Web
Analytics
نشا راؤ ،پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل، جانئےگداگری سے وکالت تک کے سفرکی داستان – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / نشا راؤ ،پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل، جانئےگداگری سے وکالت تک کے سفرکی داستان

نشا راؤ ،پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل، جانئےگداگری سے وکالت تک کے سفرکی داستان

یہ 2009کا ایک گرم دن تھا، لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین کی ایک نشست کا مسافر گہری سوچوں میں گم تھا۔ٹرین کے باہر تیزی سے گزرتے مناظر سے لاتعلق یہ مسافر بظاہر گم سم تھا تاہم اس کے دل و دماغ میں تلاطم برپا تھا ، ایک طرف پیچھے رہ جانے والے گھر اور خاندان کی یاد اور انجانی منزل کے خدشات تھے اور دوسری جانب روح اور جسم کے تضاد میں گم ہوجانے والی اپنی شناخت کی تلاش کا عزم، کراچی میں سمندر کی موجوں کو دیکھنے اور ساحل کی نرم ریت پر چہل قدمی کرنے کی بچپن کی خواہش کی تکمیل میں گھر بار چھوڑنے والے اس مسافر کو آج نشاء راؤ کے نام سے جانا جاتا ہے۔نشا راؤ پاکستان میں اپنی شناخت اور حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑنے والے پرعزم ٹرانس جینڈر ہیں جنھوں نے اپنی منزل تک جانے والے راستے کی طرح اپنے اس نام کا انتخاب بھی خود کیا، نشا پانچ بہن بھائیوں پر

مشتمل ایک خوش و خرم گھرانے کی دو بہنوں کے بعد پیدا ہونے والی تیسری اولاد ہیں دو چھوٹے بھائیوں سے بڑی اولاد ہونے کے ناطے بڑی بہنوں سے قربت فطری تھی لیکن پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے روح اور جسم کا تضاد بڑھتا چلا گیا۔اسکول کے ہم جماعتوں نے اس احساس کو مزید تقویت دی اور شرمیلی کا لقب دے دیا،نشا نے اپنے ہم جماعت لڑکوں سے دوری اختیار کرنا شروع کردی، والدین نے شروع میں نظر انداز کیا تاہم عادتیں پختہ ہوتی دیکھ کر عاملوں سے علاج کروایا تو کبھی درگاہوں پر منتیں مانیں لیکن سب بے سود ثابت ہوا، والد انجینئر تھے جنھوں نے میٹرک تک پہنچتے پہنچتے تک نشا کی غلطیوں پر کبھی سختی سے سرزنش کی تو کبھی پیار سے سمجھایا گھر سے نکلنے پر روک ٹوک بھی لگائی لیکن اولاد سے قلبی تعلق کی وجہ سے کبھی تنہا نہیں ہونے دیا۔نشا نے کالج میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تو اس کی ملاقات اپنے جیسے ایک دوست سے ہوا جس نے اس احساس کو تقویت دی کہ دنیا میں نشا جیسے اور بھی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اس دوران معاشرے کے برتاؤ نے بھی احساس دلایا کہ قدرت نے زندگی میں کئی امتحان رکھے ہیں اب ایک جانب خود کو دنیا کے مطابق ڈھال کر چپ چاپ جینے کا راستہ تھا اور دوسری جانب اپنی شناخت منوانے کا کٹھن راستہ، نشا نے اس سخت راستے کا انتخاب کیا۔نشا نے کئی مرتبہ کراچی جانے کی خواہش کا اظہار اپنے والدین سے کیا جس پر والد نے سختی کی اور سمجھایا کہ تنہا جانے میں بہت پریشانی اٹھانا پڑے گی لیکن نشاکو سمندر کی لہریں دیکھنے کا شوق تھا، بڑی بہت سے قربت کی وجہ سے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے مدد مانگی جس نے اپنے کانوں کے بندے فروخت کرکے 1400روپے دیے۔نشا نے ایک دن چپ چاپ گھر چھوڑ

