Web
Analytics
مینار پاکستان کی بالکونی سے۔۔۔ تحریر: افتخاربھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / مینار پاکستان کی بالکونی سے۔۔۔ تحریر: افتخاربھٹہ

مینار پاکستان کی بالکونی سے۔۔۔ تحریر: افتخاربھٹہ

آج 23مارچ ہے ۔ ہماری تحریک آزادی کا اہم موڑ اور سنگ میل، ہماری تاریخ کااہم لمحہ اور اس میں سنہری باب کا اضافہ، یہ دن ہماری زندگی کا ایک مینارہ نور ہے۔ جس کی روشنی میں برصغیر کے دس کروڑمسلمانوں نے اپنی منزل پہچان لی۔1940ء کا یہ دن مسلمانوں نے عید کے طور پر منایا اور اپنے الگ وطن کیلئے ایک عزم نو اور سعی تازہ سے سفر کا آغاز کیا۔ یہی وہ دن ہے جب ان دس کروڑ فرزندان توحید نے ایک قوم کی حیثیت سے اپنے تشخص کی پہچان کی تھی۔ چنانچہ دنیا جانتی ہے کہ جو قوم خود کو پہچان لے اس کے لئے پہاڑ رائی اور صحرا ذرے ہو جاتے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں اہم واقعہ 1857ء کی جنگ آزادی ہے۔ جس نے مسلمانوں اور ہندوؤں کی جنگ آزادی کے لئے فکری شعور کی راہیں فراہم کیں۔ جنگ آزادی کو کچلنے کیلئے انگریزوں نے مقامی آبادی پر ظلم و ستم کیا۔ اور مسلمان بالخصوص

اس ضمن میں زیادہ نشانہ بنے۔انگریز راج کے ریاستی تشدد سے لوگوں میں مزاحمتی جذبوں نے جنم لیا۔ یہ آزادی کا وہ سنگ میل ہے جہاں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر غالب خستہ حال اور سرسیداحمد خاں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے یہ مظلومیت کادور تھاکیونکہ انگریز حکمران اپنے خلاف بغاوت کاذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہراتے تھے۔اس وقت مسلمانوں کے واحد رہنما سرسیّد احمد خاں تھے۔ وہ مسلمانوں کی خستہ حالی اور پسماندگی پر رنجیدہ فکر رہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی پسماندگی ان کی جہالت اورجدید تعلیم سے دوری کی وجہ سے تھی ۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے جدید تعلیم اور انگریزی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت کے مذہبی رہنما جدید تعلیم کے مخالف اور انگریزوں کے خلاف جہاد کے قائل تھے۔ سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو جدید علوم سے روشناس کرانے کیلئے علی گڑھ کی بنیاد رکھی اور یہ ادارہ ترقی کرتاہوا یونیورسٹی بن گیااس ادارہ کے فارغ التحصیل طلبا نے تحریک پاکستان میں ہراول دستے کاکردار اداکیا اور مسلم لیگ کاپیغام لے کر ملک کے کونے کونے میں پہچادیا۔ 1937ء کے انتخابات میں کانگریس کی کامیابی نے مسلمانوں کومزید علیحدہ وطن کیضرورت کااحساس دلایا۔ 23مارچ1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں قرارداد لاہور پاس ہوئی جس میں واضح طور پر مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے حصول کاآغاز کیا۔ یہ دن مسلمانوں کی تاریخ کادرخشاں دن ہے۔ اس قرار داد کے پیچھے ہندوستان کے دس کروڑمسلمانوں کے دل دھڑک رہے تھے،اس میں شریک تمام لوگوں کاتشخص ااور ثقافت تھی ۔ وہ اپنی تہذیب اور شناخت کاتحفظ چاہتے تھے۔بالآخر وہ دن آ ہی

گیاجب مسلمانوں کے خواب کی تعبیر عملی شکل میں سامنے ۔14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ اگر آج کی صور ت حال کو دیکھا جائے تو ہر طرف انتشار ہی انتشار ہے مینار پاکستان کی بالکونی سے جھانکیں تو قومی یکجہتی کافقدان نظر آتاہے۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث قومی یکجہتی اب بھی خواب ہے۔ معاشرے سے رواداری اور قوت برداشت روٹھ چکی ہے۔ نظریہ ضرورت کی پیداوار سیاسی جماعتیں اور لسانی جماعتوں اور غیر فطری اتحادوں نے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی انتشار میں اضافہ کیاہے۔ عمتران خاں کی حکومت ماضی کی طرح ملکی اور غیر ملکی اداروں سے قرضے لے کر ریاستی و مالیاتی مسائل کے حل میں مصروف ہے۔چونکہ ماضی کی حکومتوں نے ملک معاشی بحران کاشکار کردیاہواہے مگر اس معاشی بدحالی کی وجہ محض کرپشن نہیں بلکہ حکمران طبقہ کی مفادپرستانہ

پالیسیز ہیں جنہوںنے اپنی تجوریاں بھری ہیں اور آج ریاست غریب ہے اور حکمران طبقہ امیر ہے۔ غریب کااستحصال ہوتارہاہے۔ اکہتر سال میں ملک میں خوشحالی کی بجائے غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہواہے۔تعلیم اور صحت کی نجکاری سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ سرمایہ کار کیلئے حالات بہت سازگار بنادیئے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت اپنے دوسو دن مکمل ہونے کے باوجود سماجی و معاشی ترقی کاکویئی روڈ میپ نہیںدے سکی ہے۔وزراکی بیان بازی سے لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ابھی بھی سدھار اور بہتری کے آثار موجود ہیں۔ اور حالات کو صحیح سمت پہ لایاجاسکتاہے۔پاک فوج ملک میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ہے جس کی وجہ سے دشمن کا خوف جاتارہاہے۔