Web
Analytics
طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں یہ کام کرسکتے ہیں، افغان صدر نے طالبان کو بڑی اجازت دیدی – Lahore TV Blogs
Home / انٹرنیشنل / طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں یہ کام کرسکتے ہیں، افغان صدر نے طالبان کو بڑی اجازت دیدی

طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں یہ کام کرسکتے ہیں، افغان صدر نے طالبان کو بڑی اجازت دیدی

کابل/واشنگٹن(نیوز ڈیسک) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ملک کے کسی بھی شہر میں دفتر کھولنے کے لیے تیار ہیں. طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری دوحا میں موجود طالبان کے دفتر کو تسلیم کرے. صوبہ ننگرہار کا دورہ کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ وہ افغانستان میں باوقار اور دیرپا امن لانا چاہتے ہیں. واضح رہے کہ گذشتہ ماہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ کے اختتام کے حوالے سے اہم پیش رفت تو ہوئی اور امن معاہدے کے مسودے پر

اتفاق بھی ہوا تاہم کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہ پا سکا ہے. کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں بلکہ وہ صرف امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں.گذشتہ ماہ بھی افغان صدر نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی نئی پیشکش کی تھی لیکن انھوں نے حکومت کو کٹھ پتلی کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی. امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے راہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان افغانستان پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے. ماسکو میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے‘ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا.تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں. دوسری جانب امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد افغانستان، قطر اور پاکستان میں مذاکرات کے لیے ایک اور امن مشن کا آغاز کرنے کے لیے واشنگٹن سے روانہ ہوگئے ہیں. واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ زلمے خلیل زاد اور ان کے ہمراہ وفد خطے میں مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے قبل بیلجیئم، جرمنی اور ترکی کے حکام سے بھی مشاورت کرے گا. امریکا کے نمائندہ خصوصی کا حالیہ مشن 28 فروری تک جاری رہے گا جس کے بعد وہ دوبارہ واشنگٹن واپس لوٹ جائیں گے.