دیا اپنی جیسی ایک دوست کے ساتھ کراچی کا رخ کیا بڑی مشکل سے ایک ایسی ٹرین کی ٹکٹ ملی جو بہت سست رفتاری سے چل رہی تھی اور مسافر کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے نشاکی دوست اس سے قبل کراچی آچکی تھی جو خود بھی ٹرانس جینڈر تھی۔کراچی پہنچ کر دوست نے ہجرت کالونی میں ٹرانس جینڈر گروپ سے متعارف کرایا جہاں رہائش اختیار کی اور ایک گرو کی شاگردی اختیار کرلی، نشاکے لیے اب سے آئندہ تک کا ایک سال ایک ڈراؤنا خواب ہے جسے وہ بھول جانا چاہتی ہیں۔نشاکا کہنا ہے کہ اس ایک سال میں بہت مشکلات اٹھائیں اور سڑکوں پر بھیک مانگ کر گزارا کیا اس دوران تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا، لوگوں کے ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑا لوگوں نے نفرت اور حقارت کا اظہار کیا ،سٹی کالونی میں رہائش کے دوران محلے کے لڑکوں نے گھر میں داخل کر تشدد کا نشانہ بنایا موبائل اور پیسے چھین

لیے۔ٹرانس جینڈر کمیونٹی میں جہاں زخموں پر مرہم رکھنے والے ہمدر د ساتھی ملے وہیں دل آزاری کرنیو الے بھی کبھی پولیس کی چیرہ دستیاںکبھی بھوک پیاس بیماری کا سامنا ہوا۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھو جس پر تعلیم کا سلسلہ شروع کیا انٹرمیڈیٹ کیا اور پھر دوستوں کی مدد سے ہی کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بی اے کا امتحان پرائیوٹ دیا۔نشاکے مطابق امتحان کے لیے سینٹر پر پہنچنے کے باوجود رکشہ میں بیٹھ کر انتظار کرتی رہتی تھی کیونکہ اب لوگوں سے الجھنا اور مذاق کا نشانہ بننے کا وقت نہیں تھا اسی طرح پیپر جلد مکمل کرکے وقت ختم ہونے سے قبل نکل جایا کرتی۔ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے اور حوصلہ بڑھانے میں ایڈوکیٹ مدثر اقبال چوہدری نے ہمیشہ ساتھ دیا اور انہوں نے ہی قانون کی تعلیم حاصل

کرکے وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔،نشا نے 2015میں ایس ایم لاکالج میں داخلہ لیا اور جنوری 2019میں فائنل ایگزام دیے اب نتیجے کا انتظار ہے جو اپریل کے مہینے میں متوقع ہے۔نشاکاکہنا ہے کہ اپنے ساتھ اپنی کمیونٹی کے ہر فرد کی شناخت کا مقدمہ لڑنا اور حقوق کی قانونی جدوجہد اب ان کی زندگی کا مشن ہے اور ایل ایل بی کی تکمیل اس منزل کی جانب پہلا قدم ہے، نشانے اپنی کمیونٹی اور ٹرانس جینڈرز کی قانونی معاونت کئی سال پہلے ہی شروع کردی تھی۔ سڑکوں پر پولیس کے ہتھے چڑھنے والے ٹرانس جینڈر ز کا تحفظ ہو یا مقدمات کا سامنا کرنے والے ٹرانس جینڈر کی ضمانتیں، نشاء ہر جگہ پیش پیش نظر آتی ہے اور قانونی مدد کے لیے اپنے پاس سے رقم بھی خرچ کرتی ہیں۔نشاء ایل ایل ایم کرکے بیرسٹر بننا چاہتی ہیں اورمنصف کے عہدے تک پہنچنا ان کی منزل ہے، نشاکو اب یہ منزل کچھ قریب

لگتی ہے ان کا کہنا ہے کہ قانون کی تعلیم کے دوران پاکستان کے قوانین کو پڑھنے کا موقع ملا پاکستان کے قوانین ہر طبقہ کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں بالخصوص 2018کے ایکٹ میں ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے اس ایکٹ میں طبی معائنے کو لازم قرار نہیں دیا گیا بلکہ ٹرانس جینڈر کو یہ حق دیا کہ وہ اپنی جنس کے بارے میں اقرار کرے۔نشاکا کہنا ہے کہ معاشرے میں اب ٹرانس جینڈرز کے بارے میں عمومی رائے تبدیل ہورہی ہے۔ روایتی میڈیا نے شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز نے بھی عوامی شعور کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا متعدد این جی اوز ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں جو اپنی اپنی جگہ بہتر کام کررہی ہیں لیکن نشاخود اپنی این جی او بنانے کی خواہش مند ہیں جو ٹرانس جینڈرز کے ساتھ خواتین کے حقوق کے

