Web
Analytics
کرائسٹ چرچ سانحہ:مسئلہ ایک شخص کی سوچ کا نہیں۔۔۔ تحریر : انجینئر اصغر حیات – Lahore TV Blogs
Home / کالم / کرائسٹ چرچ سانحہ:مسئلہ ایک شخص کی سوچ کا نہیں۔۔۔ تحریر : انجینئر اصغر حیات

کرائسٹ چرچ سانحہ:مسئلہ ایک شخص کی سوچ کا نہیں۔۔۔ تحریر : انجینئر اصغر حیات

ایسا لگ رہا ہے کوئی ویڈیو گیم چل رہی ہے، کمپیوٹر کی مدد سے کوئی بچہ ایک ایک کر کے کرداروں کو نشانہ بناتا ہے اور آگے بڑھتا جاتا ہے، مزید کرداروں کو نشانہ بناتا ہے، نیوزی لینڈ کی کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملہ کرنے والے سفید فام دہشتگرد نے سفاکیت میں اس سے پہلے گزرنے والے سانحوں کو پیچھے چھوڑ دیا، سفید فام بالا دستی کا میوزک لگائے گاڑی چلاتے آگے بڑھا اور مسجد کے قریب آکر گاڑی سے اسلحہ نکالا اور پھر راستے میں موجود لوگوں کو نشانہ بناتا ہوا مسجد میں گھس گیا، اسلحہ کے زور پر نہ صرف نہتے نمازیوں کو نشانہ بناتا رہا بلکہ ہیلمٹ پر کیمرہ لگا کر ویڈیو بھی بناتا رہا اور سوشل میڈیا پر لائیو دکھاتا رہا، فائرنگ کرتے ہوئے ایک لمحے کیلئے نعیم راشد نے بہادری سے آگے بڑھتے ہوئے اسے دبوچنے کی کوشش کی لیکن سفاک قاتل اپنا دامن بچانے میں کامیاب ہوا اور نعیم راشد کے جسم میں

چھ گولیاں اتار کر اسے ٹھنڈا کردیا، نمازیوں کو چن چن کر نشانہ بنا کر جب وہ باہر نکلا تو پیچھے سے زخمیوں کے رونے کی آوازیں آئیں، مسلح دہشتگرد واپس اندر گیا اور ایک ایک کودوبارہ تسلی کیساتھ نشانہ بنایا، فائرنگ کرتا ہوا اسلحہ لہراتا ہوا نکلا اور دوسری مسجد کی طرف بڑھا، وہاں بھی نہتے نمازیوں کو نشانہ بنایا، فیس بک نے اگرچہ بعد میں وہ ویڈیو ہٹا دی لیکن دنیا بھر کے ہزاروں لوگوں نے یہ کربناک مناظر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر دیکھے، جس جس نے اس بربریت کو دیکھا ہل کر رہ گیا دہشتگرد دس سال قبل پاکستان بھی آیا، یورپ، ترکی اور دیگر ممالک کا بھی دورہ کرچکا لیکن اس نے یہ حملے نیوزی لینڈ میں کیے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے ان حملوں کیلئے نیوزی لینڈ کا ہی انتخاب کیوں کیا، نیوزی لینڈ ان چند ممالک میں سے ہے جہاں پر جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، میرا ایک دوست زبیر مغل گزشتہ دو سال سے پی ایچ ڈی کے سلسلے میں نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں ہے، سانحے کے دوسرے دن اس سے بات ہوئی، کہنے لگا نیوزی لینڈ ایک بہت ہی پر امن ملک ہے، یہاں پر جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، لوگ گاڑیاں کھلی چھوڑ کر جاتے ہیں، سامان باہر رکھ جاتے ہیں، کوئی چوری نہیں کرتا، کوئی اٹھاتا نہیں، یہاں کی ٹی وی پر بڑی سے بڑی خبر یہ ہوتی ہے کہ حادثے میں دو یا تین افراد جاں بحق ہوگئے، اس سے بڑی خبر نہیں ہوتی، جزیرہ نما نیوزی لینڈ کی کل آبادی 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے، یہاں کے لوگ بہت ہی مہمان نواز اور بہت ہی ہمدرد ہیں، زبیر مغل کہتا ہے دو تین دن پہلے راستے میں ایک شخص نے پردہ مرا دیکھا تو وہی بیٹھ کر رونا شروع ہوگیا، میں نے سیکورٹی صورتحال کا پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ سال کرائسٹ چرچ گیا تھا، اس مسجد میں نماز بھی ادا کی، سمندری حدود کی نگرانی سخت ہے، کوئی

