائی اور پانی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے چین کی مسابقت کیلئے ضروری ہے کہ آبادی پر کنٹرول کی مہم میں علماء اکرام سے مدد لی جائے اور بنگلہ دیش ماڈل کی طرح مذہبی اجتماعات میں لوگوں کو شعور دیا جائے کہ بچے پیدا کرنا وسائل کے مطابق بچے پیدا کرنا ملک مفاد میں ہے ، یہ غیر اسلامی ہر گز نہیں ہے چین کی ترقی میں شرح افزائش نسل کے کنٹرول میں بھی کردار ادا کیا ہے چین میں چار دہائیاں قبل پاکستان سے کہیں زیادہ غربت تھی معاشی ترقی سے وہاں پر معیار زندگی بہتر اور غربت میں کمی ہوئی ہے ، چینی لیڈر شپ نے اس بات کا نعرہ لگا دیا تھا کہ معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہے چین نے اپنی تمام توجہ معاشی ترقی کی طرف

رکھی اور علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات سے بچنے کی کوشش کی اور کبھی فوجی سپر پاور بننے کا خواب نہیں دیکھا ہے جبکہ پاکستان نے افغان جہاد کی مہم جوئی میں حصہ لے کر پاکستان کے مقامی کلچر اور سیاست کو برباد کرنے کیلئے کوئی کسر روا نہ رکھی جس کے نتائج آج بھی ہم دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں چین سے سیکھنا چاہیے تو یہ جان لینا چاہئے ایسی سوشل معاشی تبدیلیوں کیلئے ویژن اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ یقینا عمران خان کے گرد اکٹھے مختلف سرمایہ دارانہ طبقات ، مڈل کلاس اور پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے راہنمائوں او ر اپوزیشن کے مفادات کے خلاف ہونگے، یاد رہے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی پاکستان کو جدید ریاست بنانے کیلئے چینی ماڈل پر کام کرنے کی کوشش کی انسانی وسائل کی ترقی کیلئے قانون سازی کی مگر اس کام پر

اس کو جو خمیازہ بھگتنا پڑا وہ ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے بے شک تحریک انصاف کی قیادت انسانی وسائل کی ترقی کی بات کرتی ہے کہیں بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم کا تذکرہ ہے مگر ان تمام کاموں کو عوامی مفادات میں سر انجام دینے کیلئے سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے ۔ مخصوص نعروں ، خالی وعدوں اور اپوزیشن کیخلاف احتساب کے شور و غل میں لوٹی ہوئی دولت لانے کے وعدوں سے معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم نہیں کی جا سکتی ہیں پاکستان کا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ چین سے بالکل مختلف ہے وہاں پر یک جماعت نظام حکومت ہے وہاں پر ملکی پالیسیاں کمیونسٹ پارٹی بناتی ہے جس کو تمام اداروں پر بالا دستی حاصل ہے اور اس کو کوئی اندرونی چیلنج در پیش نہیں ہے ۔ جس کی ریڈیکل ریفارمز معیشت کو درست ٹریک پر رکھنے کیلئے راہنمائی اور مدد کرتی ہے جبکہ پاکستان

میں کوئی نظریاتی یا انقلابی جماعت موجود نہیں ہے جبکہ عملیت پسند لیڈر شپ کا بھی فقدان ہے اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کے پاس معاشی ترقی کا روڈ میپ موجود ہے تحریک انصاف کی مہم جوئی پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ سسٹم کو آگے بڑھنے میں مشکلات ہو رہی ہیں جس سے نظام کی کمزوریاں اور ناکامیاں دیکھائی دے رہی ہیں معیشت جمود سے دو چار ہے ، بیرون ملک سے ترسیلات کم ہو رہی ہیں ، محاذ آرائی اور تضادات سے دو چار ہے جبکہ ہم ریاستی نظام چلانے کیلئے بیرونی قرضہ جات پر گزارہ کر رہے ہیں موڈی انٹر نیشنل کے مطابق ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر اگلے دو ماہ کے امپورٹس بل کیلئے ناکافی ہیں ، یہ عارضی زر مبادلہ کو مستحکم کرنے کے اقدامات اور بڑھتے ہوئے قرضہ جاتے کے دبائو میں معیشت کی بحالی کے بارے میں سوچا نہیں جا سکتا ہے ، حکومت سیاسی مہم جوئی کو کم کرنے کیلئے تیار

نہیں ہے عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود بلاول بھٹو اور وزیر اعظم سند ھ کے نام ای سی ایل سے خارج کرنے سے انکار کر دیا ہے مفاہمت کی پالیسیوں کے ساتھ مخاصبت کی پالیسیوں کے ساتھ سیاسی اور معاشی استحکام کے بارے میں سوچا نہیں جا سکتا عمران خان چین کی بد عنوانی کے خلاف کارروائیوں کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ چینی قیادت نے یہ اقدامات معاشی اہداف حاصل کرنے کے بعد اٹھائے ہیں ۔ ہماری معیشت میں 70%کالا دھن موجود ہے ، کاروباری اور صنعتی معاملات چلانے کیلئے قومی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے جبکہ عمران خان چین اور ریاست مدینہ کے استعارے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کر رہا ہے غربت کا خاتمہ معاشی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے چین کی طرح ترقی حاصل کرنے کیلئے سیاسی اور معاشی استحکام کے ساتھ انتظامی اورسماجی اصلاحات اور ویژنری قیادت کی ضرورت ہے جو کہ ایک سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ہی سیکو لر ، جدید ، روشن پاکستان کے قیام میں مدد کر سکتی ہے ، مختلف اقتدار پسند طبقات پر مشتمل سیاسی پارٹی کیلئے لیبل میں چھپے ہوئے مفاد پرست گروہ سے پاکستانی ترقی کے بارے میں کچھ سوچا نہیں جا سکتا ہے۔