Web
Analytics
جنگوں سے مسائل کا حل اور امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / جنگوں سے مسائل کا حل اور امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

جنگوں سے مسائل کا حل اور امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

جنگ کسی کی بھی ہو ،پلہ کسی کا بھاری ہو ،اندر عجیب پریشانی رہتی ہے۔ جنگ کے دنوں انسانی جذبات اور احساسات عام دنوں سے مختلف ہوتے ہیں جس میں بے چینی ، خوف اور سب سے بڑھ کر غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے ۔میں نے اپنی زندگی کے 71سالوں میں کئی عالمی و مقامی تنازعات کے حوالہ سے بغاوتیں جنگیں اور محاذ آرائی کے شاخسانے دیکھے ہیں سب سے اہم واقع امریکی اتحادیوں کی عراق، شام اور لیبیا پر چڑھائی ہے وہاں پر مضبوط قیادتوں کو ہٹانوں کے باوجود ابھی تک امن قائم نہیں ہو سکا دوسری طرف جنوبی ایشیا ء میں بھارت اور پاکستان مسلسل ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور حالت جنگ میں ہیں ۔ بھارت کی حکمران سیاسی جماعت بھارتی جتنا پارتی کی قیادت ب الخصوص نریندر مودی کی سوچ نے خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں کے خطرات سے دو چار کر دیا ہے ہندوستان کی حکمران جماعت کی

قیادت یہ تصور نہیں کر سکتی اگر پاک بھارت جنگ ہوتی ہے تو یہ دونوں مکوں کے درمیان نہیں بلکہ عالمی جنگ کی شکل میں دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چودہ فروری کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کہ ضلع پلوامہ میں سنٹرل ریزور فورس کے ایک قافلے پر بظاہری طور پر جیش محمد کے خود کش حملے میں چالیس اہلکار ہلاک ہونے کے واقعہ پر حسب روایت بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانا شروع کر دیا تھا اس کے ساتھ مودی نے اس حملے پر بدلہ لینے کا اعلان کر دیا اور اس ضمن میں کسی کارروائی کی بھارتی افواج کو کھلی چھٹی دے دی ۔ اس کے ساتھ ہندوستان کی انتہا پسند تنظیموں نے کشمیری طلباء اور محنت کشوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ، جموں میں مسلمانوں کی املاک کو جلا دیا تھا ، یاد رہے بھارت میں سرکاری موقف سے اختلاف کرنے والوں کو بھارت کا غدار قرار دیا جاتا ہے دہشت گردی کے حوالہ سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں کوئی اس کو مودی حکومت کا کار نامہ قرار دے رہا ہے تا کہ اس سے اپریل میں لوگ سبھا کے انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتی جا سکیں ۔ہندوستان کی ممتاز دانشور ہارون رتی رائے نے کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی بھرپور مخالفت کی ہے اور کہا ہے اس حوالے سے دو بیانیے ہیں جس میں کہیں پر کشمیر کی آزادی میں حصہ لینے والے نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کے جنازوں میں لاکھوں کشمیری شرکت کر کے ان مجاہدین کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔کشمیر میں ہونے والے موجودہ واقعات کا تعلق تحریک آزادی کے ابھار سے ہے جو کہ 2010میں نئے مرحلے میں داخل ہوئی تھی جس میں کشمیریوں کی نئی نسل بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے اس

تحریک میں2016اور2017کے بعد دوبارہ تیزی آئی ہے جس میں ہزاروں طلباء اور طالبات نے حصہ لیا ہے جنہیں ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ، ہندوستان فوجی جہاں کارروائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں مقامی لوگ اکٹھے ہو کر ان پر پتھرائوں کرتے ہیں پلوامہ حملے کے حوالے سے ہندوستانی فوج کے ایک جنرل نے 16فروری کو امریکی اخبار وشنگٹن پوسٹ کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ اتنی مقدار میں بارود کسی دوسرے ملک سے سمگل کر کے نہیں لایا جا سکتا ہے ، اس کے بقول یہ سر ی نگری ہائی وئے کی کشادگی کیلئے استعمال ہونے والے بارود سے حاصل کیا گیا تھا ، ہندوستان کے زیادہ سنجیدہ طبقوں کے نزدیک تحریک آزادی کشمیر مکمل طور پر مقامی ہے جبکہ اس کو میڈیا اور ہندوستان کے قدامت پسند حلقوں کی طرف سے پاکستان کی پراکسی جنگ یا اسلامی دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی

ہے ، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو روزہ فضائی جھڑپوں اور ہندوستان کے دو طیاروں کے مار گرانے کے بعد ان دونوں ایٹمی طاقتوں کو ایک بار پھر جنگ کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا جس سے پاک بھارت کشیدگی یکسر مختلف نویت کی تھی ، جس کی ایک وجہ بالخصوص اس خطے میں طاقتوں کے توازن میں ہونے کے حوالہ سے تبدیلی ہے جس کے تناظر میں جنگ ہونے کے امکانات محدود ہیں ۔ عالمی برادری دونوں ایٹمی طاقتوں کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرنے دے گی جس سے علاقے میں تباہی و بربادی پھیل جائے ، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کو امن کیلئے ڈائیلاگ کی پیش کش کی ہے جس کا مودی حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا پاکستان نے غیر سگالی کے طور پر ہندوستان کے گرفتار پائلٹ کو پہلے ہی رہا کر دیا ہے ۔موجودہ جنگی تناظر میں حکومت