شخص کوئی بھی غیرقانونی چیز لے کر نیوزی لینڈ میں داخل نہیں ہو سکتا، ہال البتہ مساجد اور عبادت گاہوں کے باہر سیکورٹی نہیں، بلکہ کسی بھی جگہ سیکورٹی نہیں کیونکہ اس کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی، کبھی ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں، کبھی کسی کے وہم و گمان میں ہی نہیں تھا، پولیس بھی دہشتگردوں سے لڑنے کیلئے اس طرح ٹرین نہیں ہے کیونکہ اس طرح پہلے کبھی نہیں ہوا، مسلمانوں کی آبادی نیوزی لینڈ میں ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن انہیں کبھی حقوق سے محروم کیا گیا نہ ہی کسی تعصب کا نشانہ بنایا گیا، جو بھی نیوزی لینڈ آتا ہے کیوی اسے ویلکم کرتے ہیں، زبیر مغل کا کہنا تھا کہ سانحے کے بعد مسلم کیمونٹی کے لوگ تو صدمے سے دوچار ہیں ہی کیونکہ ہمارے اپنےہم سے جدا ہوگئے ہیں لیکن نیوزی لینڈ کے لوگ ہم سے زیادہ سکتے میں ہیں، ہم سے زیادہ صدمے میں ہیں، انہوں نے زندگی میں ایسا واقعہ نہیں

دیکھا، شاید یہ لوگ صدیوں دہشتگردی کے اس واقعے کو یاد رکھیں، زبیر مغل کہنے لگا اگرچہ یہ واقعہ کرائسٹ چرچ میں ہوا ہے لیکن ہیملٹن کے آدھےسے زائد لوگ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے نکلے ہوئے ہیں، زبیر سے یہی تک بات ہوئی اس کی وال پر گیا تو ویڈیو میں ہزاروں لوگ موم بتی لیے گھروں سے باہر نظر آرہے تھے، سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جس طرح سیاہ لباس میں مسلم کیمونٹی کے پاس گئیں انہیں تحفظ کا یقین دلایا اور ہاتھ جوڑؑ کر معافی مانگتی نظر آئیں، خواتین سے بغلگیر ہوکر تسلیاں دیتی رہیں، یہ تمام ممالک کے سربراہان کیلئے ایک مثال ہے، سانحے میں سیکورٹی فیلئرہوسکتا ہے لیکن نہ ہی نیوزی لینڈ کا شہری ملوث ہے اور نہ ہی پولیس جہاں تک سفید فام دہشت گرد کی بات ہے تو گرفتاری کے بعد بھی اس کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نہ ہونا اور عدالت پیشی کے دوران اس کی طرف

سےسفید فام بالادستی کا نشان بنانا اس بات کی علامت ہے کہ اسے اپنے کیے پر ذرا بھی ندامت نہیں ہے، یہ واقعہ یہ بات بھی ثابت کرتا ہے کہ دہشتگرد اور انتہا پسند مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں اور دیگر مذاہب میں بھی موجود ہیں، جو کل تک مسلمانوں پر دہشتگردی کا الزام عائد کرتے تھے آج ان کی صفوں میں موجود شخص نے دہشتگردی کی ایسی واردات کی جس سے پوری دنیا ہل کر رہ گئی، اس واقعے سے مغربی میڈیا کا مسلمانوں کیخلاف تعصب بھی کھل کر سامنے آگیا ، یہ بات ثابت ہوئی کہ ہمارا میڈیا تو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی جرات رکھتا ہے لیکن مغربی میڈیا نہیں، مغربی میڈیا اپنے سفید فام انتہا پسند اور دہشتگرد کو دہشتگرد کہنے کیلئے تیار نہیں ، اس تعصب سے کیا مسلمانوں کا غصہ کم ہو گا؟ ہر گز نہیں بلکہ یہ غصہ مزید بڑھے گا، مغرب کے دانشوروں کو یہ بات کھل کر

کرنی چاہیے کہ پوری دنیا کو اس چیلنج کا سامنا ہے، پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی پالیسیاں انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں، مغرب نے کبھی ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے بارے میں نہیں سوچا، یہ نیوزی لینڈ کی مسجد میں حملے کرنے والے ایک شخص کی سوچ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ مغربی ممالک، امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین کی سوچ کا مسئلہ ہے، یہ ممالک جب چاہیں اس سفید فام انتہا پسند کی طرح کسی بھی مسلمان ملک پر چڑھ دوڑتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو شہید کردیتے ہیں، فلسطین میں کیا ہورہا ہے، امریکہ اور برطانیہ نے افعانستان اور عراق میں کیا کیا، یہ دنیا پر بالادستی کی سوچ کا شاخسانہ ہے کہ دنیا کا امن داو پر لگا ہوا ہے۔