Web
Analytics
آج سے مغربی ہوائوں کا سلسلہ ملک میں داخل ہوجائے گااور پھر کتنے دن تک بارشیں ہونگی، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی – Lahore TV Blogs
Home / پاکستان / آج سے مغربی ہوائوں کا سلسلہ ملک میں داخل ہوجائے گااور پھر کتنے دن تک بارشیں ہونگی، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

آج سے مغربی ہوائوں کا سلسلہ ملک میں داخل ہوجائے گااور پھر کتنے دن تک بارشیں ہونگی، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

لاہور(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں 12 سے 15 فروری تک دوبارہ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا باعث بننے والی مغربی ہوائوں کا سلسلہ آج پیر کے روز ملک میں داخل ہوگا جس کی وجہ سے کوئٹہ، پشاور، خضدار، قلات ڈویژن، کوہاٹ، مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں 12 سے 15فروری تک بارش جبکہ مری اور گلیات میں شدید برفباری کا امکان ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج سے درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے تاہم شہر قائد میں 2 روز بعد پھر سرد ہوائیں چلنے کی پیشگوئی ہے جبکہ پنجاب کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں دھند پڑنے کا امکان ہے۔دوسری جانب گلیشیئر میں مسلسل اضافے اور اس

کے ساتھ ہی ڈیم کی شکل میں جھیل کی تخلیق سے ہنزہ میں عطا آباد جھیل جیسے سانحے کے خدشات پیدا ہوگئے۔گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ڈیم کی شکل میں بننے والی جھیل کبھی بھی پھٹ سکتی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی، انفراسٹرکچر سمیت دیگر کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ہنزہ کے حسن آباد گاؤں سے چند کلومیٹر دور خطرناک گلیشیئر میں گزشتہ سال مئی کے مہینے میں اضافے کا آغاز ہوا تھا۔غیر معمولی اضافے سے قریبی مچوہر گلیشیئر سے نکلنے والا پانی کا راستہ رک گیا ہے جو عام طور پر حسن آباد میں دریائے ہنزہ سے ملتا تھا۔جی بی ڈی ایم اے حکام نے ڈان کو بتایا کہ ڈیم کی شکل کے جھیل میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور وہ اب پھیل کر 700 میٹر تک پہنچ چکی ہے جس کی گہرائی 300 فٹ ہے جبکہ گلیشیئر میں 7 میٹر فی روز اضافہ بھی ہورہا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ ادارے کی تشخیص کے مطابق ممکنہ جھیل کے پھٹنے سے کراکرم ہائی وے کا ایک حصہ، ایک پل، حسن آباد کے تقریباً 100 گھر، 2 پاور ہاؤسز، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کا کیمپ دفتر اور کئی سو کنال کی زرعی زمین تباہ ہوجائے گی اور اس کی وجہ سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ بھی رک سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جی بی ڈی ایم اے گلیشیئر کے اضافے اور ڈیم کی شکل کی جھیل پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھی جارہی ہے اور ماہرین نے علاقے کا دورہ بھی کیا ہے اور جھیل کے پھٹنے سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبل از وقت وارننگ کے نظام کو علاقے میں لگایا جاچکا ہے جس میں سیٹلائٹ کیمروں کی سہولت بھی موجود ہے جبکہ مقامی افراد کو ہنگامی صورتحال کے لیے اقدامات کرنے کی تجویز بھی دے دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہماہرین کا کہنا تھا کہ اگر گلیشیر میں اس ہی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو یہ آئندہ 2 ہفتوں میں 2 میگاواٹ کے حسن آباد پاور اسٹیشن سے ٹکرا سکتا ہے۔