Web
Analytics
علیمہ خان نے جرمانے کی رقم قومی خزانےمیں جمع کروادی، 2کروڑ 94لاکھ کی بجائے کتنی رقم جمع کروائی گئی، جانئے – Lahore TV Blogs
Home / پاکستان / علیمہ خان نے جرمانے کی رقم قومی خزانےمیں جمع کروادی، 2کروڑ 94لاکھ کی بجائے کتنی رقم جمع کروائی گئی، جانئے

علیمہ خان نے جرمانے کی رقم قومی خزانےمیں جمع کروادی، 2کروڑ 94لاکھ کی بجائے کتنی رقم جمع کروائی گئی، جانئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ایف بی آر کو 73 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دبئی میں فلیٹس کے معاملے پر ایف بی آر کو 73 لاکھ روپے کی ادائیگی کردی، جب کہ بقیہ ٹیکس کی ادائیگی کے لیے علیمہ خان نے ایف بی آر سے 7 روز کی مہلت مانگ لی۔ایف بی آر نے علیمہ خان کو فلیٹ چھپانے پر 100 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا تھا جس کی مد میں دو کروڑ 94 لاکھ روپے بنتے تھے، علیمہ خان نے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ایف بی آر سے 13 جنوری تک کی مہلت طلب کی تھی۔ یاد رہے کہ نئے سال کے آغاز پر سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں اور اکاؤئنٹس

کیس کی سماعت ہوئی۔۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے چئیرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا کہ کیا علیمہ خان نے رقم ادا کر دی ہے؟ ہم نے علیمہ خان کو کتنا وقت دیا تھا؟ جس پر ممبر ٹیکس ایف بی آر نے چیف جسٹس کو بتایا کہ علیمہ خان 13جنوری تک پیسے جمع کروا سکتی ہیں۔چئیرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہن کو 29.4 ملین روپے ادا کرنے ہیں اور ان کے پاس 13جنوری تک رقم ادا کرنے کا وقت ہے۔ واضح رہے کہ آج صبح وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے نیو جرسی میں اپنے اثاثوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام جھوٹی خبروں اور الزامات کو مسترد کرتی ہوں۔ مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ میرے اثاثے غیرقانونی اور شوکت خانم اسپتال کی خیرات کے پیسے سے خریدے گئے ہیں جب کہ شوکت خانم خیراتی اسپتال ہے جو میری مرحومہ والدہ کی یاد میں بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال کو ملنے والے چندے کی آڈٹ نامور عالمی فرم سے کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بیرون ملک اثاثے جائز ذرائع اور ظاہر کاروباری آمدن سے بنائے ہیں جس میں میری اپنی آمدن اور شوہر کے اثاثوں سے بننے والی جائیداد شامل ہے جب کہ میں گذشتہ 20 سال سے ٹیکسٹائل میں کامیاب کاروبار کر رہی ہوں۔میرے ٹیکسٹائل کے خریدار عالمی سطح پر موجود ہیں جب کہ میری سالانہ ایکسپورٹ آرڈر تقریباً دو ارب روپے کی ہوتے ہے، جس میں سے میں ملکی معیشت میں بھی حصہ ڈالتی ہوں۔