Web
Analytics
کیا آپ جانتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ کے وہ کون سے دو امتی ہیں جن کے درمیان روز محشر اللہ تعالیٰ خود صلح کروائیں گے – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / کیا آپ جانتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ کے وہ کون سے دو امتی ہیں جن کے درمیان روز محشر اللہ تعالیٰ خود صلح کروائیں گے

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ کے وہ کون سے دو امتی ہیں جن کے درمیان روز محشر اللہ تعالیٰ خود صلح کروائیں گے

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیںتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی ؟آپؐ نے فرمایا’’ میرے دو اْمتی اللہ تعالی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں، اللہ پاک اس ظالم سے فرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو۔ ظالم جواب دیتا ہے یا رب !اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کےبدلے میں اسے دے دوں۔تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے ‘‘۔یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے ۔

وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا، لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔اب اللہ پاک طالب انتقام(مظلوم) سے فرمائے گا ۔نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ وہ سر اٹھائے گا , جنت کی طرف دیکھے حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ جس رات حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا، کسی کو خبر نہ تھی کہ آج رات ان کا انتقال ہوگیا ہے،اس ایک رات شہر بغداد کے 70 اولیاء کو تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اورہر ایک نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغداد تشریف لائے ہیں۔خواب میں ہر ولی نے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ وفات ہوئی ہے اس کی روح کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔دنیا دھاڑے مار کر روتی ہوئی صبح اٹھی تو ان کی خبر ہوئی کہ یہ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کسی مقام و مرتبے کے حامل تھے۔ مگر وہ دنیا سے جاچکے تھے اور جب لوگ ان کے گھر پہنچے تو نور کے کلمات سےان کی پیشانی پر لکھا تھا۔ ’’اللہ کا عاشق تھا اور اسی کے عشق میں وفات پاگیا‘‘۔اللہ کا محبوب تھا اور اسی کی محبت میں وصال فرماگیا۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، ان کا جنازہ اٹھایا گیا، اطراف و اکناف سے ہزاروں لاکھوں پرندے جمع ہوگئے اور انہوں نے پر جوڑ کر سائبان بنا کر سایہ کردیا۔ اللہ چاہتا تو بادلوں کے ذریعے ہی سایہ کردیتا، مگر بادلوں سے سایہ کرتا تو کئی نہ ماننے والے کہتے کہ بادل تو آتے ہی رہتے ہیں مگر اللہ نے بادلوں کے ذریعے سایہ نہیں کروایا بلکہ پرندوں کے ذریعے اس طرح سایہ کروایا کہ ان پرندوں نے پروں سے پرملاکر سائبان بنادیا۔ نیچے ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ جاتا تھا اور اوپر پرندوں

کا سائبان چلتا تھا….!! قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟اللہ تعالی فرمائے گا : تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔اب وہ عرض کریگا :یا رب کس طرح؟اللہ جل شانہ ارشاد فرمائے گا اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے۔ وہ کہے گا یا رب! میں نے معاف کیا۔اللہ پاک فرمائے گا، اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاؤ۔اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالی سے ڈرو،آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مومنین کے درمیان میں صلح کرانے والا ہے۔(صحیح بخاری)