تحفظ کے لیے بھی کام کریگی کیونکہ ان کے خیال میں خواتین بھی استحصال کا شکار ہیں۔مردانہ نہیں اختیار کردہ نام کے ساتھ شناخت ہونی چاہیےنشاء، وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹرانس جینڈرز کو شناختی دستاویزات میں اپنی مرضی کی شناخت اور نام درج کرانے کے حق کے لیے جدوجہد کا ارادہ رکھتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سارا مسئلہ ہی شناخت کا ہے جس کے لیے ہم اپنا گھر بار، اپنا خاندان اپنی گلیاں اپنے شہر چھوڑتے ہیں اور یہ حق ہمیں نہیں ملتا۔نشا راؤ کی تمام تعلیمی دستاویزت اور شناختی دستاویزات میں بھی ان کے والدین کا دیا گیا مردانہ نام درج ہے جو اب تک کی ان کی تمام جدوجہد اور کامیابیوں کا منہ چڑاتا رہتا ہے، نشا نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ ٹرانس جینڈرز کو ان کے اختیار کردہ نام کے ساتھ شناخت دلوانے کی جدوجہد کریں گی۔نشا کی دوسری قانونی جدوجہد پبلک ٹرانسپورٹ میں سیٹیں مخصوص

کرانا ہوگی بقول نشا ٹرانس جینڈرز غربت کا شکار ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرسکتے اسی لیے رکشوں میں آمدورفت کرنا پڑتی ہے رائڈ سروس والوں نے بھی پہلے ان پر اپنی خدمات کے دروازے بند رکھے تاہم پھر نشا نے رائڈ سروس کمپنی کریم کی انتظامیہ سے بات کی اور اب رائڈ سروس انہیں بھی باعزت سواری کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔نشاکا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے حصہ میں سفر کرنا ممکن نہیں لیکن مردانہ کمپارٹمنٹ میں اگلی دو نشستیں ٹرانس جینڈرز کے لیے مخصوص کی جاسکتی ہیں جن پر ’’ٹرانس جینڈرز کے لیے ترجیحی نشست‘‘ کی عبارت لکھی ہو اور ٹرانس جینڈر مسافر کے آنے کی صورت میں جگہ دینا قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا ہو، نشا کے مطابق پبلک پارکس کی نشستیں ہوں، ریسٹورانٹ یا فوڈ سینٹرز کی ٹیبل یا عوامی مقامات کے بیت الخلا ٹرانس جینڈرز کو قدم قدم پر اپنی

شناخت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ٹرانس جینڈز میں ایڈز کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور نشا اس رجحان سے بہت پریشان ہیں، نشا نے عورت فاؤنڈیشن کے تحت کراچی کے ٹرانس جینڈرز کا سروے کیا جس میں 300ٹرانس جینڈرز ایچ آئی وی پازیٹیو پائے گئے، یہ اعدادوشمار تشویشناک ہیں۔نشاکے مطابق کچھ ٹرانس جینڈرز خود بگڑنے پر آمادہ ہیں وہ گھر میں والدین کے نافرمان ہوتے ہیں اور خود اپنی اصلاح نہیں کرتے اور منفی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں پھر انہیں آسانی سے پیسہ کمانے کا موقع ملتا ہے اور وہ خود کو اس اندھیرے سے نکال نہیں پاتے دوسری جانب جنسی تعلیم نہ ہونے اور محفوظ زندگی گزارنے کے بارے میں آگہی کا فقدان بھی اس مہلک بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔نشا ان دنوں برج فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہیں جو ٹرانس جینڈز میں ٹیوبر کلوسس اور ایچ آئی وی میں مبتلا افراد کو علاج اور مالی معاونت فراہم کرتے ہیں، برج فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے بھی سروے کے دوران ٹرانس جینڈرز میں ایچ آئی وی کی وبا پھیلنے کے شواہد ملے ہیں۔نشاکا کہنا ہے کہ کراچی میں 10ہزار کے لگ بھگ ٹرانس جینڈرز میں 10فیصد ٹیوبر کلوسس (تپ دق) جبکہ 50فیصد ایچ آئی وی میں مبتلا ہیں جو ایک خوف ناک صورتحال ہے ان کا دعویٰ ہے کہ این جی اوز کے مرتب کردہ اعدادوشمار سے بھی اس رجحان کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ عور ت فاؤنڈیشن نے ٹرانس جینڈرز کو طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے بین الاقوامی ادارے کی معاونت سے ہیلتھ انشورنس کارڈز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ ماہ کے اختتام تک ٹرانس جینڈرز کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈز جاری ہوجائیں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحت اور محفوظ زندگی گزارنے سے متعلق آگہی پر توجہ نہ دی جائے۔

