Web
Analytics
دُخترملت،عافیہ۔۔۔ تحریر:حبیب الرحمن ملک – Lahore TV Blogs
Home / کالم / دُخترملت،عافیہ۔۔۔ تحریر:حبیب الرحمن ملک

دُخترملت،عافیہ۔۔۔ تحریر:حبیب الرحمن ملک

ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2مارچ 1972کو کراچی میں متوسط طبقہ کے تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئیں۔عافیہ کا گھرانہ خاصہ مذہبی ہے،وہ سکول اور یونیورسٹی میں سکارف لیتی تھی والد صالح محمد صدیقی جو ڈاکٹر تھے جبکہ والدہ کا نام’’عصمت صدیقی‘‘ہے،کہا جاتا ہے کہ ان کا شجرہ نسب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جا ملتا ہے اسی نسبت سے یہ خاندان صدیقی کہلاتا ہے عافیہ نے کراچی میں ہی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی سن نوے میں امریکہ چلی گئیں جہاں ان کا بھائی محمد صدیقی پہلے ہی موجود تھا امریکی یونیورسٹی MITسے سن پچانوے میں بیالوجی کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصلکرنے کے بعد ریاست میسا چورس میں ’’علم الاعصاب‘‘پر تحقیق کرتے ہوئے پی۔ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اسی دوران عافیہ نے پاکستانی نژاد ڈاکٹر امجدخان سے شادی کی تین بچے احمد ،مریم اور سلیمان پیدا ہوئے۔عافیہ

صدیقی وہ پہلی مسلمان خاتون ہیںجنہوں نے نیورولوجی میں Ph.Dکی ڈگری حاصل کر رکھی ہے انہوں نے اپنے تعلیمی کیریئر کے دوران Through outپہلی پوزیشن اور A+گریڈ حاصل کیاگلستان شاہ لطیف سے لے کر امریکہ کی بہترین جامعات سے Ph.Dکی ڈگری حاصل کرنے تک تعلیمی ریکارڈ شاندار رہے عافیہ نے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بنا پرکم عمری میں ہی قرآن پاک کو حفظ کر لیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اعلیٰ سائنسی تعلیم کے ساتھ دین کا علم حاصل کرنے کی سعی بھی جاری رکھی امریکہ میں دوران تعلیم فقہ کا مطالعہ بھی کیااور مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے پروگراموں میں بھی حصہ لیا،تقابل ادیان پر بھی کام کیااسلام ،عیسائیت اور یہودیت کے موضوع پرریسرچ کی ، جنوبی ایشیاء کے سیاسی حالات پر تحقیق کی،اس حوالہ سے ان کے استاد پروفیسر نو چومسکی کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی اپنی ذات میں ادارے کی حیثیت رکھتی ہے وہ جہاں جائے سسٹم تبدیل کر دے گی۔ڈاکٹر عافیہ کو بچوں کے ساتھ خصوصی محبت ہے پی۔ایچ ڈی میں ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع بھی’’ابتدائی عمر میں بچوں کی ذہنی نشوونما‘‘اسی لئے تھا عمر رسیدہ اور ضعیف افراد سے محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ اولڈ وومن ہاؤس(Old Women House) میں اعزازی طور پر خدمات سرانجام دیتی رہیں۔۔۔عافیہ کہتی تھیں کہ امریکہ نے مجھے دنیا کی تعلیم دی ہے اور میں امریکی عوام کو دین کی تعلیم دوں گی جس کے لئے انہوں نے شوہر کے ساتھ مل کر دین کی تبلیغ کے لئے 1999میں بوسٹن میں ایک فلاحی ادارے ’’انسٹیٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ‘‘قائم کیا، قیدیوں کو اسلام کی دعوت دی اور ہزاروں کی تعداد میںقرآن تقسیم کئے امریکی ریسرچ سکالر اسٹیفن لینڈ مین اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ’’ڈاکٹرعافیہ صدیقی کا جرم صرف یہ