اور اپوزیشن کی خاطر ملکی دفاع کی خاطر شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، یا د رہے کہ امن ان جنگوں کا متبادل نہیں ہو سکتا ہے ۔ دنیا میں جنگوں اور اسلحے کا کاروبار کرنے والے وقتاً فوقتاً جنگی ماحول بناتے رہتے ہیں، جبکہ امن پسند طبقات جنگ کو روکنے کیلئے اخلاقی دبائو ڈالتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی جذباتی عناصر ہوتے ہیں جو جذبات کی رو میں بہہ کر کہتے ہیں کہ ایٹم بم ہم نے ڈرانگ روم میں سجانے کیلئے نہیں بنایا ہے ، ماضی میں ایک سنیئر صحافی نے کہا تھا کہ اسے ایٹم بم پر باندھ کر ہندوستان کی طرف پھینک دیا جائے تو شائد اس سے کشمیر آزاد ہو جائے گا اور اس کی روح خوش ہوگی ۔ماضی قریب میں عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی لشکر کشی کے خلاف پوری دنیا میں لوگوں کے مظاہرے کیے تھے پاکستان میں بھی کچھ سیاسی جماعتیں اور امن پسند تنظیمیں جنگ کو زہر قاتل قرار دیتی ہیں اور اس ضمن

میں مطالبہ کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کو بحث و مباحثے کے ذریعے علاقائی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے اس ضمن میں چین، روس اور قطر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے مگر ان کی اس پیش کش کو بھارت نے ٹھکرا دیا ہے ۔ سعودی عرب نے آو آئی سی کی حالیہ کانفرنس میں ہندوستان کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف قرار داد منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے حالانکہ اس اجلاس میں ہندوستانی وزیر خارجہ شسما سوراج کو مہمان خصوصی بلایا گیا تھا جبکہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس میں شرکت نہیں کی پاکستان کے حکمرانوں اور مسلح افواج نے کوئی جذباتی بیان دے کر امن کے معاملات میں مزید بھگاڑ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے جبکہ ہندوستان میں موجودہ تنازعہ اور جنگی کیفیات کو داخلی سیاست کے خارجی اوزار کے طور پر استعمال کرنے

کی کوشش کی ہے داخلی سیاسی سے مراد ملک کے اندر رائے نظام کی ضروریات اور تقاضے ہوتے ہیں اس کی بنیادیوں کو دیکھا جائے تو عوام کی بڑھتی ہوئی محرومیاں اور غربت سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگوں کے ڈرامے رچائے جاتے ہیں یوں بھی دیکھا جائے تو دنیا کی سب سے زیادہ غریب آبادی ہندوستان میں رہتی ہے لاکھوں افراد کئی دہائیوں سے کھلے آسمان تلے فٹ پاتھ پر زندگی گزار رہے ہیں ہندوستان کی جمہوریت عوام کو بنیادی حقوق تعلیم، صحت دینے میں ناکام رہی ہے جبکہ سیکو لرازم کے لبادے میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، موجودہ تناظر میں پاکستان نے اپنا وقف بہتر طریقے سے عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے اور اس نے اپنا امن پسند امیج پاکستان میں ابھرانے کی کوشش کی ہے اور اس کے موقف کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔موجودہ صورتحال میں کسی جماعت تنہا امن کیلئے

کوششیں با ر اوور ہو سکتی ہیں جس کیلئے ضروری ہے تمام اسٹیک ہولڈرز دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی جائے تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ ماہ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران اپوزیشن کو دعوت نہ دے کر ایک اچھا قدم نہیں اٹھایا تھا مگر اب قومی اتحاد اور سلامتی کے لئے ضروری ہے ہندوستان کیخلاف اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے مشترکہ ایجنڈا بنایا جائے یہ بات یاد رکھنی چاہیے جنگیں امن کا متبادل نہیں ہیں نہ ہی اس سے خوشحالی کی طرف پیش رفت رکھنے میں مدد مل سکتی ہے ، ہندوستانی وزیر اعظم کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے کیونکہ اس کی عالمی سطح پر جنگ ہنسائی ہوئی ہے لہذا ابھی مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ عیار دشمن کسی وقت بھی وار کر سکتا ہے اور یہ بات یاد رکھنا چاہیے حقیقی معنوں میں

مفادات کا کوئی مذہب ، کوئی قوم، کوئی رنگ ور نسل نہیں ہوتی ۔ وہ انسانوں کے درمیان تفریق، انسان دوستی پر مبنی انسان دشمن اقدار کے درمیان کرتے ہیں، دوسری جنگوں کی بنیادی وجوہات معاشی اور سیاسی مفادات کے علاوہ نظریاتی جیسا کہ قومی ، مذہبی انسانی شاہ نزم وغیرہ ہوتے ہیں جنگی جنون میں مبتلا نا م نہاد سیکو لر ممالک کے دہشت گردانہ اقدامات کی نفی کریں لبرل ازم اور ترقی پسندی خطرے میں پڑتے ہیں تو پڑنے دیں پس انسانیت کو خطرے سے دو چار نہ ہونے دیں ۔پاکستان اور اسلامی دنیا نظریاتی اعتبار سے دینی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں اور اس تناظر میں او آئی سی کے ممبران نے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم پر احتجاج کیا ہے اور بھارت سے اس کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