نشاکہتی ہیں کہ سرکاری محکموں اور بڑی کارپوریشنز میں ٹرانس جینڈر کے لیے کوٹہ مخصوص کرکے انھیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکتا ہے جبکہ ٹرانس جینڈرز ڈاکٹر انجینئر وکیل ہوسکتے ہیں تو ایئر ہوسٹس کیوں نہیں قومی ایئر لائن اگر فضائی میزبانی کے لیے ٹرانس جینڈر کی آسامی مختص کرے تو ملک بھر کے پڑھے لکھے اور باصلاحیت ٹرانس جینڈرز سامنے آئیں گے جو عالمی سطح پر ٹرانس جینڈرز کے احترام ، معاشرے میں مقام اور پاکستانی معاشرے کی حساسیت کی علامت بن کر پاکستان کا نام روشن کریں گے۔نشاکو کراچی سے بے حد لگاؤ ہے ان کا کہنا ہے کہ مجھے کراچی سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے اس شہر کی سڑکوں پر میں نے مشکل وقت گزارا جب مجھے نفرت ملی اور اب اسی شہر نے مجھے محبت اور عزت دی جو میری زندگی کا سرمایہ ہے،کراچی میں حالیہ دنوں بڑے پیمانے پر تجاوزات کے

خاتمے کی مہم میں دکانیں توڑے جانے پر نشا دل گرفتہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کتنی بڑی عفریت ہے یہ ٹرانس جینڈرز سے زیادہ کوئی نہیں جانتا جو دکاندار ٹرانس جینڈرز کو خیرات دیا کرتے تھے وہ خود بے روزگار ہوگئے ان کے رزق سے ٹرانس جینڈرز کا بھی رزق جڑا ہوا تھا۔نشا نے حکومت پر زور دیا کہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع مہیا کیے جائیں اور اس میں جنس کا فرق نہ رکھا جائے، نشاکے مطابق ملک میں تیزی سے فروغ پاتی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا بالخصوص اسمارٹ فونز نے ٹرانس جینڈر ز کو تحفظ فراہم کیا ہے اب ہم اپنا پیغام سول سوسائٹی کی مدد سے موثر انداز میں ارباب اختیار تک پہنچاسکتے ہیں۔نشا نے بتایا کہ تقریباً تمام ٹرانس جینڈر ز کے پاس کسی نہ کسی مالیت کا اسمارٹ فون ضرور موجود ہوتا ہے اور ہراساں