تھاکہ وہ غلط وقت میں غلط جگہ دین اسلام کی تبلیغ کر رہی تھیں‘‘۔ڈاکٹر عافیہ کا خیال تھا کہ اگر نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا جائے تو اس قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ 2002میں پاکستان واپس آئیں اور حکومت پاکستان سے ہمدرد یونیورسٹی کراچیکے قریب ایک تعلیمی شہر(Education City)آباد کرنے کے لئے درخواست دی جو منظور کر لی گئی تھی 3مارچ2003کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ کراچی ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوئی تو راستے سے ہی غائب ہوگئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بگرام جیل میں قیدی نمبر 650کی شناخت ڈاکٹر عافیہ ہی کی تھی،اغوا کے بارے اس وقت وزیرداخلہ فیصل صالح حیات سے بات کی گئی تو وہ اس واقعہ کی آگاہی سے انکاری نکلے،اس کے بعد معصوم، باحجاب رہنے والی اس دختر ملت پر جو مظالم ڈھائے گئے اس

سے شائد ہی کوئی ناواقف ہو۔17جولائی2008کوبگرام جیل سے عافیہ کو نکال کر ایک شازش کے تحت چھوڑ دیا گیااگلے ہی دن زیرِحراست لاکرامریکی فوجیوں نے گولیاں مار کر زخمی کر دیااورمردہ سمجھ کر چلے گئے،مگر عافیہ معجزانہ طور پر بچ نکلیں،17دن بعد3اگست2008کو امریکی فوجی عافیہ کو بگرام سے زخمی حالت میں گرفتار کرکے امریکہ لے گئے اور 4اگست کو ان کے خلاف امریکی فوجیوں پرحملے کا بے بنیاد کیس بنا دیاگیامگر اس وقت بھی حکومت پاکستان نے کسی قسم کا احتجاج کیانہ عالمی عدالت سے انصاف کے لئے رجوع کیا،اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی وزارت ِخارجہ سے کبھی بھی حکومتی سطح پر باقاعدہ عافیہ کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا،عافیہ کی وطن واپسی کے لئے پاکستانی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ امریکی صحافی اور اٹارنی ٹینا فورسٹر کے

اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جب کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ’’پاکستانی حکومت نے وکلاء کی خدمات اس لئے حاصل کی تھی کہ ڈاکٹرعافیہ کو رہائی دلوانے کی بجائے مجرم قرار دلوایا جائے‘‘6جولائی2009کو نیویارک کی عدالت میں عافیہ کو اس حالت میں پیش کیا گیاکہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں،پاؤں میں بیڑیاں تھیں،جسم اور چہرہ تشدد سے لہولہان تھاہتھکڑیوں سے جکڑے ہاتھ اوپر اٹھائے تو ان سے خون ٹپک رہا تھا۔3فروری2010کو امریکی جیوری نے بغیر ثبوت مجرم قرار دیتے ہوئے 86سال کی سزا سنا کرٹیکساس میںپابند سلاسل کرتے ہوئے دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ بالآخر عافیہ کے بیٹے احمدکو2008میں خالہ کے حوالے کردیا جبکہ بیٹی مریم کو1سال بعد پراسرر طور پر نانی کے گھر کے باہر چھوڑ دیا گیاجبکہ سلیمان ابھی تک غائب ہے،حال ہی میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط عافیہ کی جانب سے موصول ہواجس میں انہوں نے عمران خان سے رہائی میں مدد کی اپیل کی ہے،مگر اس کے جواب میں انصافی حکومت کی پیش رفت اور عملی قدم تو دور کی بات سنجیدہ کوشش بھی نظر نہیں آرہی۔۔اللہ!عافیہ کو عافیت دینا۔ظُلم تجھ پر بڑا ظالموں نے کیا ۔۔۔ استقامت کو تیری سلام عافیہ!