کیے جانے کی صورت میں وہ اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں پولیس کی زیادتی کی صورت میں بھی یہی دھمکی کام آتی ہے کہ ابھی ویڈیو بناکر لائیو کردیں گے، بھارتی فنکار شاہ رخ خان، پاکستانی اسٹار فوادخان ان کے پسندیدہ اداکار ہیں اداکاراؤں میں دیپکا پوڈوکون پر فدا ہیں گلوکاروں میں نصرت فتح علی اور راحت فتح علی پسند ہیں۔لگن سچی ہو تو ہر دروازہ کھلتا چلا جاتا ہے بس دستک دینے کی دیر ہوتی ہے، بلندیوں کی جانب گامزن نشا،کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہا ، ٹرانس جینڈرز کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور علاج معالجے کے لیے جناح ہسپتال جانا پڑا تو وہاں موجود ڈاکٹرز نے نشاکے عزم کو سراہا اور تعلیم کے حصول میں مالی معاونت فراہم کی اور پڑھائی میں بھی رہنمائی کی۔نشا کو حوصلہ دینے میں ان کے ایک مخلص دوست کا بھی بڑا کردار ہے جو دبئی میں ملازمت کے لیے مقیم ہیں اور انسانی قدروں کی مثال قائم کرتے ہوئے قدم قدم پر نشاکو سپورٹ کرتے رہے اپنے اس محسن کا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے نشانے بتایا کہ ان کے دوست نے تعلیم کے اخراجات اٹھائے اور ملائیشیا سے ایم بی اے کے لیے ملائیشیا تک جانے میں مدد دی تاہم وہاں آٹھ ماہ زیر تعلیم رہنے کے دوران تنہائی، زبان کے فرق کی وجہ سے تعلیم پر توجہ دے سکیں اور تعلیمی نتیجہ خاطر خواہ نہ ملنے پر واپس پاکستا ن کا رخ کرلیا۔قانون کی تعلیم میں ایس ایم لا کالج کے سابق پرنسپل مصطفی علی مہیسر نے مدد اور رہنمائی فراہم کی اور انہیں انٹرنیشنل لا کی ٹیوشن بھی دی،نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے رکن انیس ہارون ، حقوق نسواں کے لیے سرگرم سماجی کارکن نذہت شیریں نے بھی قدم قدم پر سرپرستی اور رہنمائی کی معروف فنکارہ سلمیٰ آغا نے ایل ایل بی کے پہلے سال کی فراہم کیں اور سلمی آغا کی صاحبزادی نے خود آکر کتابیں عطیہ کیں۔نشا پی ایس پی

کے چیئرمین مصطفی کمال، پیپلز پارٹی کے رہنماسعید غنی، سماجی کارکن جبران ناصر سے متاثر ہیں اور خود بھی سیاست میں آنے کی خواہش مند ہیں، نشا نے کہا کہ وہ آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیں گی کیونکہ فافن کے ایک پراجیکٹ کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کے منشوروں کا جائزہ لیا اور اس بات پر مایوسی ہوئی کہ کسی سیاسی جماعت نے ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے لیے ایک لائن بھی منشور کا حصہ نہیں بنائی۔اچھے لوگوں کی رہنمائی ملی تو نشا نے اپنی زندگی کو درست سمت دینے کا فیصلہ کیا اور ایس ایم لاکالج میں داخلہ لیا اس دوران مختلف این جی اوز کے ساتھ وابستہ رہیں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی فلاح کے لیے سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں، این جی اوز نے ملازمت فراہم کردی جس سے طرز زندگی بہتر ہوا اور اپنی کمیونٹی کے ساتھ اجتماعی رہائش ترک کرکے نجی فلیٹ

میںسکونت اختیار کرلی ، ہجرت کالونی کے بعد سٹی کالونی، برنس روڈ اور پھر صدر میں لائنز ایریا کے قریب رہائش اختیار کی۔نشا کا کہنا ہے کہ زندگی میں برے رویوں کو برداشت کرنے کا انعام اچھے لوگوں کی شکل میں ملا جنھوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی جس جگہ سکونت اختیار کی وہاں بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھائی جو پڑوسیوں کے اعتماد کا ثبوت ہے، گھر چھوڑنے کے دو سال بعد 2011میں واپس گھر کا رخ کیا لاہور پہنچنے پر والد نے گھر سے نکلنے پر پابند ی عائد کردی اور نئی زندگی ترک کرنے پر زور دیا لیکن نشاء کی ضد کے آگے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیے کہ کبھی خاندان کے نام پر حرف نہ آنے دینا۔نشاکے ایک بھائی نے پنجاب پولیس میں ملازمت اختیار کرلی اور ان دنوں اے ایس آئی کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں ایک اور چھوٹا بھائی زیر تعلیم ہے دونوںبڑی بہنوں کی شادیاں ہوچکی ہیں جو اسکول میں ٹیچر ہیں۔نشاکا کہنا ہے کہ ان کے گھر اور والدین نے ہمیشہ ان کی سپورٹ کی جب کبھی تعلیم کے لیے اخراجات یا ذاتی خرچ کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑی والد نے پیسے بھجوائے اسی طرح جب بھی لاہور جانا ہوا بہنیں ٹرین اسٹیشن تک اپنے بچوں کے ہمراہ الوداع کہنے آئیں اس سے زیادہ محبت اور اعتماد کا اظہار کیا ہوسکتا ہے۔